ہمارا ایمان اور سوشيل ميڈیا کی زبان

ایمان نہایت نازک اور قیمتی دولت ہے۔ایمان محض چند عقائد کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ، حسّاس اور ہمہ وقت نگہداشت چاہنے والی روحانی کیفیت ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ ﷺ کے مطابق ایمان دل و دماغ سے ماننے اور زبان سے عملی طور پر اقرار کرنے کا نام ہے۔ اسلام میں دل اور زبان کی خاصی اہمیت ہے، کیونکہ زبان دل کی ترجمان ہوتی ہے، اور دل ایمان کا مرکز۔ ایک لمحے کی لغزش، ایک بے سوچا جملہ، یا محض ہنسی مذاق میں کہی گئی بات انسان کو ایسے انجام تک پہنچا سکتی ہے جس کا اسے وہم و گمان بھی نہ ہو۔بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ خبر دار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست ہوتو سارا جسم درست ہوتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ سن لو! وہ ٹکڑا دل ہے۔ یونہی زبان کی حفاظت بھی نہایت ضرور ی ہے۔اللہ عزوجل فرماتا ہے: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی ودرست بات کہا کرو(أحزاب/٧٠)۔ ایمان اور زبان کا تعلق گہرا ہے۔آپ ﷺ فرماتے ہیں کسی شخص کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس کا دل درست نہیں ہوتااوراُس  کا دل اُس وقت تک درست نہیں ہوسکتاجب تك اُس کی زبان درست نہیں ہوجاتی(مسند احمد)۔

معلوم ہوا کے دل و زبان پر قابو رکھنا ایک مومن کے لیے بہت ضروری ہے۔لہذازبان سے کسی کے بارے میں کچھ بھی بولنے سے قبل ہمیں سو بار سوچ  لینا چاہیے۔ جو بولنے  جارہے ہیں اس کی تحقیق کرنی  چاہیے  اور اگر کچھ بولنے کی ضرورت ہو تبھی بولنا چاہیے ورنہ ہرگز نہیں۔رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جوشخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے(متفق علیہ)۔

زبان سے نکلنے والے ہر حرف ہر لفظ اور ہر جملے کے بارے میں قرآن نے نہایت سخت اور لرزادینے والے انداز میں متنبہ کیا ہے۔قرآنِ کریم نے سورہ توبہ میں اُن لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ تعالی، اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں مذاق کر رہے تھے، جب ان کی گرفت ہوئی تو یہ کہہ کر جان چھڑانا چاہی کہ”ہم تو یونہی ہنسی مذاق کر رہے تھے“۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس عذر کو قبول نہیں فرمایا اور واضح اعلان کر دیا ”کہ تم بہانے نہ بناؤبے شک تم مسلمان ہو کر کافر ہوچکے“(توبہ/٦٦)۔ اللہ اللہ۔۔۔ذرا دیکھیے کہ جانے انجانے اور ہنسی مذاق میں اللہ عزوجل اس کے رسول اور اس کی آیات، شعار اسلام، علمائے اسلام و بزرگان دین کا تمسخر کرنا ایک مسلمان کو کس طرح کفر تک پہنچا دیتا ہے اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی۔ یہ آیات ہمیں سبق دیتی ہیں کہ دین کے معاملے میں”مذاق“اور”غیر سنجیدگی“ کوئی محفوظ دائرہ نہیں، یہاں زبان کی ہر جنبش کا وزن ہے اور ہر لفظ کا حساب۔

احادیثِ نبویہ ﷺ اس قرآنی حقیقت کو مزید کھول کر بیان کرتی ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ”بند ہ کوئی ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے کہ اس کو واضح طور پر پتہ نہیں ہوتا کہ اس میں کیا ہے، اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اس سے زیاد ہ دور جا گرتا ہے جتنی دوری مشرق اور مغرب کے درمیان ہے“ (مسلم)۔ اس حدیث میں سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ گناہ کی شدت بولنے والے کے انداز یا نیتِ ظاہری سے نہیں، بلکہ اس کلام کی حقیقت اور اس کے اثر سے متعین ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے زبان کو قابو میں رکھنے کو نجات کی کنجی قرار دیا اور واضح فرمایا کہ اکثر لوگ اپنی زبان ہی کی کاشت کے سبب ہلاکت میں پڑتے ہیں۔

عصرِ حاضر میں اس تنبیہ کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔انٹرنیٹ، سوشيل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور آن لائن چاٹنگ اور پوسٹنگ نے زبان کے اثرات کو لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں تک پہنچا دیا ہے۔ آج کا نوجوان بسا اوقات ’گروپ چاٹس‘’میمس‘،’ریلز‘یا’وائرل کلپس‘ کے نام پر ایسی باتیں لکھ، پوسٹ یا شیئر کر دیتا ہے جن میں دین، دینی شعائر، علما، صوفیا یا سادات کا تمسخر، طنز یا غیر محتاط تبصرہ شامل ہوتا ہے۔ اکثر نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ مقصد ہنسانا یا طنز کرنا ہے، اس لیے بات بے ضرر ہے؛ حالانکہ یہی وہ غلط فہمی ہے جسے قرآن نے”تم مسلمان ہو کر کافر ہوچکے “کہہ کر ردّ کر دیا۔اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”اے ایمان والو!ایک گروہ دوسرے گروہ پر نہ ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہو، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں“ (حجرات/۱۱)۔  آپ ﷺ نے جھوٹ بول کر ہنسی مذاق کرنے کی ممانعت بھی فرمائی کہ ”ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے، ہلاکت ہے، ہلاکت ہے“ (ترمذى)۔ان تعلیمات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان مذاق میں بھی ایک دوسرے کے خلاف جھوٹ نہ بولے، برے نام سے نہ پکارے اورسچائی و احترام کا دامن نہ چھوڑے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بعض نوجوانوں میں علمائے اسلام، مشائخِ طریقت اور ساداتِ کرام کے بارے میں زبان کی بے باکی بڑھتی جا رہی ہے۔ اختلافِ رائے کو اختلافِ احترام میں بدلنے کے بجائے، سوشيل میڈیا پر طنزیہ جملے، تحقیر آمیز القابات اور تمسخرانہ تبصرے عام ہوتے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اسلامی تہذیب میں اختلاف ہمیشہ ادب کے ساتھ رہا ہے۔ بزرگوں نے بارہا یہ سمجھایا کہ عالم یا بزرگ معصوم نہیں، مگر اس کی خطا پر گفتگو بھی علم، دیانت اور شائستگی کے دائرے میں ہونی چاہیے، نہ کہ تمسخر اور تضحیک کے انداز میں۔ایسے لوگ خود تو کنویں کے مینڈک جیسی اوقات رکھتے ہیں اورخود سے لاکھوں گنا اونچے رتبے والے شخص کے بارے میں زبان درازی اور بہتان تراشی سے باز نہیں آتے اور بے حیائی کرتے پھر تے ہیں۔

اسلامی روایت میں علما، صوفیا اور اہلِ نسبت کو محض افراد نہیں سمجھا گیا بلکہ انہیں وارثین انبیاء، دین کے چراغ، علم کے امین اور امت کی فکری و روحانی رہنمائی کا ذریعہ مانا گیا ہے۔ ان کی توہین دراصل وراثتِ نبوی، علم، دین اور اس روایت کی توہین ہے جس نے صدیوں تک معاشرے کو اخلاقی بنیادیں فراہم کیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ دل اور اہلِ علم نے ہمیشہ زبان کی بے احتیاطی کو ایمان کے لیے زہرِ قاتل قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک ادبِ دین محض اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ عقیدے کا تقاضا ہے۔

اس چیز کوامام غزالی علیہ الرحمہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب احیاء علو م الدین کے باب آفات اللسان میں نہایت گہرائی سے واضح کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ زبان کی آفتیں جیسے فضول گوئی، جھوٹ،غیبت، بہتان، تمسخر، طنز، خود ستائی، دوسروں کی تحقیر اور دینی امور میں بے احتیاط گفتگو۔۔۔ایسے روحانی زہر ہیں جو انسان کے دل کو تاریک اور ایمان کو کمزور کردیتے ہیں، جبکہ بولنے والا اکثریہ سمجھتا ہے کہ وہ معمولی بات کررہاہے۔یاد رہے کہ ہر لفظ کو اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔زبان سے ہم جو بھی کہیں ہمیں اس کا بھی حساب دینا ہوگا۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”انسان کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالتا مگر یہ کہ ایک نگران فرشتہ اس کے پاس موجود ہوتا ہے جو اسے لکھ لیتا ہے“ (ق/۱۸)۔

نوجوانوں کے لیے یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ آزادیِ اظہار کا مطلب بے لگام زبان نہیں۔ اسلام سوال کرنے، اختلاف رکھنے اور تحقیق کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے؛ مگر شرط یہ ہے کہ سوال اور اختلاف کا انداز مہذب، دیانت دار اور باادب ہو۔ جس معاشرے میں طنز دلیل کی جگہ لے لے اور مذاق احترام کو نگل جائے، وہاں فکری پختگی کے بجائے انتشار پیدا ہوتا ہے، اور دینی اعتبار سے یہ رویہ ایمان کو کمزور کر دیتا ہے۔رسولِ اکرم ﷺ نے بھی زبان کی حفاظت کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے پوچھا: ”نجات کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ” اپنے زبان کو قابو میں رکھو... “۔ اس مختصر مگر جامع ہدایت میں فرمایا گیا کہ نجات کی کنجی زبان پر کنٹرول ہے۔ایک دوسر ے مقام پر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! اپنی زبان پر قابو رکھو۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے تعجب سے پوچھا کہ کیا ہماری بولی کا حساب لیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں تم پر روئے! کیا لوگ اپنی زبانوں کی کاٹ (بڑبڑہی)کی وجہ سے اپنے منہوں کے بل جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے“ (ترمذی)۔ اس بیان سے واضح ہے کہ ہماری زبان سے نکلنے والے اچھے اور برے الفاظ کا حساب اللہ کے نزدیک بہت اہم ہے اور بے سوچے سمجھے کلمہ کہہ ڈالنا جہنم کی وجہ بن سکتا ہے۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے علم و علما کے احترام کو امت کے اخلاقی استحکام کی علامت قرار دیااور عوام کو تاکید کی کہ اختلاف ہو تو بھی شائستگی اور ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیشہ علماء اور اولیاءِ دین کی عظمت و محبت پر زور دیا اور تبعیض، بے ادبی اور تحقیر سے روکا۔ آپ علیہ الرحمہ کے نزدیک اہلِ معرفت و جنابِ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی سے بچنا اور تعظیم ِ دین مسلمانوں کی صف بندی اور وحدت کے لیے لازم ہے۔ یہی ِ ایمان کی روح ہے اور اس کے برعکس خلافِ دین ہے۔

آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ سوشیل میڈیا کے اس دور میں جب الفاظ ایک کِلِک پر پھیل جاتے ہیں، بہت ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اللہ اور رسول ﷺ بلکہ اپنے معزز علمائے کرام، حفاظِ قرآن، ساداتِ کرام اور صوفیائے عظام کے بارے میں بھی ہر بات کرنے سے پہلے احتیاط کریں۔ مزاح، ہنسی، یا محفل کی چاشنی سمجھ کر کسی بزرگ، صاحبِ علم یا مکتبِ فکر پر طنز یا تضحیک کرنا نہایت خطرناک ہے۔ یہ نہ صرف ان افراد کی ذاتی شان کے خلاف ہے بلکہ عرفِ دینی اور ادبِ شرعی کے اعتبار سے بھی گہرے نقصان ہے۔ اکثر لوگ جان بوجھ کر نہیں بلکہ شوخی یا مزاح میں ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں، مگر قرآن و حدیث اور مؤمنین کے تجربے نے ہمیں بارہا بتایا ہے کہ زبان کی ایک لغزش ایمان کو مجروح کر سکتی ہے۔ اس لیے تحقیق، ادراک اور نیت کی پاکیزگی کے بغیر کسی کے بارے میں تبصرہ، افواہ یا طنزیہ پوسٹ شیئر کرنا منع ہے۔ پہلے تحقیق کرو، پھر بولو؛ اور اگر کسی بات کا علم نہ ہو تو خاموشی افضل ہے۔ یہ احتیاط نہ صرف مذہبی شائستگی ہے بلکہ ہماری آخرت کا بھی سوال ہے۔

عملی سطح پر ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہر وہ بات جو ہم بولیں، لکھیں یا شیئر کریں، وہ اللہ کی رضا کے معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔ اگر کسی پوسٹ، ویڈیو یا لطیفے پر ذرا سا بھی شک ہو کہ اس میں دین، کسی دینی شخصیت یا کسی مسلمان کی تحقیر ہے تو خاموش ہوجانا اور رک جانا ہی تقویٰ ہے۔ خاموشی کو کمزوری نہیں بلکہ حکمت سمجھنا چاہیے، کیونکہ نبی ﷺ نے خاموشی کو کئی مواقع پر نجات کا راستہ قرار دیا ہے۔

آج کے سوشیل میڈیا کے دور میں بے لاگ مذاق سے بچنا نہایت ضروری ہوگیا ہے۔ یہ حقیقت دل میں بٹھانا ضروری ہے کہ ایمان کوئی جامد شے نہیں، یہ بڑھتا بھی ہے اور گھٹتا بھی ہے۔ زبان اس کے بڑھنے یا گھٹنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر زبان ذکر، خیر اور ادب کی عادی ہو تو ایمان مضبوط ہوتا ہے، اور اگر زبان تمسخر، طنز اور بے احتیاطی کی عادی ہو جائے تو ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ عصرِ حاضر کے نوجوان اگر واقعی اسلام سے محبت اور امت کی خیر خواہی چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنی زبان، اپنے قلم اور اپنے کِلِک کی حفاظت کرنا ہوگی کیونکہ ایمان کی حفاظت ہی دراصل ہمارے مستقبل  کی حفاظت اور آخرت كى تيارى ہے۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter