شب براءت کیسے گزاریں

             ماہ شعبان المعظم نہایت ہی بابرکت اور فضیلت و بزرگی کا حامل ہے، اس مبارک مہینہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے اس کے بندوں کے لیے خاص انعامات رکھے گئے ہیں، اسی مہینہ کی پندرہویں شب رب العالمین کی جانب سے جود و عطا اور جہنم سے آزادی کی رات ہے، اسی سبب سے اس شب کو ”شب براءت“ یعنی خلاصی، چھٹکارا اور نجات والی رات کہتے ہیں، اور یہ شب اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے مومنین کے لیے انعام ہے، اہل سنت و الجماعت خصوصاً اس شب میں پورے اہتمام کے ساتھ شب بیداری کر کے اپنے رب کے حضور عبادت و بندگی کرتے ہیں اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کر کے رب کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں، فرائض و واجبات اور سنن کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتے ہیں اور دن میں روزہ رکھتے ہیں، کثرت سے صدقات و خیرات کرتے ہیں اور ذکر و اذکار کے ساتھ درود و سلام کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں، قبرستان جا کر اپنے عزیز و اقارب کی قبروں پر فاتحہ پڑھ کر اُن کی بخشش و مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اپنے اور عالم اسلام کے جملہ مسلمانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت، صحت و عافیت کی دعائیں کی جاتی ہیں، غرض کہ ہر شخص اُخروی کامیابی و کامرانی کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنے روٹھے ہوئے رب کو منانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔

فضائل ماہ شعبان المعظم:

               شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللّٰہ علیہ اس مہینہ کے فضائل و برکات کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’لفظ شعبان پانچ حرفوں (ش، ع، ب، ا، ن) کا مجموعہ ہے، یہاں ”شیں“ شرف سے اور ”عین“ علو و عظمت اور ”با“ بر (نیکی) سے اور ”الف“ اُلفت سے اور ”نون“ نور سے ماخوذ ہے، اس مہینہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے بندے کو یہ پانچ چیزیں عطا کی جاتی ہیں، یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے، گناہگار چھوڑ دیے جاتے ہیں، برائیاں مٹا دی جاتی ہیں، اور مخلوق میں سب سے افضل اور بہترین ہستی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ بے کس پناہ میں کثرت سے ہدیہ درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ (غنیۃ الطالبین)

          حدیث شریف ہے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: رجب شهر الله، و شعبان شهرى، و رمضان شهر امتى۔ یعنی ”رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ اور شعبان میرا مہینہ اور رمضان میری اُمت کا مہینہ ہے“۔ (کنز العمال) کنز العمال کی ایک اور روایت ہے جس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: شهر رمضان شهر الله، و شهر شعبان شهرى، شعبان المطهر و رمضان المكفر۔ یعنی ”ماہ رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور ماہ شعبان میرا مہینہ ہے، شعبان (گناہوں سے) پاک کرنے والا اور رمضان (گناہوں کو) ختم کرنے والا ہے۔

          ایک اور حدیث شریف میں ہے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام شعبان سے زیادہ اور کسی مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے، آپ شعبان کو پورا مہینہ روزے سے رہتے، اور فرمایا کرتے: اتنا عمل کرو جتنی تم میں طاقت ہو کیوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اکتاتا نہیں ہے جب تک کہ تم نہ اُکتا جاؤ، اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز زیادہ پسند تھی جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے خواہ وہ تھوڑی ہوتی، اور آپ جب کوئی نماز ادا فرماتے تو اس پر ہمیشگی اختیار فرماتے۔ (بُخاری شریف)

             امام قسطلانی ”المواہب اللدنیہ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: بےشک شعبان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود و سلام بھیجنے کا بھی مہینہ ہے، کیوں کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں درود و سلام کی آیت یعنی ”ان الله و ملائكته يصلون على النبي“ نازل ہوئی تھی۔ لہذا معلوم ہوا کہ یہ آیت ماہ شعبان المعظم میں نازل ہوئی تو اس اعتبار سے یہ مہینہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف پڑھنے کا بھی ہے، اور اللہ تبارک وتعالی سے بخشش و مغفرت طلب کرنے کا بھی ہے، لہٰذا اس ماہ اور شب برات کی عبادت سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ کا قرب بھی ملتا ہے اور اللہ سبحانہ وتعالی کا قرب بھی نصیب ہوتا ہے، لہٰذا اس ماہ میں اور خصوصاً شب برات میں کثرت سے عبادت و ریاضت کریں، اور رب کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔

شب براءت کے فضائل:

          یہ رات نہایت ہی فضیلت و بزرگی والی رات ہے، اس رات کی بے شمار خصائص و کمالات ہیں، علماء و محدثین نے اس مبارک رات کے کئی نام ذکر فرمائے ہیں جیسے: (۱) لیلۃ المبارکہ (برکت والی رات) (۲) لیلۃ البراءت (دوزخ سے آزادی کی رات (۳) لیلۃ الصک (دستاویز والی رات) (۴) لیلۃ الرحمہ (اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ کی نزول کی رات)

محترم قارئین! مذکورہ احادیث سے یہ ظاہر ہو گیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سال کے دس مہینوں میں سب سے زیادہ عبادت و ریاضت کا اہتمام صرف ماہ شعبان المعظم میں ہی فرمایا کرتے تھے، آخر کوئی تو ایسی خاص وجہ ہوگی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ میں کثرت سے نفل روزے رکھتے اور نوافل ادا فرماتے، آخر ایسی کیا وجہ ہے جو اس مہینہ کو یہ فضیلت و بزرگی حاصل ہے ؟ تو ظاہر ہے کہ جس مہینہ کی کوئی فضیلت ہوتی ہے تو اس مہینہ میں کوئی ایک خاص دن یا خاص رات رکھی جاتی ہے،   لہٰذا اس مہینہ میں بھی ایک خاص رات آتی ہے جسے ”شب براءت“ کہا جاتا ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ’’جبریل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ: یہ رات پندرہویں شعبان کی رات ہے، اور اس رات اللہ تبارک و تعالیٰ قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتا ہے‘‘۔ (شعب الایمان)

          حضرت عطا بن یسار سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ’’لیلۃ القدر کے بعد کوئی رات ایسی نہیں جو نصف شعبان کی رات سے افضل ہو‘‘۔

            سیدنا عبد القادر جیلانی رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”جس طرح سے مسلمانوں کے لیے زمین پر دو عیدیں ہوتی ہیں اسی طرح سے فرشتوں کو آسمان پر دو عیدیں ہوتی ہیں، فرشتوں کی دو عیدیں شب قدر اور شب براءت ہے اور مسلمانوں کی دو عیدیں عید الفطر اور عید الاضحٰی ہیں، فرشتوں کی عیدیں رات کو اس لیے ہیں کہ وہ سوتے نہیں ہیں اور مسلمانوں کی عیدیں دن میں اس لیے ہیں کہ وہ رات میں سوتے ہیں۔ (غنیۃ الطالبین)

            سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: ایک رات میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا۔ میں آپ کی تلاش میں نکلی تو آپ مجھے جنّت البقیع میں مل گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں (یعنی شب براءت) رات آسمان دنیا پر تجلّی فرماتا ہے، پس قبیلۂ بنی کَلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے۔(ترمذی شریف، جلد 2) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں: معلوم ہوا کہ شبِ براءت میں عبادات کرنا، قبرستان جانا سنّت ہے۔ (مراۃ المناجیح)

 

          معلوم ہوا کہ یہ وہ مبارک رات ہے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ مغفرت طلب کرنے والوں کی بخشش فرماتا ہے، روزی مانگنے والوں کو رزق دیتا ہے اور مصیبت زدوں کی مصیبتیں دور فرماتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: جب شعبان المعظم کی پندھوریں رات (یعنی شبِ براءت) آئے تو اس میں قِیام (یعنی عبادت) کرو ، دن میں روزہ رکھو۔ بے شک اللہ پاک اس رات سورج غروب ہوتے ہی آسمان دنیا کی طرف نزول رحمت فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ ہے کوئی بخشش مانگنے والا کہ میں اسے بخش دوں، ہے کوئی روزی مانگنے والا کہ میں اسے روزی دوں، ہے کوئی مصیبت میں مبتلا کہ میں اسے عافیت دوں، ہے کوئی ایسا! ہے کوئی ایسا! یہاں تک کہ فجر کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ (ابن ماجہ شریف)

               اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک چار راتوں میں بھلائیوں کے دروازے کھول دیتا ہے: (1) بقر عید کی رات (2) عیدالفطر کی رات (3) شعبان کی پندرہویں رات کہ اس رات میں مرنے والوں کے نام اور لوگوں کا رزق اور (اس سال) حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں (4) عرفہ کی رات اذان فجر تک۔ (در منثور)

           حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس نے پانچ راتیں بیدار رہ کر عبادت میں گزاریں اس کے لیے جنت واجب ہے۔ وہ راتیں یہ ہیں: لیلۃ الترویہ، لیلۃ النحر، لیلۃ عرفہ، عید الفطر کی شب اور شب براءت‘‘۔ (الترغیب والترہیب)

شب براءت کی عبادات:

               اس رات نمازِ مغرب کے بعد چھ رکعتیں دو دو کرکے ادا کی کریں ، ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورۂ فاتحہ اور چھ بار سورۂ اخلاص پڑھیں۔ ہر دو رکعات کے بعد ایک بار سورۂ یسین اور دعائے نصف شعبان پڑھی جائے۔ پہلی دو کے ذریعے اللہ پاک سے عمر میں برکت، دوسری دو کے ذریعے رزق میں برکت اور تیسری دو رکعات کے ذریعے اچھے خاتمہ کا سوال کیا جائے۔ اسلاف کرام رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ جو اس طریقے کے مطابق یہ نوافل ادا کرے گا اس کی مذکورہ حاجتیں پوری کی جائیں گی۔

بہتر یہ ہے کہ شبِ براءت میں صلوۃ التسبیح بھی ادا کریں کیونکہ یہ کسی شک و شبہ کے بغیر صحیح طور پر ثابت ہے۔ اور احادیث میں اس کے بے شمار فضائل و برکات موجود ہیں

             شب براءت میں سورہ دخان پڑھنا مستحب ہے۔ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رات میں حم الدخان کی تلاوت کرےگا تو وہ صبح اس حال میں کرے گا کہ ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کررہے ہوں گے۔ (ترمذی)

              اس مبارک شب میں صلوٰۃ الخیر پڑھنے سے بہت سی برکات حاصل ہوتی ہیں، یہ نماز سلف صالحین سے منقول ہے اور یہ نفل نماز شعبان المعظم کی پندرھویں شب نماز عشاء کے بعد پڑھی جاتی ہے اس میں 100 رکعتیں ہیں اور دو دو رکعت کر کے اس طرح پڑھی جاتی ہے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھی جاتی ہے۔ یہ نفل نماز سلف صالحین با جماعت پڑھتے تھے۔ اس نماز کے بارے میں حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تیس صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بیان کیا کہ اس رات کو جو کوئی یہ نماز پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف ستر مرتبہ نگاہ کرتا ہے اور ہر بار اس کی طرف دیکھنے پر اس کی ستر حاجتیں پوری کرتا ہے جن میں سب سے ادنیٰ اس کے گناہوں کی مغفرت ہے۔ (غنیۃ الطالبین)

        لہٰذا جہاں تک ہو سکے خوب خوب عبادت و ریاضت کریں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، کثرت سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود شریف پڑھیں، اور ہو سکے تو دن کا روزہ رکھیں، اس رات میں رب کے حضور اپنے تمام گناہوں سے توبہ کریں، روئیں، گڑگڑائیں، اپنے اور جملہ مسلمانوں کے لیے خیر کی دعا کریں، اس رات کو گھوم پھر کر کھیل کود کر نہ گزاریں، جیسا کہ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف جاگنا ضروری ہے اور وہ یوں ہی گھوم پھر کر اپنا وقت برباد کر دیتے ہیں، لہٰذا یاد رکھیں اس شب میں جاگنے کا مطلب صرف جاگنا نہیں ہے بلکہ اس شب جاگ کر اللہ سبحانہ وتعالی کی کثرت سے عبادت و ریاضت کی جائے، جہاں تک ہو سکے اس رات کا ادب کریں، نہا دھو کر صاف ستھرا لباس پہن کر مسجد جائیں، واپسی پر قبرستان میں اپنے عزیز و اقارب کی قبر پر فاتحہ پڑھیں کہ یہ سارے کام سنت ہیں۔

           اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولائے کریم ہم سب کو اس رات کا ادب و احترام کرنے اور کثرت سے عبادت و ریاضت میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter