شبِ برات، چیلنجز اور آئمۂ مساجد کی فکری و سماجی ذمہ داریاں
یہ دور مسلمانوں کے لیے مسلسل امتحان بن چکا ہے۔ بدلتے سیاسی حالات، سماجی بے اعتمادی، معاشی دباؤ اور آئے دن پیش آنے والے ایسے واقعات جن میں مسلمان بالخصوص نشانہ بنتے دکھائی دیتے ہیں، ان سب نے ملتِ اسلامیہ کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کی ہر حرکت و اجتماع اور ہر مذہبی عمل کو نہ صرف غور سے دیکھا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات اسے غلط رنگ دے کر پیش کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ انہی حالات میں شبِ برات جیسی مقدس اور روحانی رات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ یہ رات صرف عبادت کا موقع نہیں بلکہ اصلاح احوال، محاسبۂ نفس اور اجتماعی شعور کی بیداری کا پیغام بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔
شبِ برات کو الله تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور فیصلوں کی رات کہا جاتا ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب بندہ اپنے ماضی پر نظر ڈالتا ہے، اپنی کوتاہیوں کا اعتراف اور مستقبل کے لیے بہتر راستہ اختیار کرنے کا عزم کرتا ہے۔ مگر افسوس کے وقت کے ساتھ ساتھ اس رات کے اصل مفہوم کو سمجھنے کے بجائے ہم نے اسے صرف چند ظاہری اعمال اور روایتی رسموں تک محدود کر دیا۔ کہیں بے جا چراغاں ہے، کہیں غیر ضروری ہجوم، کہیں عبادت کے نام پر ایسی حرکات جن کا نہ دین سے تعلق نہ ہی عقل و حکمت سے۔ یہی وہ پہلو ہے جہاں آئمۂ مساجد کی ذمہ داری عام دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ منبر رسول ﷺ صرف عبادات کی تلقین کا مقام نہیں بلکہ یہ ملت کی رہنمائی، فکری اصلاح اور سماجی شعور کی آبیاری کا مرکز بھی ہے۔ شبِ برات کے موقع پر آئمہ مساجد کے خطابات اگر محض نوافل، تسبیحات اور مخصوص اعمال کے بیان تک محدود رہیں تو یہ اس عظیم موقع کا ادھورا استعمال ہوگا۔ آئمۂ مساجد اس رات کو دور حاضر کے حالات سے جوڑ کر امت کے سامنے رکھیں اور یہ احساس دلائیں کہ عبادت کا اصل مقصد انسان کے کردار اور رویے کو بدلنا ہے۔ آئمۂ مساجد کو چاہیے کہ وہ اپنے خطابات میں سب سے پہلے شبِ برات کی شرعی حیثیت کو اعتدال کے ساتھ واضح کریں تاکہ نہ تو عوام اس رات کو دین کا لازمی حصہ سمجھ کر غلو کا شکار ہوں اور نہ ہی اسے بالکل نظر انداز کر کے روحانی فائدے سے محروم رہیں۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ عبادت کا حسن خاموشی، سنجیدگی اور نظم و ضبط میں ہے نہ کہ شور و غل اور بے ترتیبی میں۔ موجودہ حالات میں جب مسلمانوں کے اجتماعات پر خاص نظر رکھی جاتی ہے، اس پہلو کو نظر انداز کرنا اجتماعی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ خصوصی طور پر نوجوانوں کے حوالے سے آئمۂ مساجد کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ آج کا نوجوان طبقہ جوش تو رکھتا ہے مگر اکثر ہوش سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ شبِ برات کے بعد قبرستانوں، درگاہوں یا واپسی کے سفر میں بعض نوجوانوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ نہ صرف اس مقدس رات کی روح کے خلاف ہے بلکہ پوری قوم کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ خطابات میں نوجوانوں کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ اصل عبادت وہ ہے جو انسان کو بااخلاق، باوقار اور قانون کا احترام کرنے والا بنائے۔ اسی طرح والدین کو بھی ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بچوں کی دینی تربیت صرف انہیں مسجد بھیج دینے کا نام نہیں بلکہ ان کے کردار، گفتار اور رویے پر مسلسل نظر رکھنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ شبِ برات کے موقع پر یہ پیغام عام ہونا چاہیے کہ اولاد کی صحیح رہنمائی نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ موجودہ حالات میں ایک سماجی ضرورت بھی بن چکی ہے۔ آئمۂ مساجد کو اپنے خطابات میں امت کو صبر و حکمت اور اتحاد کا درس بھی دینا چاہیے۔ آج جذبات میں آ کر اٹھایا گیا غلط قدم برسوں کی محنت اور قربانیوں کو ضائع کر سکتا ہے۔ شبِ برات کی دعاؤں میں صرف ذاتی مغفرت ہی نہیں بلکہ پوری ملت کے امن و استحکام اور عزت کے لیے دعا کا اہتمام ہونا چاہیے۔ یہ رات ہمیں سکھاتی ہے کہ فیصلے الله کے ہاتھ میں ہیں مگر اپنے اعمال کی اصلاح ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ خطابات کا انداز نہایت متوازن، درد مند اور خیرخواہی پر مبنی ہونا چاہیے۔ اشتعال انگیز زبان، تلخ جملے یا محض الزام تراشی کے بجائے ایسی گفتگو کی جائے جو دلوں کو جوڑے، سوچ کو بیدار کرے اور عمل کی راہ دکھائے۔ آئمۂ مساجد اگر چاہیں تو شب برات کو امت کے لیے ایک نئے عہد کا نقطۂ آغاز بنا سکتے ہیں جہاں مسلمان عبادت کے ساتھ ساتھ ذمہ داری، شعور اور وقار کو بھی اپنا شعار بنائیں۔ کیوں کہ شبِ برات ایک رات نہیں بلکہ ایک پیغام، ایک موقع ہے اپنے رب کی طرف پلٹ آنے کا اور اپنے سماج کو بہتر بنانے کا۔ اگر آئمۂ مساجد اس پیغام کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے ساتھ جوڑ کر پیش کریں تو یہ رات واقعی مسلمانوں کی فکری و روحانی اور سماجی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ آج امت کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ صرف زیادہ عبادت نہیں بلکہ باشعور عبادت ہے اور یہی پیغام شبِ برات کے خطابات کا مرکزی عنوان ہونا چاہیے۔ مگر افسوس کہ آئمۂ مساجد اس طرف توجہ نہیں دیتے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یاد رکھیں کہ آج کا دور صرف عبادات کے فضائل بیان کرنے کا نہیں بلکہ عبادات کے ثمرات سمجھانے کا دور ہے۔ بہت سے مقامات پر ہم نے آسان راستہ اختیار کر لیا ہے۔ وہی موضوعات، وہی اندازِ بیان اور وہی روایتی گفتگو جو برسوں سے دہرائی جا رہی ہے، بغیر اس سوچ کے کہ سننے والا بدل چکا ہے، حالات بدل چکے ہیں اور خطرات کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ آئمۂ مساجد اگر آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری صرف نماز پڑھانا اور چند مخصوص راتوں کی فضیلت بیان کرنا ہے تو یہ ایک ادھورا تصورِ امامت ہے۔ امامت کا منصب تو امت کی قیادت، رہنمائی اور فکری حفاظت کا نام ہے اور جب قیادت حالات کی نزاکت سے آنکھیں چرا لے تو نقصان صرف حال کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا بھی ہوتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض آئمہ حالاتِ حاضرہ پر گفتگو سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ کہیں ان کی بات کو غلط نہ سمجھ لیا جائے، کہیں اختلاف پیدا نہ ہو جائے یا کہیں انہیں مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مگر یہ خوف اگر منبر تک پہنچ جائے تو پھر حق بات کہی ہی کب جائے گی؟ منبرِ رسول ﷺ کبھی سہولت اور مصلحت کا مرکز نہیں رہا بلکہ ہمیشہ حق، حکمت اور خیرخواہی کی آواز بلند کرنے کا مقام رہا ہے۔ اگر آج آئمۂ مساجد نوجوانوں کو نظم و ضبط، صبر، قانون کی پاسداری اور اجتماعی وقار کا درس نہیں دیں گے تو پھر یہ خلا کون پُر کرے گا؟ اور اگر یہ خلا غلط ہاتھوں میں چلا گیا تو اس کے نتائج کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
شبِ برات جیسی راتیں دراصل الله تعالیٰ کی طرف سے ایک موقع بھی ہیں اور ایک سوال بھی۔ موقع اس بات کا کہ ہم امت کو جھنجھوڑ کر اس کی اصلاح کی طرف لے جائیں اور سوال اس بات کا کہ ہم نے اس موقع سے کیا فائدہ اٹھایا؟ اگر منبر سے صرف وہی باتیں دہرائی گئیں جو عوام پہلے ہی جانتے ہیں اور ان مسائل پر خاموشی اختیار کی گئی جو آج امت کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہیں تو پھر تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ اس حساس دور میں رہنماؤں نے اپنی ذمہ داری کیوں ادا نہیں کی۔ آج کا نوجوان سمت کا متلاشی ہے۔ وہ اگر مسجد میں آئے اور اسے صرف رسموں کا بیان ملے لیکن زندگی کے عملی مسائل کا حل نہ ملے، تو وہ یا تو مایوس ہو جائے گا یا کہیں اور سے رہنمائی تلاش کرے گا۔ آئمۂ مساجد اگر شبِ برات کے موقع پر یہ واضح کر دیں کہ عبادت انسان کو پر سکون، ذمہ دار اور باوقار بناتی ہے، نہ کہ لاپرواہ اور بے خوف، تو شاید بہت سی غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جائیں۔ اسی طرح اگر والدین کو منبر سے بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ اولاد کی نگرانی اور تربیت صرف دنیاوی فریضہ نہیں بلکہ ایک دینی امانت ہے تو معاشرے کی بہت سی خرابیاں جڑ سے ختم ہو سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج امت کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ باشعور قیادت ہے اور مسجد اس قیادت کی پہلی درسگاہ ہے۔ اگر اس درسگاہ میں حالات کی سنگینی کا احساس نہ دلایا جائے، اگر یہاں سے ذمہ داری، حکمت اور صبر کا پیغام نہ دیا جائے تو پھر ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنے نقصان کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ شبِ برات کا پیغام اگر صرف انفرادی نجات تک محدود کر دیا جائے اور اجتماعی اصلاح کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ اس عظیم رات کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اب بھی وقت ہے کہ آئمۂ مساجد اس خاموشی کو توڑیں، اس غفلت کو احساس میں بدلیں اور منبر کو محض روایات کا امین نہیں بلکہ امت کے ضمیر کی آواز بنائیں۔ شبِ برات کو اگر امت کی فکری بیداری، سماجی اصلاح اور اخلاقی استحکام کی رات بنا دیا جائے تو یہ رات تاریخ میں ایک نئے موڑ کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں منبر فیصلہ کرے گا کہ وہ صرف ماضی کا حوالہ بن کر رہنا چاہتا ہے یا حال اور مستقبل کی رہنمائی کا چراغ بننا چاہتا ہے۔