یومِ جمہوریہ اور دستور ساز اسمبلی کے مسلم معمار

    ہندوستان کی تاریخ میں 26 جنوری اس عہد و عزم اور اجتماعی شعور کی علامت ہے جس کے ذریعے ایک نو آزاد قوم نے خود کو قانون کی بالادستی، جمہوری اقدار اور آئینی مساوات کے سانچے میں ڈھالنے کا فیصلہ کیا۔ یومِ جمہوریہ دراصل اسی لمحۂ  تاریخ کی یاددہانی ہے جب ہندوستان نے غلامی کے سایوں سے نکل کر اپنے لیے ایک متفقہ دستور اختیار کیا، ایسا دستور جو محض اکثریت کی آواز نہ تھا بلکہ اقلیتوں کے حقوق، تہذیبی تنوع اور مذہبی آزادی کی ضمانت بھی اپنے دامن میں سموئے ہوئے تھا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ جشنِ جمہوریہ کی تقریبات میں ہم دستور کے ان معماروں کو یاد کرنے میں کوتاہی برتتے ہیں جنہوں نے اپنی فکری بصیرت، سیاسی جرات اور آئینی فہم کے ذریعے اس دستاویز کو حقیقی معنوں میں ہمہ گیر بنایا۔ دستور ساز اسمبلی محض ایک سیاسی ادارہ نہیں بلکہ یہ ہندوستان کے اجتماعی ضمیر کی ترجمان تھی۔ اس ایوان میں مختلف مذاہب، قومیتوں، زبانوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی اور اپنے اپنے حلقۂ  فکر کی نمائندگی کی۔ مسلمانوں کی جانب سے بھی ایسی قدآور اور صاحبِ نظر شخصیات اس تاریخی ایوان کا حصہ تھیں جنہوں نے نہ صرف مسلمانوں کے دینی و سماجی اور ثقافتی حقوق کا دفاع کیا بلکہ مجموعی طور پر ہندوستان کو ایک جمہوری، سیکولر اور کثرت پسند ریاست بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دستور ساز اسمبلی کے ان مسلم ارکان کے نام آج رفتہ رفتہ اجتماعی حافظے سے محو کیے جا رہے ہیں حالانکہ انہی حضرات کی فکری کاوشوں، مدلل تقاریر اور آئینی ترمیمات کے نتیجے میں آج کا ہندوستانی دستور اپنی وسعت، لچک اور توازن کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد جیسے عظیم المرتبت رہنما جو نہ صرف ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم تھے بلکہ فکری اعتبار سے قوم کے معمار بھی تھے۔ عبدالقادر محمد شیخ، اے کے خان، عبدالحلیم غزنوی، چوہدری عابد حسین، شیخ محمد عبد الله، آصف علی، بی ایچ زیدی، بی پوکر صاحب بہادر، بیگم عزیز رسول جیسی جری اور باوقار خاتون، مولانا حسرت موہانی، حسین امام، کے ٹی ایم احمد ابراہیم، قاضی سید کریم الدین، محمد اسماعیل، محبوب علی بیگ بہادر، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مرزا محمد افضل بیگ، سر سید محمد سعد الله اور دیگر متعدد نام وہ درخشاں چراغ ہیں جن کی روشنی میں دستور سازی کی شاہراہ منور ہوئی۔ ان میں سے بعض شخصیات نے اقلیتوں کے حقوق کو آئینی تحفظ دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، بعض نے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر زور دیا، بعض نے مذہبی آزادی کو غیر متزلزل اصول کے طور پر منوانے کے لیے ایوان میں صدائے احتجاج بلند کی اور بعض نے ہندوستانی جمہوریت کو محض عددی اکثریت کے بجائے اخلاقی انصاف سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان شخصیات کا تعلق ملک کے مختلف علاقوں سے تھا اس لیے یہ نہایت موزوں اور تاریخی انصاف کے عین مطابق ہوگا کہ یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں ہر خطے میں وہاں سے تعلق رکھنے والے دستور ساز ارکان کو خصوصی طور پر یاد کیا جائے تاکہ نئی نسل یہ جان سکے کہ دستور کسی ایک طبقے کی میراث نہیں بلکہ یہ مشترکہ قربانیوں اور اجتماعی دانش کا ثمر ہے۔ خصوصی طور پر مولانا حسرت موہانی کا کردار تاریخ دستور سازی کا ایک درخشاں باب ہے۔ ایک جانب وہ اردو ادب کے آسمان کے روشن ستارے تھے دوسری جانب تحریکِ آزادی کے بے خوف مجاہد اور تیسری جانب دستور ساز اسمبلی میں اصولی سیاست کے علمبردار۔ انہوں نے نہایت جرات و استقامت اور فکری وضاحت کے ساتھ مسلمانوں کے عائلی قوانین کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی اور اس امر کو دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ کسی بھی سیاسی یا فرقہ پرست جماعت کو کسی مذہبی گروہ کے پرسنل لا میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ان کا یہ موقف ایک مذہبی دعویٰ نہیں تھا بلکہ آئینی فلسفے اور جمہوری اخلاقیات پر مبنی تھا۔

    مولانا حسرت موہانی نے دستور ساز اسمبلی کے فلور پر جس صراحت اور قوت کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ مسلمانوں کا پرسنل لا ان کے مذہب، زبان اور ثقافت کا بنیادی حصہ ہے اور اس میں مداخلت کے نتائج نہایت خطرناک ہوں گے وہ آج بھی ہماری آئینی تاریخ کا قیمتی حوالہ ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ مسلمانوں کے نکاح، طلاق اور وراثت کے قوانین قرآنِ حکیم سے ماخوذ ہیں اور یہ انسانوں کے وضع کردہ نہیں دراصل دستور میں مذہبی آزادی کے عملی مفہوم کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر کسی نے مسلمانوں کے پرسنل لا میں مداخلت کی کوشش کی تو اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ مسلمانانِ ہند اپنے دینی تشخص پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یومِ جمہوریہ کے موقع پر اگر ہم واقعی دستور کی روح کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو رسمی تقاریب، پریڈز اور بیانات کافی نہیں بلکہ ہم ان معماران دستور کو یاد کریں جنہوں نے اس ملک کو جمہوری بنانے کے لیے فکری قربانیاں دیں، جنہوں نے اقلیتوں کو رعایا نہیں بلکہ برابر کے شہری تسلیم کرانے کی جد وجہد کی اور آئین کو طاقت کے بجائے انصاف کا آلہ بنایا۔ دستور ساز اسمبلی کے مسلم ارکان کی خدمات کو یاد کرنا نہ کسی ایک طبقے کی خوشنودی کے لیے ہے اور نہ کسی سیاسی ایجنڈے کے تحت بلکہ یہ تاریخ کے ساتھ دیانت داری اور جمہوریت کے ساتھ وفاداری کا تقاضا ہے۔ اگر یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں ان شخصیات کے افکار، خدمات اور جد وجہد کو موضوعِ گفتگو بنایا جائے تو یہ دن محض جشن نہیں رہے گا بلکہ ایک تعلیمی، فکری اور اخلاقی تحریک میں بدل جائے گا۔ یہی اس دن کا اصل پیغام ہے اور یہی ہمارے دستور کے معماروں کے ساتھ حقیقی خراجِ عقیدت بھی۔ یاد رکھیں! کہ اگر آج ہم نے اس سمت سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہ دی اور یومِ جمہوریہ جیسے قومی مواقع پر ہم نے دستور ساز اسمبلی کے مسلم معماروں کو یاد کرنے کو ایک اختیاری عمل سمجھ کر نظر انداز کر دیا تو اس غفلت کی قیمت ہمیں آنے والی نسلوں کی فکری محرومی کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے محسنوں کی خدمات کو محفوظ نہیں رکھتیں وہ رفتہ رفتہ اپنے وجود کی معنویت بھی کھو بیٹھتی ہیں۔ وقت کا پہیہ خاموشی کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے اور اسی خاموشی میں وہ نام، قربانیاں اور وہ جد وجہد اجتماعی شعور سے مٹتی چلی جاتی ہیں جنہوں نے کبھی قوموں کو شناخت عطا کی تھی۔ آج اگر مولانا ابوالکلام آزاد، حسرت موہانی، بیگم عزیز رسول، سر سید محمد سعد الله اور ان جیسے دیگر آئینی معماروں کو نئی نسل کے ذہنوں میں زندہ نہ رکھا تو کل یہی نسل اس گمان میں مبتلا ہوگی کہ ہندوستان کی جمہوری تشکیل میں مسلمانوں کا کردار ثانوی یا غیر اہم تھا۔

    ایسا کرنا صرف تاریخی ناانصافی نہیں ہوگی بلکہ ایک فکری خودکشی کے مترادف ہوگی کہ جب قومیں اپنے ماضی کے روشن ابواب سے کٹ جاتی ہیں تو وہ حال میں بھی اپنی سمت متعین نہیں کر پاتیں۔ نئی نسل اگر یہ نہ جانے کہ ان کے بزرگوں نے دستور کے ایوان میں کھڑے ہوکر مذہبی آزادی، ثقافتی خودمختاری اور آئینی مساوات کے لیے دلیل و استدلال کی جنگ لڑی تھی تو ان کے اندر خود اعتمادی کے بجائے احساسِ کم تری جنم لے گا۔ وہ اپنے حقوق کو عطیہ سمجھنے لگیں گے حالانکہ یہ حقوق ان کے اسلاف کی جد وجہد کا حاصل ہیں۔ تاریخ سے ناآشنائی قوموں کو سوال کرنے کی جرات سے محروم کر دیتی ہے اور جو قوم سوال کرنا چھوڑ دے وہ آہستہ آہستہ صرف حالات کا شکار بن کر رہ جاتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر ہم نے اپنی آئینی جد وجہد کی داستان خود بیان نہ کی تو دوسرے اسے اپنے زاویے سے لکھیں گے۔ تاریخ کبھی خلا کو برداشت نہیں کرتی وہ یا تو یادداشت سے بھری جاتی ہے یا تعبیر سے۔ اگر مسلمانوں نے اپنے دستور سازوں کے کردار کو محفوظ نہ کیا تو آنے والے وقت میں یا تو اس کردار کو دانستہ نظر انداز کیا جائے گا یا اسے مسخ شدہ انداز میں پیش کیا جائے گا۔ اس صورت میں نئی نسل ایک ایسے ماضی سے جڑی ہوگی جو اس کا اپنا نہیں ہوگا اور ایک ایسی تاریخ پڑھے گی جس میں اس کے اسلاف کی آواز دب چکی ہوگی۔ یہ صورتِ حال کسی بھی زندہ قوم کے لیے زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ اس لیے یومِ جمہوریہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی آئینی یادداشت کی تجدید کریں، اپنے محسنوں کے تذکرے کو رسمی جملوں سے نکال کر فکری مکالمے کا حصہ بنائیں اور نئی نسل کو یہ احساس دلائیں کہ دستور کسی ایک طبقے کی عطا نہیں بلکہ مشترکہ قربانیوں اور اجتماعی دانش کا ثمر ہے۔ اگر ہم نے اس دن کو محض پریڈ، جھنڈوں اور رسمی خطابات تک محدود رکھا اور اس کے فکری پہلو کو نظر انداز کر دیا تو یہ دن بھی رفتہ رفتہ اپنی روح کھو دے گا اور ہمارے لیے ایک خالی روایت بن کر رہ جائے گا۔ لہذا! ضروری ہے کہ مسلمان اس حقیقت کو سمجھیں کہ اپنی تاریخ کو زندہ رکھنا کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ بقا کا سوال ہے۔ یہ کام نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں نہ مولانا حسرت موہانی کی آئینی جرات کو پہچانیں گی، نہ مولانا آزاد کی فکری بصیرت سے واقف ہوں گی، نہ بیگم عزیز رسول کی نمائندہ حیثیت کو جان سکیں گی اور نہ یہ شعور پیدا ہو سکے گا کہ مسلمان اس ملک کے محض باشندے نہیں بلکہ اس کے معماروں میں شامل رہے ہیں۔ جب یہ شعور مٹ جاتا ہے تو قومیں محض تعداد بن کر رہ جاتی ہیں کردار ادا کرنے والی قوت نہیں رہتیں۔ اس لیے یہ ایک گزارش نہیں بلکہ سنجیدہ تنبیہ ہے کہ اگر آج ہم نے اپنے آئینی ورثے کی حفاظت نہ کی، اپنے محسنوں کو یاد نہ رکھا اور ان کی جد وجہد کو نسل در نسل منتقل نہ کیا تو آنے والا کل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ وہ نسل جو اپنے ماضی سے ناآشنا ہوگی، حال میں بھی کمزور ہوگی اور مستقبل میں بھی اپنی جگہ بنانے سے قاصر رہے گی۔ یومِ جمہوریہ کو اگر واقعی ہمیں معنیٰ خیز بنانا ہے تو اسے یاددہانی، شعور اور عہدِ وفا کا دن بنانا ہوگا ورنہ اندیشہ ہے کہ ہمارے محسن تاریخ کے اوراق میں دفن ہو جائیں گے اور ہم خود اپنی شناخت کی تلاش میں بھٹکتے رہ جائیں گے۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter