اجیت پوار کی موت کے محض تین دن بعد حلف برداری!  آخر اس جلد بازی کی وجہ کیا ہے؟

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ 28 جنوری کو مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے قد آور لیڈر اجیت پوار کی جیٹ حادثے میں دردناک موت کے محض تین دن بعد یعنی 31 جنوری کو ان کی اہلیہ سنیترا پوار نے ریاست کی پہلی خاتون نائب وزیر اعلی کے طور پر حلف اٹھا لیا؟ یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے جس نے حکمراں جماعت کو اس جلد بازی پر مجبور کیا؟ اگرچہ این سی پی اور معاون پارٹیاں اجیت پوار کے انتقال کے بعد این سی پی میں جاری حالیہ صف بندیوں کے بیچ اسے قیادت کے تسلسل و استحکام اور پوار خاندان کی سیاسی وراثت کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہیں، مگر قرائن کا اشارہ کسی اور ہی طرف ہے۔

خبروں کے مطابق سنیترا پوار خود بھی اپنی حلف برداری کو لے کر اس قدر جلد بازی کے حق میں نہیں تھیں۔ ظاہر ہے کہ شوہر کی انتہائی وحشت ناک موت کے بعد جبکہ شوک اور غم کے ایام بھی نہیں گزرے اور مذہبی روایات کے مطابق دیگر رسوم بھی باقی ہیں، کوئی بھی عورت کسی عہدے کو اتنی سرعت کے ساتھ قبول کرنے کے لیے ذہنی طور پر کیسے تیار ہو سکتی ہے؟

اب محبت کی بات کیا کیجے!

ان کا غم بھی مجھے عطا نہ ہوا

 پھر یہ کہ ان کی سیاسی عمر کوئی سال دو سال سے زیادہ کی نہیں ہے جب کہ مہاراشٹر جیسے اہم صوبے کے نائب وزیر اعلی کا عہدہ ایک بڑا عہدہ ہوتا ہے۔ ایسے میں ان کا انتخاب اور پارٹی کے لیے عرصے سے محنت کرنے والے سرکردہ لیڈران و کارکنان میں سے کسی کا عدم اختلاف کم از کم اس عمل کے نارمل ہونے پر تو دلالت نہیں کرتے۔

بات در اصل یہ ہے کہ یہ جلدبازی اور ہڑبڑاہٹ این سی پی (اجیت پوار دھڑے) کے مقامی لیڈران جیسے سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل وغیرہ کو نہیں تھی بلکہ امیت شاہ اور مودی کو تھی۔ تٹکرے، پٹیل اور دیگر قائدین جنھوں نے رسم تاج پوشی کے اس عمل کو انتہائی سرعت کے ساتھ انجام دیا وہ تو فقط اپنے آقاؤوں یعنی ’شاہ اور شہنشاہ‘ کی سخت ہدایات پر عمل پیرا تھے۔ حلف برداری کی یہ رسم عجلت میں ادا کی گئی اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ راج بھون، ممبئی میں اس کے لیے ایک انتہائی مختصر سی تقریب رکھی گئی۔ برسراقتدار پارٹی کے کسی بھی لیڈر، خاص طور سے بی جے پی کے چانکیہ امیت شاہ کو اس کام میں تاخیر کسی صورت گوارا نہ تھی تاکہ مخالف پارٹیوں میں شگاف ڈال کر تیار کردہ فڑنویس حکومت کی دیواریں کمزور نہ ہوں۔ کیوں کہ ٹوٹی اور بکھری ہوئی این سی پی کے جڑ جانے کا خطرہ ایک بار پھر ان کے سر پر منڈلانے لگا تھا۔

بی جے پی کے مطابق اگر اس حلف برداری میں بمشکل دس بارہ دنوں کی بھی تاخیر ہوتی تو مہاراشٹر کا چانکیہ شرد پوار، پچاسی سال کی عمر میں بھی کھیل کر سکتا تھا۔ یہ خدشہ اس لیے بھی بجا تھا کہ پچھلے سترہ جنوری کو ہی شرد پوار کی اجیت پوار اور ان کے اہم ہمنواؤں کے ساتھ ایک خاص میٹنگ ہوئی تھی جس میں یہ طے ہوا تھا کہ ان کی پارٹی پھر سے ایک ہوگی۔ کل شرد پوار نے خود اس بات کا آن کیمرہ اظہار کیا اور کہا کہ خود اجیت پوار کی خواہش تھی کہ این سی پی کے دونوں دھڑے ایک ہو جائیں۔ ایسی صورت حال میں سنیترا پوار کی حلف برداری میں مزید مہلت کی فراہمی بی جے پے کے لیے واقعی خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی تھی۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ مہاراشٹر کے حالیہ کارپوریشن اور میونسپالیٹی کے انتخابات بھی امیدوں کے برعکس شرد پوار اور اجیت پوار نے مل کر لڑے ہیں، اور اب ادھر دونوں دھڑوں کے ایک ہونے کو لے کر باضابطہ بیٹھکیں ہونے لگی تھیں تو ایسے میں بی جے پی کی بے چینی فطری بات تھی۔ اس نے دیکھا کہ ایک طرف راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے مل رہے ہیں اور دوسری طرف چچا بھتیجا (شرد پوار اور اجیت پوار) ایک ہو رہے ہیں۔ اور اگر شیو سینا اور این سی پی جیسی پارٹیاں پھر سے متحد و مضبوط ہوئیں تو یقینا بی جے پی کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتی ہیں، اس لیے اس نے کوئی رِسک لیے بغیر آنا فانا سنیترا اجیت پوار کو انھیں کے شوہر کا عہدہ و عہد دلا کر نہ صرف ’دادا‘ کی فیملی اور ان کے ہم خیالوں کا بھروسا جیتا بلکہ بزعمِ خود این سی پی کو دوبارہ ایک ہونے سے بچا لیا۔

اب بی جے پی کی یہ چال واقعی کامیاب ہوتی ہے یا پھر اجیت پوار کی این سی پی میں داخلی اختلافات وانتشار کا سبب بنتی ہے یہ تو وقت بتائے گا، تاہم مہاراشٹر کے عظیم سیاسی لیڈر اور چانکیہ شرد پوار نے اجیت پوار کی اچانک اور درد ناک موت پر افسوس جتاتے ہوئے کیمرے پر یہ بھی کہا کہ اب نیشنلسٹ گانگریس پارٹی کبھی ایک ہو پائے گی بھی یا نہیں! یہ تو مجھے نہیں پتہ، مگر ہاں اجیت پوار نے اس خواہش کا اظہار ضرور کیا تھا کہ ان کی پارٹی کے دونوں دھڑے پھر سے ایک ہو جائیں۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter