اب خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گور کن

ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ دینی مدارس سے دین کے سپاہی پیدا ہوتے تھے اور یوں ہی خانقاہوں سے مصلحین اور مبلغین اسلام تیار ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے مدارس دینیہ کو اسلام کا قلعہ کہتے تھے۔ اور خانقاہوں کو روحانی مرکز یا روحانی دانش گاہ کہتے تھے۔ لیکن آج اگر ہم خانقاہوں کی بات کریں تو بڑا افسوس ہوتا ہے کہ خانقاہیں "خام خواہیں" ہوچکی ہیں۔ جاہلوں کا دور دورہ ہے۔ پدرم سلطان بود کے نہج پر پدرم پیر بودم کا دور چل رہا ہے۔ اک زمانے میں خانقاہوں میں تصوف اور سلوک الی اللہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ تصفیہ قلب اور تزکیہ نفس کی تربیت دی جاتی تھی۔ سلوک کی تعلیمات کے ذریعے خلق خدا کو قرب الہی کے منازل طے کرائے جاتے تھے۔ فقیروں، مسکینوں، مسافروں اور راہ خدا کے راہیوں کے لیے خانقاہیں آماجگاہ تھیں۔ اس کے علاوہ بےشمار مخلوق خانقاہوں سے پلتی تھیں۔ ان کی دینی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ دنیوی حوائج کا بھی بھرپور خیال رکھا جاتا تھا۔ خانقاہوں کی اہمیت و ضرورت ہر فرد کو معلوم ہے۔ پہلے ان خانقاہوں میں اللہ والے بیٹھا کرتے تھے۔ وہ اللہ والے بھٹکے ہوئے مخلوق خدا کواپنی خداداد صلاحیت وصالحیت سے خدا کی راہ میں لگا دیتے تھے۔ انہیں خدا اور اس کی معرفت کے علاوہ کسی اور شے سے کوئی غرض نہ تھا وہ جو کرتے خدا کی رضا وخوشنودی کے لیے کرتے۔ دنیا ومافیہا سے ہمیشہ بے نیاز رہتے۔ حکومت اور حکمرانوں سے دور ونفور رہتے ہوئے بادشاہوں اور حکمرانوں کو بھی نصیحت کیا کرتے تھے۔ جب حکمران ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے اور ایلچی بھیجتے تو قاصد سے یہ کہہ کر واپس کردیتے کہ بادشاہ کو فقیر سے کیا کام۔ اگر حکمران یا سلطان آگئے تو وہ خداترس بندے دوسرے دروازے سے کہیں بھی نکل جاتے۔ یہ روحانی تربیت انہیں ان ہی خانقاہوں سے ملی تھی۔ وہ شاہی دربار سے کچھ یوں گریز کرتے جس طرح انسان زہریلے سانپ سے گریز کرتا ہے۔ اللہ کے حبیب ﷺ کا فرمان بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اور آج کل کے دنیا پرست اور جاہ ومنصب کے پیچھے دوڑنے والے علماء کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے اردو کے مشہور نثر نگار مولانا ابوالکلام آزاد رقم طراز ہیں کہ "عوام وخواص میں ان کے مجاہدات کی دھوم تھی، بایں ہمہ نفس پرستی کا حال یہ تھا کہ فقیری کے سجادے پر فرعونیت کا تاج پہن کر بیٹھے تھے اور جس عالم وصوفی کی طرف لوگوں کو ذرا بھی مائل پاتے تھے، فورا اپنے مریدوں کی فوج لے کر چڑھ دوڑتے تھے، کبھی ”بحث ومناظرے“ کے زور سے، کبھی ”سوء اعتقاد“ کے الزام سے کبھی اور کوئی ”حیلہ وبہانہ“ پیدا کرکے، (اور اس گروہ کے پاس مکر وحیل کی کیا کمی ہے!)، اس طرح ذلیل ورسوا کردیتے کہ غریب شہر چھوڑنے پر مجبور ہوجاتا ، ایک ”دنیا دار فاسق“ اور ایک ”دنیا پرست عالم“ میں یہی فرق ہے کہ پہلا اپنی ہوس پرستیوں کو اعترافِ فسق کے ساتھ انجام دیتا ہے ، اور دوسرا دین داری اور احتسابِ شرعی کی ظاہر فریبی کے ساتھ۔۔۔ نفس وشیطان کے خدع ومکر وفریب کے کاروبار بہت وسیع ہیں، لوگوں نے ہمیشہ اس کو میکدوں میں ہی ڈھونڈا، مدرسوں اور خانقاہوں میں ڈھونڈتے تو شاید جلد پتا لگ جاتا“ [ تذکرہ آزاد:ص63 ، 64 ]

تصویر کا اک رخ تو ہم نے دیکھ لیا اب ذرا دوسرا رخ بھی معائنہ کرلیتے ہیں تاکہ بات روز روشن کی طرح عیاں و بیاں ہو۔ جعلی پیروں اور جاہل جانشینوں نے مریدوں کو جنت کے ٹکٹ دینے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔ ایسے ہزاروں واقعات ہیں جن میں غریبوں اور جاہلوں کو طریقت، تصوف اور روحانیت کے نام پر لوٹا جا رہا ہے۔ اور ان جاہل پیروں نے روحانیت کا جھانسہ دے کر عوام الناس کو لوٹ رکھا ہے ابھی بھی لوٹ رہے ہیں۔ جہاں سیاست دان عیار ومکار ہوتے ہیں وہیں آج کل خانقاہوں میں بیٹھے جعلی پیر بھی مکار ہوچکے ہیں۔ پیری مریدی کو وراثت سمجھ رہے ہیں۔ اس زمانے میں یہ پیسہ کمانا کا بہترین ذریعہ  سمجھا جارہا ہے۔ اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ نقصان کبھی نہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا کہ یہ عوام کہاں جائیں؟؟؟ پہلے لوگ دنیا کے نام پر لوٹتے تھے ابھی دین اور روحانیت کا جھانسہ دے کر لوٹا جارہا ہے۔ کیا خوب کہا قلندر لاہوری نے

خداوندا ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں

کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

 

ستم بالائے ستم یہ کہ ایسے ایسے جاہل گوار افراد پیر ومرشد  اور مربی بن بیٹھے ہیں جنہیں صحیح سے سورہ فاتحہ پڑھنا تو دور استنجاء وغسل کا طریقہ بھی نہیں معلوم۔ رنگ برنگے عمامے، زرق برق لباس، ہاتھوں میں دس دس انگوٹھیاں، بال پراگندے، زبان پر لاہوتی وجبروتی باتیں، اور صوم وصلاۃ سے بیگانگی ان تمام اوصاف خبیثہ وصفات ذمیمہ  کے باوجود اپنے آپ کو پیر ومرشد ومربی کہلانے میں کبھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ جب کہیں مریدین مل کر جلسے کراتے ہیں تو نام کے آگے اور پیچھے القابات کی ایک لمبی قطار لگائی جاتی ہے۔ جیسے پیر طریقت، رہبر راہ شریعت، روشن ضمیر، خلیفۂ فلان فلاں وغیرہ وغیرہ۔ ان جاہلوں کو روشن ضمیر نہیں بلکہ  انہیں دین فروش اور ملت فروش کہنا چاہیے بزرگوں کی بارگاہوں کی بات ہی کچھ انوکھی ہے۔  وہاں پر سجادگی کے نام پر بیہودگی جاری ہے۔ بیٹا کتنا بھی نالائق ہو پیر صاحب مریدوں کا بھروسہ جیت کر اپنے نالائق فرزند کو اپنا جانشین مقرر کر دیتا ہے۔ گویا پیری مریدی دینی ذمہ داری نہیں بلکہ گھر کی جاگیر  سمجھی جارہی ہے۔ کچھ تو ایسے ہیں جنہیں ان کے باپ نے جانشین مقرر نہیں کیا بلکہ باپ کے وصال کے بعد بنفس نفیس خرقہ پہن کر جانشین اور سجادہ نشین بن گئے۔ لیکن کبھی انہیں باپ کی طرح علم وتقوی حاصل کرنے کی فکر بھی نہیں ہوئی۔ اگر لائق ہوتے تو بات اور ہوتی۔ یہ نالائق فرزند لائق پدر کا کیسے جانشین اور خلیفہ ہوسکتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ اقبال فرماتے ہیں۔

باپ کا عِلم نہ بیٹے کو اگر اَزبر ہو

پھر پِسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو!

مزید فرماتے ہیں

میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

خلاصہ یہ ہے کہ آج کل خانقاہوں میں پیر یا روشن ضمیر نہیں بلکہ دین فروش اور دنیا دار بیٹھے ہیں۔ ان دین کے لٹیروں سے حد درجہ اجتناب کرنا ہمارا دینی ومذہبی فریضہ ہے۔ اور ساتھ ساتھ سادہ لوح مسلمانوں کو ان کے دجل وفریب سے بچانا ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ والے نہیں بلکہ غلہ والے ہیں۔ انہیں نہ خودی کا علم نہ خدا سے شناسائی۔ کیا خوب کہا علامہ اقبال نے۔

قُم بِاذنِ اللہ‘ کہہ سکتے تھے جو، رُخصت ہوئے

خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن

اگر ان مجاوروں کے بارے میں ہم کہنے لگیں تو بات بہت دور نکل جائے گی۔ ان شاء اللہ پھر کبھی ان مجاوروں کے بارے میں تفصیلی طور پر قلم بند کریں گے۔ تو جملہ عوام الناس اور سادہ لوح مسلمانوں سے مخلصانہ ودرد مندانہ اپیل ہے کہ ان چور پیروں کے جھانسہ میں نہ آئیں۔ روحانیت کے نام پر یہ تجارت کرنے والے لٹیروں سے اپنے آپ کو اور اپنی نسل کی بھی حفاظت فرمائیں۔ سب سے اہم اپنے عقیدے اور ایمان کی حفاظت کریں۔ خدا ہمیں حق تک رسائی عطا فرمائے۔ اور سچے پیروں کے دامن کرم سے وابستگی عطا فرمائے آمین۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter