کیا روزہ محض برداشت کرنے کا نام ہے؟
رمضان المبارک ایک نہایت بابرکت اور رحمتوں سے بھرپور مہینہ ہے، جس میں بندۂ مومن روحانی اور جسمانی دونوں طرح کی عبادات کے ذریعے اپنے ربِّ قدیر سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔ اس مقدس مہینے میں ہم کبھی نوافل کے ذریعے، کبھی تلاوتِ قرآنِ مجید کے ذریعے، اور کبھی ذکر و دعا کے ذریعے اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کرتے ہیں۔ یہی وہ عظیم مہینہ ہے جس میں نیکیوں کی بہار آتی ہے، رحمتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور گناہوں کی مغفرت کے مواقع عام ہو جاتے ہیں۔
لیکن افسوس کہ آج بعض لوگ رمضان المبارک کو محض صبر و برداشت کا مہینہ سمجھنے لگے ہیں، گویا یہ صرف بھوک اور پیاس سہنے کا نام ہو۔ حالانکہ سوال یہ ہے: کیا رمضان واقعی صرف برداشت کرنے کا مہینہ ہے؟
درحقیقت روزہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ صبر، تقویٰ اور اپنے نفس پر قابو پانے کی عملی تربیت ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ روزہ کا مطلب سارا دن کھانے پینے سے رک جانا ہے، لیکن قرآن و حدیث کی روشنی میں روزہ ایک مکمل روحانی اور اخلاقی نظامِ تربیت ہے جو انسان کی ظاہری اور باطنی اصلاح کرتا ہے، اس کے دل کو پاکیزگی بخشتا ہے اور اس کی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
"یایھا الذین امنو کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون " (سورۃ البقرہ/183)
اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔
اس آیت کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ روزے کا اصل مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے اللہ کا خوف دل میں رکھ کر زندگی گزارنا، ہر حال میں اس کی رضا کو مقدم رکھنا اور گناہوں سے بچنا۔ اگر روزہ صرف بھوک برداشت کرنے کا نام ہوتا تو تقویٰ کی بات نہ کی جاتی۔ دراصل بھوک اور پیاس تو ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے نفس کو قابو میں رکھنا سیکھتا ہے۔
ایک حدیث میں ہے سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے "(صحیح بخاری) ۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف ظاہری بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ زبان، آنکھ، کان اور دل کو بھی گناہوں سے بچانا روزے کا حصہ ہے۔ اگر کوئی شخص سارا دن بھوکا پیاسا رہے مگر جھوٹ، غیبت، بدزبانی اور دھوکہ دہی سے باز نہ آئے تو اس کا روزہ روح سے خالی رہ جاتا ہے۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "الصيام جنة وحصن حصين من النار" (رواہ احمد)۔ یعنی روزہ جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے ڈھال اور ایک مضبوط قلعہ ہے۔ مطلب روزہ انسان کو گناہوں اور جہنم کی آگ سے بچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جس طرح ڈھال انسان کو دشمن کے حملے سے محفوظ رکھتی ہے، اسی طرح روزہ نفس اور شیطان کے حملوں سے حفاظت کرتا ہے۔ یہ حفاظت صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان اپنے اخلاق و کردار کی بھی حفاظت کرے۔
روزہ صبر کی عملی مشق ہے۔ بھوک لگنے پر کھانا سامنے موجود ہو اور پانی میسر ہو، مگر صرف اللہ کے حکم کی وجہ سے انسان خود کو روک لے، یہ صبر کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ یہی صبر زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی انسان کی مدد کرتا ہے۔ روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی خواہشات کے غلام نہ بنیں بلکہ ان پر قابو پائیں۔
مزیدیہ کہ روزہ ہمیں دوسروں کی تکلیف کا احساس بھی دلاتا ہے۔ جب انسان خود بھوک کی شدت محسوس کرتا ہے تو اسے غریبوں اور محتاجوں کا خیال آتا ہے۔ یہی احساس ہمدردی اور سخاوت کو جنم دیتا ہے۔ اسی لیے رمضان میں صدقہ و خیرات کا اہتمام بڑھ جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ روزہ برداشت کا نام ضرور ہے، لیکن صرف جسمانی برداشت کا نہیں بلکہ اخلاقی برداشت، نفسیاتی مضبوطی اور روحانی پاکیزگی کا بھی نام ہے۔ یہ نفس کی اصلاح، دل کی صفائی اور کردار کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ اگر روزہ ہمیں جھوٹ، غیبت، ظلم اور بددیانتی سے نہ روک سکے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
مختصر یہ کہ روزہ محض بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل تربیتی عمل ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے، اس کے اندر تقویٰ پیدا کرتا ہے اور اسے ایک بہتر انسان بناتا ہےیہی روزہ اور یہی وہ مہینہ ہے جو رب قدیر کے قریب کر دیتا ہے ۔ اللہ ربُّ العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس بابرکت مہینے کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں زیادہ سے زیادہ وقت عبادت، ذکر و تلاوت اور نیک اعمال میں گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!