پانچ ریاستوں کے انتخابات اور مسلمانوں کے سوالات!

سال 2026  ہندوستان کی سیاست کے حوالے سے اس لیے اہم ہے کہ اس میں پدوچیری کے بشمول پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات عمل پذیر ہونے والے ہیں جن میں مغربی بنگال اور تمل ناڈو جیسے دو بڑے اور اور کیرلا اور آسام جیسے دو متوسط درجے کے صوبے شامل ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان انتخابات کے اثرات نہ صرف ریاستی بلکہ قومی سطح پر بھی مرتب ہوں گے اور ہر ذات و برادری کے لوگ اس کے نتائج کے ذمہ دار ٹھہریں گے۔ لہٰذا ہر شخص کو اپنے مفاد اور خواہش کے مطابق رزلٹ کا لطف اٹھانے کے لیے ابھی سے کام شروع کرنا ہوگا اور ٹھوس حکمت عملی تیار کرنی ہوگی کیوں کہ مارچ سے مئی کے دوران ہونے والے اِن انتخابات کی تاریخوں کا علان اب کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔

  مشرقی ہندوستان سے لے کر جنوب تک ملک کے مختلف صوبوں میں عنقریب واقع ہونے والا یہ چناؤ جہاں اکثریتی طبقہ کے لیے نہایت اہم ہے وہیں یہ مسلم اقلیت یا ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کے مستقبل کا خاکہ بھی طے کرے گا۔ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ملک بھر میں مسلمانوں کے ساتھ وقفہ در وقفہ جو کچھ گھٹا ہے وہ انتہائی مایوس کن ہے۔ اس سے نہ صرف مسلمانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے بلکہ ہندوستانی جمہوریت بھی شرمسار سی ہو کر رہ گئی ہے۔ بعض نام نہاد ہندوتوا کے علمبردار مسلم دشمنی میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ انھیں انسانیت کا سبق بھی یاد نہیں رہا۔ کچھ بی جے پی رہنماؤں کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس ملک کا شہری تک نہیں گردانتے۔ حالاں کہ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘ انھیں کے سپریم لیڈر اور آقا مودی جی کا نعرہ تھا۔ یہ لوگ مسلمانوں کا نہیں کم از کم اپنے آقا کے قول کا تو بھر م رکھ لیتے۔

لیکن اب فضا اتنی مکدر ہو گئی ہے کہ بی جے پی اور اس کی ہم زبان پارٹیوں کے کسی بھی لیڈر سے کسی بھی خیر کی توقع رکھنا نری حماقت کے سوا کچھ نہیں کیوں کہ ملک میں سینکڑوں ایسے لیڈر ہیں جن کی سیاسی ساکھ فقط مسلمانوں پر بہتان تراشی اور دشنام طرازی کے بھروسے ٹکی ہوئی ہے۔ ان حالات میں ملک کی مسلم کمیونٹی کی انتخابی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہندوستان ایک کثیر ریاستی ملک ہے جن میں یکے بعددیگرے مسلسل چناؤ ہوتے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے حق اور بقا کی لڑائی لڑنے کے لیے ہر ہر چناء میں مستعدی اور ایکٹیو پارٹیسیپیشن کا مظاہر ہ کرنا ہوگا ورنہ اپنی ہلاکت پر رونے کے لیے کاندھا بھی شاید انھیں مشکل سے ملے۔

 جن ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں ان میں صرف آسام ہی بی جے پی کے قبضے میں ہے، باقی چار ریاستوں پر دیگر پارٹیوں کا قبضہ ہے۔ آسام در اصل ایک عرصے سے کٹر ہندوتوا کی تجربہ گاہ بنا ہوا ہے۔ وزیر اعلی ہیمنتا بسوا سرما جو کبھی کانگریس کے قد آور اور اہم چہروں میں ایک تھے نے بی جے پی کا دامن تھامنے کے بعد خود کو پیدائشی بھاجپائی ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ وہ بہت پہلے سے نفرت کی بھاشا بول رہے ہیں اور ریاست کے مسلمانوں کو تنگ کر رہے ہیں۔ اس سے ریاست کی ترقی کی راہیں کھلیں نہ کھلیں ان کے آقاؤں کی نظر میں ان کے بھاری کرپشن کے الزامات اور سزا کے راستے ضرور بند ہو رہے ہیں۔ اس نفرت کے کاروبار میں ان کا فائدہ ہی فائدہ ہے کیوں کہ ایک طرف جہاں ہندو ووٹ بینک خوش ہو رہا ہے وہیں یہ اپنی تجوریاں بھی بہ آسانی بھر رہے ہیں۔

امسال کے آسام کا چناؤ ریاست کے مسلمانوں کے لیے کرو یا مرو کا معاملہ ہے۔ کیوں کہ بی جے پی کی پھر سے واپسی کی صورت میں مسلمانوں کے تئیں اس کے رویّے میں سختی کے صد فی صد امکانات ہیں۔ اس لیے ریاست بھر کے مسلم لیڈران اور دانشوروں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور حالیہ چناؤ کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط و مستحکم لائحۂ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ اور ریاست کے انچالیس سے چالیس فی صد مسلمانوں کے لیے بھاجپا حکومت کو اکھاڑ پھینکنا کوئی دشوار بات نہیں ہے۔ ریاست کے کل 35 اضلاع میں سے قریب دس ضلعوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں جو کسی بھی امیدوار کی قسمت کا فیصلہ آسانی سے کر سکتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان کے ووٹ منقسم ہونے سے بچ جائیں۔ اگر بی جے پی کے خلاف ایک ہی امیدوار کو یک مشت ووٹ جائیں تو آسام میں حکومت کی تبدیلی کے خواب کو حقیقت میں بدلتے دیر نہیں لگے گی۔

 ممتا بنرجی کی اگوائی میں مغربی بنگال ایک مدت سے منافرت، ہندووادی اور سنگھی کٹّرتا کے خلاف رہا ہے، اور اس نے کئی بار زعفرانی پارٹی کو ہزیمت و ذلت کے کڑوے گھونٹ پلائے اور انھیں چناوی داؤ پیچ میں مات دے کر گھٹنوں پہ لا کھڑا کیا ہے۔ مودی اور امیت شاہ تک کو اس نے ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ اگرچہ ممتا دیدی کی عمر کے برخلاف ان کے تیور ابھی بھی جوان ہیں اور ایک بار پھر وہ بی جے پی سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار ہیں مگر بی جے پی سے کسی طرح کی بھلائی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ وہ چناؤ جیتنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے اور اس دفعہ تو وہ گزشتہ کئی شکستوں کا حساب برابر کرنے کے موڈ میں ہے، اس لیے ترنمول کانگریس اور اس کی ہمنوا پارٹیوں کو کچھ زیادہ ہی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ احتیاط صرف پارٹیوں کو نہیں بلکہ ریاست کے مسلمانوں کو بھی کرنا ہے کیوں کہ بنگال میں اگر تختہ پلٹ ہوتا ہے تو اوروں کے لیے تو فقط حکومت بدلے گی مگر مسلمانوں کے لیے ان کا مستقبل بدل سکتا ہے۔

 تمل ناڈو میں تو حالات نسبتاً بہتر ہیں۔ یہاں ایم کے اسٹالن کی رہنمائی میں ڈی ایم کے اور اس کی حامی پارٹیوں کی سرکار ٹھیک ٹھاک پوزیشن میں ہے۔ اگرچہ مسلمانوں سے منافرت کے حوالے سے بشمول کانگریس کے کوئی بھی پارٹی دودھ کی دھلی نہیں ہے مگر ساؤتھ میں ایک حد تک راحت ہے۔ اس بنا پر کہ یہاں عوام کی فلاح و بہبود اور ہمہ جہت ترقی پر مبنی سیاست ہوتی ہے اور یہاں کی عوام بھی کافی سلجھی ہوئی اور سیاست کو لے کر قدرے سنجیدہ نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بانٹنے والی راج نیتی راہ نہیں پاتی اور نیتا عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ تاہم پدوچیری اگرچہ ۳۳ اراکینِ اسمبلی پر مشتمل ایک چھوٹی سی یونین ٹیریٹری ہے مگر زعفرانی پارٹی نے اپنی موجودگی وہاں بھی درج کرا رکھی ہے اور ابھی باضابطہ وہاں کی سرکار کا حصہ ہے۔

رہی بات کیرلا کی تو طویل عرصے سے اس ریاست کو بی جے پی سے پاک تصور کیا جاتا تھا جس کا ایک بھی رکن اسمبلی موجود نہیں تھا   مگر 2016 کے اسمبلی انتخابات میں یہ بھرم بھی اس وقت ٹوٹتا نظر آیا جب او راجہ گوپال نے پہلی بار نیموم اسمبلی سیٹ سے کامیابی حاصل کی اور بی جے کی طرف سے ریاست کے پہلے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ 2012 کے اسمبلی چناؤ میں اگرچہ پھر سے کیرلا کی اسمبلی بی جے مکت ہو گئی مگر اس کے قریب ڈھائی سال بعد ہی یعنی 2024 میں ایکٹر سریش گوپی نے کرشماتی طور پر لمبی جست لگاتے ہوئے سیدھا لوک سبھا کی سیٹ پر قبضہ کر لیا اور یوں اسمبلی سیٹ کا خلا پارلیمنٹ کی سیٹ سے پر ہو گیا۔ اگرچہ ایک آدھ اسمبلی یا پالوک سبھا سیٹ سے سیاست پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا مگر بلندیاں چڑھنے کے لیے بنیاد تو بہرحال ضروری ہوتی ہے۔

 لہٰذا ان انتخابات میں متعلقہ ریاستوں کے مسلمان کس بنیاد پر شرکت کریں گے اور کن ترجیحات کو مدِ نظر رکھیں گے یہ سوال ابھی بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ الیکشن کا نتیجہ جو بھی ہو مگر ایک بات تو طے ہے کہ اگر یہ مسلمانوں کے حق میں نہیں آیا اور آسام کے ساتھ ساتھ بنگال بھی بی جے پی کی جھولی میں جا گرا اور جنوب میں بھی اس نے اپنے قدم مزید مضبوط کر لیے تو ممکن ہے کہ آئندہ چند دہائیوں تک اس ملک کے مسلمان بھاجپا اور آر ایس ایس کی بالادستی کے حصار سے باہر نہ نکل سکیں۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter