روزہ: حصولِ تقوی اور کسر نفس کی عملی مشق!
ماہِ رمضان المبارک اپنی پوری آب وتاب اور رعنائیوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہو چکا ہے۔ یہ مہینہ یوں تو تمام تر عبادات وریاضات کا مہینہ ہے جن کے ذریعے انسان کی روحانی تربیت ہوتی ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہوتا جاتا ہے مگر اس مبارک مہینے میں تین باتوں کا خاص طور سے لحاظ کیا جاتا ہے۔ بلفظ دیگر رمضان کا مقدس مہینہ تین باتوں کی خصوصی مشق کراتا ہے۔ اور تینوں ہی چیزیں کرنے سے نہیں بلکہ چھوڑنے یعنی ترک کرنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا ترک کرنا ہی عبادت ہے، کیوں کہ عبادت محض کچھ کرنے کا نہیں بلکہ بسا اوقات بعض اشیاء کے چھوڑنے کا بھی نام ہے۔
جب کسی شے کے ترک کرنے کی بات آتی ہے تو عام طور سے ہمارا ذہن ’شجر ممنوعہ‘ کی طرح اشیائے ممنوعہ جیسے بدزبانی، بد نگاہی شراب، زنا، چوری وغیرہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ مگر خاکسار جن باتوں کی طرف دھیان کھینچنا چاہتا ہے وہ ممنوعہ نہیں بلکہ مباح اور حلال چیزیں ہیں۔ جی ہاں! ماہِ رمضان میں تین جائز اور حلال چیزوں سے خود کو دور رکھنے کی باضابطہ تربیت کی جاتی ہے۔ یہ وہ تین چیزیں ہیں جن کی طرف نفسِ انسانی سب سے زیادہ جھکاؤ محسوس کرتا ہے اور انہی تین چیزوں سے احتراز اور ان پر کنٹرول اس مہینے کی اصل روح ہے:
اول: کھانا پینا۔ آج قدرت نے اپنے خزانے کھول رکھے ہیں۔ ہر جا اشیائے خورد ونوش کی بہتات ہے۔ تنگی اور بے سروسامانی کا زمانہ کب کا رخصت ہو چکا ہے۔ انسان نے قسم قسم کے پکوان اور بھانت بھانت کے ذائقے ایجاد کر لیے ہیں اور اپنی مرضی سے ہر طرح کا سواد چکھتا ہے، ہر قسم کی غذائی لذت کا لطف اٹھاتا ہے۔ اور الحمد للہ یہ ساری چیزیں اس کے لیے حلال بھی ہیں تاوقتیکہ وہ لقمۂ حرام سے ہاتھ روکے رکھے۔
دوم: جماع کرنا۔ اپنی زوجہ سے مجامعت ایک جائز عمل ہے جس پر آدمی کو اجر بھی عطا کیا جاتا ہے۔ انسان کے اندر شہوت فطری طور پر ودیعت کی گئی ہے اور جسے وہ بڑی شدت سے محسوس کرتا ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ یہ انسانی نسل کی بقا کا ضامن بنتی ہے۔ لہذا انسان کے لیے یہ نہ صرف حصولِ لذت و سکون کا ذریعہ ہے بلکہ نظامِ دنیا کے تسلسل کے لیے ضروری بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اہمیت و افادیت سے انکار کسی صورت ممکن نہیں۔
سوم: نیند یعنی سونا۔ انسان کو تازہ دم رہنے کے لیے نیند بے حد ضروری ہے۔ یہ نہ صرف اس کے جسم کو راحت پہنچاتی ہے بلکہ اس کے بدن کو مضبوط اور ذہن کو توانا کرتی ہے۔ اس لیے تمام ضروری کاموں کی طرح ہر روز اچھی مقدار میں نیند لینا بھی واجب ہے۔ یہ اللہ تعالی کی تخلیق کردہ عظیم نعمت ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا: ’وجعلنا نومکم سباتا‘ یعنی تمھاری نیند کو جسموں کے آرام کا ذریعہ بنایا۔ سویہ بھی ایک حلال چیز ہے اور اس کی افادیت بھی مسلم ہے۔
انسان کی یہی تین انتہائی محبوب چیزیں ہیں جنھیں ترک کرنے یا جن سے خود کو روکے رکھنے کی رمضان ترغیب دیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر کیوں خدائے ذو المنن رمضان کے مہینے میں ان چیزوں سے باز رہنے کا حکم فرمایا ہے حالاں کہ یہ از روئے شرع حلال ہیں؟ اس کا جواب نہایت لطیف ہے اور اس کی حکمت سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ در اصل خالق کائنات اپنے بندوں کو جائز اور حلال چیزوں سے پرہیز کی مشق کرا کے انھیں یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ جب تم حلال اور نفیس چیزوں کو چھوڑ سکتے ہو تو حرام اور قبیح کو کیوں نہیں؟ حلال چیزوں سے رکنا در اصل حرام چیزوں سے رکنے کی مشق ہے۔ کیوں کہ تیس دن تک لگاتار جب ایک شخص بھوک و شہوت کی آگ میں جلتا ہے اور میٹھی نیند کو قربان کرتا ہے تو اس میں نفس پر قابو پانے اور خواہشات کو مات دینے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی صلاحیت کا استعمال وہ منہیات سے بُعد اختیار کرنے کے لیے کر سکتا ہے یا یوں کہیں کہ اب گناہوں سے بچنا اس کے لیے نسبتا سہل ہو جاتا ہے۔
کھانے سے جہاں جسم طاقتور ہوتا ہے اور روح کمزور ہوتی ہے وہیں کھانا ترک کرنے سے جسم کمزور پڑتا ہے اور روح قوت پاتی ہے۔ یعنی اگر جسم کی غذا کھانا ہے تو روح کی غذا اس کا ترک کرنا ہے۔ اور روزے ہمیں اسی چیز کی پریکٹس کراتے ہیں۔ لہذا رمضان کا مہینہ ہمیں اسی نیت سے گزارنا چاہیے کہ جس جسم کو ہم نے گیارہ مہینے متعدد غذاؤں سے طاقت دی ہے اب اسے پست کیا جائے اور روح کی تقویت پر کام کیا جائے، گو رمضان میں اصل محنت روح پر کرنی چاہیے۔ مگر آج کے مسلم معاشرے کا حال اس کے ٹھیک الٹ ہے۔ رمضان کو بھی اس نے کھانے پینے کا مہینہ بنا رکھا ہے کیوں کہ روزے کے اوقات کے علاوہ کھانے پینے کا وہ اہتمام ہوتا جس کا دیگر مہینوں میں شاذ و نادر ہی ہوتا ہو۔ جدید دور میں افطار پارٹیوں کا الگ ہی رنگ ہوتا ہے اور پھر شہروں میں آدھی آدھی رات تک پرتکلف ڈنر کا پروگرام، وہ بھی جشن کی صورت میں اس پر مستزاد بلا ہے۔
یاد رکھیں کہ روزے کسرِ نفس اور اختیارِ تقوی کے لیے فرض کیے گئے۔ جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا ’لعلکم تتّقون‘ یعنی تاکم تم تقوی اختیار کرو اور پرہیزگار بن جاؤ۔ اور تقوی اسی صورت میں ممکن ہے کہ نفس کو کثرت طعام اور پرلطف غذاؤں سے دور رکھا جائے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایام رمضان میں صرف اوقات روزہ ہی میں کھانا ممنوع ہے، باقی اوقات میں کوئی پابندی نہیں۔ یہ خام خیالی ہے کیوں کہ اس سے روزے کی اہمیت اور حکمت دونوں متاثر ہوتی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ رمضان کے فیوض و برکات جس طرح اوقات روزہ میں ملتے ہیں اسی طرح افطار کے بعد بھی بدستور حاصل ہیں۔ ماہِ رمضان کا کوئی بھی لمحہ برکتوں سے خالی نہیں۔ ایسا محض روزے کی بدولت ہے۔ لہذا بعدِ افطار بھی جسم کو اتنی ہی غذا دیں کہ جس سے روزے کی حکمت اور اس کی اصل متاثر نہ ہو سکے، اور روزے کی اصل ہے طعام و شراب سے پرہیز۔
اوقاتِ روزہ میں انسان کو اپنی زوجہ سے حلال تعلق قائم کرنے سے بھی اسی حکمت کے تحت روکا گیا ہے۔ نفس شہوانی خواہشات پر بڑی سرعت سے آمادہ ہوتا ہے، اس لیے اسے بھی اس سے دور رہنے کی مشق کرائی جاتی ہے تاکہ وہ حرام تعلقات پر جری نہ ہو اور اس بات کو سمجھے کہ جس طرح حلال تعلق سے پرہیز ممکن ہے اسی طرح حرام تعلق سے بھی دوری بنائی جا سکتی ہے۔
رمضان المبارک میں انسان کی نیند بھی قدرے متاثر ہوتی ہے۔ کچھ تراویح کی وجہ سے اور پھر سحری کے سبب۔ بعض جانوں پر یہ بڑا گراں گزرتا ہے۔ کچھ لوگ اسے بلاوجہ کی تکلیف گردانتے ہیں۔ مگر یہی تو رمضان کی اصل حکمت ہے، یہی کسرِ نفس کا اصل نسخہ ہے۔ اسی سے نفس کو راتوں کو جاگنے کی تلقین ملتی ہے۔ اور یہ بات حقیقت ہے کہ راتوں کو جاگنے ہی سی بلندیاں نصیب ہوتی ہیں۔ کسی شاعر نے کہا تھا: ’ومن طلب العلی سہر اللیالی‘ یعنی عروج پانے کی تمنا رکھنے والے راتوں کو جاگتے ہیں۔ سحری کا کھانا جہاں آخر شب میں سنت ہے وہیں وقتِ سحر کا اپنا مقام ہے۔ رات کا آخری حصہ اور صبح صادق کا وقت بڑا مبارک وقت ہے۔ یہ دونوں اوقات اتنے اہم ہیں کہ اللہ تعالی نے دونوں کی قسم ’والفجر‘ اور ’واللیل اذا یسر‘ کے الفاظ کے ذریعے ارشاد فرمائی ہے، جس کے معنی ہیں ’صبح کی قسم‘ اور ’اور رات کی جب وہ چل پڑے‘۔ اس کے علاوہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ہے کہ ’اے اللہ! میری امت کے لیے دن کے ابتدائی حصے میں برکت عطا فرما‘۔
خلاصہ ہوا کہ یہ ساعتیں بڑی ہی برکت والی ہیں، اور یہ بھی پتہ چلا کہ سرکار نے سحری کو آخر وقت میں بیدار ہو کر کیوں کھانے کی تلقین کی ہے۔ انسان اگر آخر شب کے بجائے بارہ ایک بجے ہی کھانا کھا کر سو جائے تو غالب گمان ہے کہ وہ نمازِ فجر مِس کر جائے، مگر آخری وقت میں اٹھ کر سحری کرے تو عین ممکن ہے کہ بندہ تہجد بھی پا لے اور فجر بھی۔بلاشبہ ان اوقات کا میسر آنا اور ان میں اپنے خالق سے مناجات کر لینابڑی قسمت کی بات ہوتی ہے۔ علامہ اقبال نے کہا:
عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی!!!
لہذا حصول تقوی اور کسرِ نفس جو رمضان المبارک کا اصل منشا اور حقیقی مقصد ہے اس کا حصول اسی صورت ممکن ہے کہ ان مبارک ایام میں ہم خود کو غیر ضروری غذاؤں، خواہشات نفسی اور لذّتِ خواب سے دور رکھیں۔ جب جسم پر ان چیزوں کا بوجھ ڈالا جائے گا تو نفس پر دباؤ پڑے گا اور روح بالیدہ ہوگی جو دنیا و آخرت میں سرخروئی کا سبب بنے گی۔ اللہ تعالی ہمیں رمضان کی حکمتوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بخشے، آمین۔