امام احمد رضا اور تصوّرِ تعلیم (قسط-1)

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی محدث بریلوی عالم و فقیہ، محدث و مفسر اور ادیب و شاعر تھے۔ علومِ عقلیہ و نقلیہ پر کامل دسترس رکھتے تھے۔ جدید و قدیم علوم و فنون میں یگانۂ روزگار تھے اور ایک ماہرِ تعلیم بھی۔ 

    آپ کی ولادت ۱۰؍ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ مطابق ۱۴؍ جون ۱۸۵٦ء کو شہر بریلی ( یوپی) کے ایک معزز گھرانے میں ہوئی۔ والد ماجد مولانا نقی علی خان بریلوی (م ۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء) اپنے عہد کے عظیم مفتی اور صفِ اول کے مصنف و مصلح تھے۔ فقاہت میں بلند پایہ مقام رکھتے تھے، اپنے والد مولانا رضا علی خاں بریلوی (م ۱۲۸۲ھ / ۱۸۶۶ء ) کی طرح انگریزوں سے سخت نفرت رکھتے تھے۔ امام احمد رضا نے جملہ علوم و فنون کی تحصیل اپنے والد ماجد اور گھریلو اتالیق سے کی۔ بعض علما سے استفادہ فرمایا جن میں مولانا سید ابوالحسین احمد نوری مارہروی (م۱۹۰۶ء) اور مولانا عبدالعلی رامپوری (م۱۸۸۵ء) سر فہرست ہیں۔ بعض ابتدائی درس مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی (م ۱۹۱۷ء) سے لیے بعد میں وہ خودامام احمد رضا سے استفادہ کرنے لگے۔ 

    امام احمد رضا علوم وفنون کے بحرِ بیکراں تھے۔ اپنے ٥٤؍ علوم کا تذکرہ خود فرمایا۔ اکیس علوم اپنے والد ماجد سے حاصل کیے، وہ علوم جو اساتذہ سے نہیں پڑھے لیکن نقاد علماے کرام سے اجازت حاصل فرمائی دس شمار ہوتے ہیں۔ وہ علوم جنہیں کتب بینی اور فکر و نظر کے استعمال سے حل فرمایا ان کی تعداد چودہ ہے۔ اسی طرح نو علوم اور شمار کرائے ہیں جن کی تعلیم بھی کسی استاذ سے نہیں لی۔ 

    عصرِ جدید میں علم و فن کا شہرہ ہے، لیکن خود نمائی و جاہ طلبی کا عنصر غالب آگیا ہے- فخر وغرور کا یہ عالَم کہ ایک علم میں درک رکھنے والا دوسروں کو حقیر گمان کرتا ہے۔ گویا علم کا حصول بھی ’’برتری‘‘ کے جذبہ کے تحت کیا جا رہا ہے۔امام احمد رضا ٥٤؍ علوم کے جاننے والے ہی نہیں بلکہ ان علوم کے ہر جزیے اور پہلو پر تعمق و مہارت رکھتے تھے- اسے اللہ عزوجل کی عنایت سمجھتے تھے اور تشکر بجالاتے۔ ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں:

    ’’میرا یہ دعویٰ بھی نہیں کہ ان (علوم) میں اور ان کے علاوہ دیگر حاصل کردہ فنون میں بہت بڑا ماہر ہوں۔ میں تو اپنی انتہائی کوشش یہ سمجھتا ہوں کہ ان علموں سے کچھ حصہ نصیب ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے سوال ہے کہ وہ مزید برکت فرمائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر فن کے معمولی طالب علم کو مجھ پر غلبہ ہے لیکن مولیٰ سبحانہ و تعالیٰ جسے چاہتا ہے بلند کرتا ہے جسے چاہتا ہے گراتا ہے۔‘‘  ۱؎
دارالعلوم منظر اسلام کا قیام اور درس و تدریس:

    امام احمد رضا نے درسیات سے فراغت کے بعد ہی منصبِ افتا کو زینت بخشی۔ کچھ عرصہ طلبہ کو پڑھایا۔ پھر تصنیف و تالیف اور کثرتِ کار کے سبب تدریس کا سلسلہ منقطع ہوگیا البتہ مخصوص شاگردوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رہا۔ اس لحاظ سے آپ کے تلامذہ ہند و پاک، بنگلہ دیش، حجاز مقدس اور عرب و افریقہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ 

    ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء میں شہر بریلی میں آپ نے ’’دارالعلوم منظر اسلام‘‘ قائم فرمایا۔ فرزند اکبر مولانا محمد حامد رضا خان ( م ۱۹۴۳ء) اس کے مہتمم اوّل مقرر ہوئے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رقم طراز ہیں: 

    ’’امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمۃ نے تحریر کے ساتھ ساتھ کچھ عرصہ تدریس کو بھی ذریعۂ تعلیم و تبلیغ بنایا، وہ دارالعلوم منظر اسلام کے بانی تھے انہوں نے یہ دارالعلوم اس وقت قائم کیا جب دُشمنِ اسلام حاکموں نے سنی مسلمانوں کے لئے عرصۂ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ ایک مثالی دینی مدرسے کے بانی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اخلاص ہو، وہ فکرِ صحیح کا مالک ہو، تعلیم کے بارے میں اس کے نظریات واضح اور مفید ہوں۔ جب ہم امام احمد رضا کی حیات و تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں ہم کو ان کے ہاں یہ ساری خوبیاں نظر آتی ہیں، اور دل گواہی دیتا ہے کہ کسی بھی مثالی دینی ادارے کا بانی ہو تو ایسا ہو۔‘‘ ۲؎

    پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کے مطابق امام احمد رضا نے درسیات سے فراغت کے بعد گھر پر ہی چند سال طلبہ کو پڑھایا، پھر کچھ عرصہ دارالعلوم منظرِ اسلام میں بھی پڑھایا اور بعد میں گونا گوں علمی مصروفیات کی وجہ سے گھر پر صرف مخصوص طلبہ کو مخصوص علوم و فنون کا درس دیتے رہے۔ 

حوالہ جات:

(۱)احمد رضا خان، امام، الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ و المدینۃ، مشمولہ رسائل رضویہ، مطبوعہ ادارہ اشاعت تصنیفات رضا بریلی، ص۱۶۳

(۲) محمد مسعود احمد، پروفیسر ڈاکٹر، دارالعلوم منظر اسلام، مطبوعہ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ۲۰۰۱ء، ص ۶۔۷
٭٭٭
شذرہ: ١٠ شوال یومِ ولادتِ اعلیٰ حضرت کی مناسبت سے یہ مقالہ سلسلہ وار پیش کیا جا رہا ہے- (٥ مئی ٢٠٢٢ء) 

(بقیہ آئندہ)

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter