یو جی سی (UGC) اور مراعات یافتہ طبقے کی بے چینی
آج یہ سوال خود سے پوچھنا ضروری ہے کہ آخر یو جی سی(UGC) کے حالیہ ضوابط پر اتنا واویلا کیوں مچایا جا رہا ہے؟ بھارت میں شاید ہی کوئی ایسا تعلیمی ادارہ ہو جو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، یعنی یو جی سی (UGC) کی ہدایات سے بالاتر ہو۔ یہ وہ آئینی اور قانونی ادارہ ہے جو ملک کے اعلیٰ تعلیمی ڈھانچے کو نہ صرف مالی وسائل فراہم کرتا ہے بلکہ اس کے ذریعے یونیورسٹیوں، کالجوں اور تحقیقی اداروں کے لیے معیار، نظم و ضبط اور انصاف کے اصول بھی متعین کیے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یو جی سی (UGC) کی ہدایات محض کاغذی ضوابط نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی سمت طے کرتی ہیں۔ حال ہی میں یو جی سی (UGC) کی جانب سے جو ضوابط سامنے آئے انہیں بظاہر مساوات اور امتیاز کے خاتمے کے نام سے جوڑا جا رہا ہے مگر ان کے پس منظر میں ایک طویل، تکلیف دہ اور خونچکاں جد وجہد پوشیدہ ہے۔ یہ جد وجہد ان طالب علموں کی ہے جنہوں نے علم، محنت اور صلاحیت کے بل پر اعلیٰ تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل کی مگر وہاں انہیں ذات پر مبنی تعصب، ادارہ جاتی بے حسی اور مسلسل ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ روہت ویمولا اور پائل تڑوی جیسے نام محض دو افراد کی کہانیاں نہیں بلکہ وہ پورے نظام پر ایک فردِ جرم ہیں۔ ان کی خودکشیاں کسی لمحاتی کمزوری کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ اس زہریلے ماحول کی پیداوار تھیں جہاں طالب علم کو اس کی قابلیت سے نہیں بلکہ اس کے خاندانی نام اور ذات سے پرکھا جاتا ہے۔ ان طالب علموں کے اہلِ خانہ نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے صرف اپنے بچوں کے لیے انصاف نہیں مانگا بلکہ اس پورے ڈھانچے کو کٹہرے میں کھڑا کیا جو صدیوں پرانے طبقاتی فرق کو جدید اداروں کے خوبصورت نعروں کے پیچھے چھپاتا آیا ہے۔ بالآخر یہ آوازیں عدالتِ عظمیٰ تک پہنچیں۔ سپریم کورٹ نے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کیا کہ تعلیمی ادارے بھی سماج سے الگ کوئی جزیرہ نہیں ہیں بلکہ وہی ذات پات، وہی امتیاز اور وہی طاقت کے رشتے یہاں بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ اسی تناظر میں عدالت نے یو جی سی (UGC) کو ہدایت دی کہ وہ ذات پر مبنی امتیاز کے خلاف واضح ضوابط بنائے، ذہنی صحت کی خدمات کو سماجی حقیقتوں کے مطابق حساس بنایا جائے اور اداروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
غور کیجیے کہ جیسے ہی یہ ضوابط منظرِ عام پر آئے پورے ملک میں ایک شور برپا ہوگیا۔ طلبہ احتجاج کر رہے ہیں، کچھ اساتذہ اور افسران انہیں غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں اور حیرت انگیز طور پر وہ حلقے بھی سراپا احتجاج ہیں جو برسوں سے یہ دعویٰ کرتے آئے تھے کہ ملک میں ذات پات کا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کل تک بڑے فخر سے نعرے لگاتے تھے کہ سب ہندو ایک ہو جاؤ اور معاشرتی تقسیم کو محض سیاسی سازش قرار دیتے تھے۔ آج انہی لوگوں کو یو جی سی (UGC) کے ضوابط میں تفریق اور ناانصافی نظر آرہی ہے۔ یہ تضاد دراصل اسی نظام کا اصل چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک ذات کو نام نہیں دیا جاتا، امتیاز کو قانونی زبان میں تسلیم نہیں کیا جاتا تب تک اکثریت کو سب کچھ نارمل اور فطری لگتا ہے۔ مگر جیسے ہی کمزور اور حاشیے پر موجود طبقات کے تحفظ کی بات ہوتی ہے ویسے ہی شور مچ جاتا ہے۔ اس شور کے پیچھے وہی پرانی سوچ کار فرما ہے جو ریزرویشن، سماجی انصاف اور نمائندگی کے خلاف ہمیشہ سرگرم رہی ہے۔ یہاں دورِ حاضر کی سیاست کو نظر انداز کرنا بھی خود فریبی ہوگی۔ بی جے پی (BJP) اور اس کے نظریاتی حلیف برسوں سے ایک طرف سب کا ساتھ، سب کا وکاس جیسے نعرے لگاتے آئے ہیں اور دوسری طرف ایسے سماجی اقدامات پر خاموشی یا مبہم رویہ اختیار کرتے رہے ہیں جو واقعی کمزور طبقات کو تحفظ دے سکیں۔ سوال یہ ہے کہ جب تعلیمی اداروں میں دلت، آدیواسی اور دیگر پسماندہ طبقات کے خلاف نفرت، ہراسانی اور امتیاز کے واقعات مسلسل سامنے آتے رہے تو حکومت اتنے برسوں تک کیوں خاموش رہی؟ کیوں کوئی مضبوط قانون یا مؤثر ضابطہ پہلے نہیں لایا گیا؟ کیوں ہزاروں طالب علموں کو ایک ایسے ماحول میں جینے پر مجبور کیا گیا جہاں ان کی ذات ان کے لیے بوجھ بن جاتی تھی؟ اب جب عدلیہ کی مداخلت کے بعد یو جی سی( UGC) نے کچھ قدم اٹھائے ہیں تو مخالفت کا طوفان اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ ضوابط کا نہیں بلکہ طاقت اور مراعات کے چیلنج ہونے کا ہے۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ صدیوں سے قائم استحصال کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔ انہیں یہ خوف ستا رہا ہے کہ اگر اداروں میں جواب دہی آگئی اور امتیاز کو قانونی طور پر تسلیم کر لیا گیا تو وہ محفوظ حصار ٹوٹ جائے گا جس میں اعلیٰ تعلیمی ادارے آج بھی قید ہیں۔ اس سب کے باوجود یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ یو جی سی (UGC) کے ضوابط حرفِ آخر نہیں ہیں۔ ان میں خامیاں ہو سکتی ہیں، انہیں بہتر بنانے کے لیے وسیع مشاورت اور عملی تجربے کی روشنی میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ جنرل کیٹیگری کے طلبہ کی مشکلات کو بھی سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔ مگر یہ دونوں چیزیں برابر نہیں ٹھہرائی جا سکتیں۔ چند دہائیوں کی مسابقتی پریشانیوں کو صدیوں پر محیط ذات پر مبنی تشدد اور تحقیر کے برابر رکھنا خود ناانصافی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ یو جی سی (UGC) نے ضوابط کیوں بنائے بلکہ سوال یہ ہے کہ انہیں اتنی دیر سے کیوں بنانا پڑا۔ یہ ضوابط ایک کم از کم اخلاقی ذمہ داری کی یاد دہانی ہیں کہ کوئی بھی طالب علم صرف اپنی ذات کی بنیاد پر دباؤ، ہراسانی یا زندگی کے خاتمے پر مجبور نہ ہو۔ اگر اس سچ نے کچھ لوگوں کو بے چین کر دیا ہے تو شاید مسئلہ ضوابط میں نہیں بلکہ اس سماج میں ہے جو آج بھی برابری کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے سے گھبراتا ہے۔ کیوں کہ اصل مسئلہ یو جی سی (UGC) کے ضوابط نہیں بلکہ وہ طرزِ حکمرانی ہے جس نے تعلیمی اداروں کو برسوں تک اپنی من مانی، اپنی طبقاتی ترجیحات اور اپنی خاموش ناانصافیوں کے حوالے کر رکھا ہے۔ آخر کب تک حکومتیں یہ تماشہ دیکھتی رہیں گی؟ کب تک تعلیمی اداروں کو اس بات کی کھلی چھوٹ حاصل رہے گی کہ وہ آئین کے نام پر تو فخر کریں مگر عمل میں آئین کی روح کو روندتے رہیں؟ کب تک یہ کہا جاتا رہے گا کہ یہ سب انفرادی واقعات ہیں نظامی خرابی نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے اعلیٰ تعلیمی ادارے آج بھی بڑی حد تک خود کو جواب دہ نہیں سمجھتے۔ یہاں کمیٹیاں بنتی ہیں، رپورٹیں دب جاتی ہیں، تحقیقات فائلوں میں دفن ہو جاتی ہیں اور متاثرہ طالب علم یا تو نظام سے ہار مان لیتا ہے یا پھر خاموشی سے اس نظام کا ایک اور عدد بن جاتا ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، نعرے بدلتے رہے مگر ادارہ جاتی ذہنیت کم و بیش وہی رہی: طاقتور محفوظ، کمزور مشکوک اور سوال اٹھانے والا باغی۔
یہ سچ ہے کہ جب تک عدالت عظمیٰ نے مداخلت نہ کی، تب تک حکومت اور یو جی سی (UGC) دونوں ہی ایک طرح کی بے حسی کا شکار رہے۔ اگر واقعی نیت صاف ہوتی اور ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ محض انتخابی جملہ نہ ہوتا تو روہت ویمولا اور پائل تڑوی جیسے واقعات کے بعد ہی ٹھوس، واضح اور مؤثر ضوابط سامنے آ جانے چاہیے تھے مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس تاخیر کی قیمت ان طالب علموں نے چکائی جن کے خواب کلاس رومز میں دم توڑ گئے، جن کی فائلیں تو آگے بڑھتی رہیں مگر زندگیاں پیچھے رہ گئیں۔ آج جب یو جی سی (UGC) کے ضوابط کے ذریعے پہلی بار اداروں کی خود مختاری پر ایک اخلاقی اور قانونی سوالیہ نشان لگایا گیا ہے تو شور مچنا دراصل اسی خود مختاری کے غلط استعمال کا اعتراف ہے۔ یہ شور اس بات کی علامت ہے کہ کچھ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ تعلیمی اداروں کے بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی ناانصافیاں منظرِ عام پر آئیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر جواب دہی کا دروازہ کھل گیا تو بہت سے معتبر سمجھے جانے والے چہرے بے نقاب ہو جائیں گے۔ یہاں حکومت کے لیے بھی اب دو ٹوک فیصلہ کرنے کا وقت ہے کہ یا تو وہ واقعی آئین کے ساتھ کھڑی ہو، یا پھر یہ واضح کر دے کہ اس کے نزدیک تعلیمی اداروں کی ساکھ طالب علموں کی جان سے زیادہ اہم ہے۔ اب مزید یہ عذر نہیں چل سکتا کہ سماج بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ سماج کو بدلنے کا سب سے مؤثر ہتھیار تعلیم ہے اور اگر تعلیم گاہیں ہی امتیاز کی تجربہ گاہ بن جائیں تو پھر تبدیلی کا خواب محض ایک فریب رہ جاتا ہے۔ یاد رکھیں کہ انصاف کو ٹالنا بھی ناانصافی ہی کی ایک شکل ہے۔ یو جی سی (UGC) کے ضوابط اگر آج واپس لے لیے گئے، کمزور کر دیے گئے یا محض رسمی بنا دیے گئے تو یہ صرف ایک پالیسی کی شکست نہیں ہوگی بلکہ اس آئین کی شکست ہوگی جس پر یہ ملک فخر کرتا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ حکومت کب ضوابط لاتی ہے سوال یہ ہے کہ کیا حکومت میں اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو آئین کے دائرے میں رہنے پر مجبور کرے؟ آخر میں یہی کہوں گا کہ کب تک طاقتور ادارے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے رہیں گے؟ کب تک طالب علم کی ذات اس کی سب سے بڑی کمزوری بنی رہے گی؟ اور کب تک حکومت خاموش تماشائی بن کر یہ کہتی رہے گی کہ سب ٹھیک ہے جب کہ حقیقت ہر روز کسی نہ کسی کی خاموش چیخ کی صورت میں سامنے آتی رہے گی؟ اگر اب بھی یہ سوال نہیں پوچھا گیا تو شاید کل پھر کسی اور طالب علم کا نام ایک اور ضابطے کی فائل میں درج ہو جائے گا اور ہم سب حسبِ معمول دیر سے جاگیں گے۔