تم نے منی پور میں میری ماں کی ہتیا کی ہے

ہندوستان کی تہذیب کے مطابق بھارت کو ماں کا سمان دیا جاتا ہے۔ اسی کو ہم اردو ادب میں مادر وطن سے تعبیر کرتے ہیں۔ وطن سے پیار کرنا، دیش واسیوں کی رکشا کرنا، وطن کی مان مریادا کی حفاظت کرنا دیش بھکتی کہلاتی ہے۔ اسی کو ہم حب الوطنی کہتے ہیں۔ ہندوستان چہار دانگ عالم میں اپنے جمہوری آئین اور سیکولر ملک ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں ہر طبقے اور ہر مذہب کو اپنی اپنی آزادی حاصل ہے۔ اقلیت کے حقوق کا تحفظ حکومت کے اولین فرائض میں سے ایک اہم فرض ہے۔ لیکن گزشتہ چودہ سال میں ہمارا یہ ملک جتنا بدنام ہوا ہے  اتنا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ چودہ سال میں کیا ہوا پوچھا جائیں تو دوٹوک جواب یہ ہوگا کہ فرقہ پرستی اور فرقہ واریت کے پودے کی آبیاری اور سیجائی کرکے ایک تناور درخت بنایا گیا۔ ہر دیش واسیوں کے دل میں نفرت، دشمنی، ہنسا، انتقام، قتل، غارتگری، عصمت دری،ظلم و بربریت کی تخم ریزی کی گئی۔ اقلیت پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ توڑ کر انکی قوت گویائی اور ناطقہ بند کردیا گیا ہے۔ کس سے اپنے ظلم کی درد بھری داستان سنائیں کیونکہ
وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹہرے
اقربا میرے کریں خون کا دعوی کس پر
قاتل کی یہ دلیل منصف نے مان لی
مقتول خود گرا تھا خنجر کی نوک پر
پھر وہی بات قصہ پُرانا نکلا 
حاکمِ وقت سے منصف کا یارانہ نکلا
شاعر نے جس واقعہ کو اپنی تخیلاتی دُنیا سے اٹھاکر اسے الفاظ کا پیراہن پہنایا اس کا تو ہمیں علم نہیں لیکن یہ شعر آج کے حالات کے تناظر میں کافی موزوں اور مناسب لگتا ہے۔بروز بدھ حزب مخالف کے نڈر اور شیردل قائد ورہنما راہل گاندھی نے بڑی ہمت و حوصلے کے ساتھ ایوان میں منی پور کے مسئلہ کو چھیڑا۔ اور منی پور اور ہریانہ میں جو خونچکاں فسادات ہورہے ہیں اس پر اپنا موقف اجاگر کرتے ہوئے ملک کے وزیراعظم کے مون ورت پر سوال اٹھایا اور ساتھ یہ کہا کہ "انہوں نے منی پور میں ہندوستان کی ہتیا کی ہے۔ ان کی رَاجنیتی میں منی پور کو نہیں ہندوستان کو منی پور میں مارا ہے۔ہندوستان کا قتل کیا ہے۔ملک کی آواز کی آپ نے ہتیا کی اس کا مطلب آپ نے منی پور میں بھارت ماتا کی ہتیا کی۔ منی پور کے لوگوں کو مارکر آپ نے بھارت کی ہتیا کی ہے۔"
اتنا سننا تھا کہ ایوان میں ہنگامہ برپا ہونے لگا۔ چاروں طرف سے صدائے احتجاج بلند ہونے لگی۔ آج تک ملک کے وزیراعظم کو اس پر کچھ بولنے یا ملزموں پر قانونی کاروائی کرنے کا وقت نہیں ملا۔ ملتا بھی کیسے موصوف کو ملک سے زیادہ بیرون ملک کے دورے سے فرصت تو ملے۔ منی پور کے بعد ابھی ہریانہ فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا ہے۔ بے گناہ افراد مارے جارہے ہیں۔ایوان میں ہنگامہ آرائی کے سوا کچھ ہو نہیں رہا ہے۔
منی پور میں جو دو عورتوں کے ساتھ درندگی کی گئی تھی اس سے پوری اقوام متحدہ مل کر بھارت پر تھوک رہی ہیں۔ اس دلخراش ودلسوز واقعہ نے پوری انسانیت کو شرمسار کرکے رکھ دیا۔ ہم بھارتی کہیں اور کسی کے سامنے منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے۔ نوک قلم بھی منی پور کی درد بھری داستان لکھتے وقت غمگین و افسردہ ہے۔ جس کے سینے میں بھی دل ہے وہ آنسو نہیں بلکہ خون کو اشک کی شکل میں بہارہا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے بھاجپا کے جتنے وزراء وارکان لوک سبھا میں ہیں انہیں یہ دل آزار واردات سن کر بھی ذرا برابر شرم و حیا کا احساس تک نہیں ہو رہا ہے۔ نہ انہیں غم نہ انسانیت کا درد۔
اس کے برعکس جیسے ہی راہل گاندھی کی درد بھری تقریر ختم ہوئی تو فورا مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کھڑے ہوکر تقریر کے رخ کو موڑتے ہوئے یہ کہتی ہیں کہ راہل گاندھی ایک زن بیزار مرد ہیں۔ ( Rahul is only misogynistic man) اور راہل گاندھی جاتے وقت جو ہاتھ سے اشارہ کیا تھا اس کو توڑ مروڑ کر flying kiss کہہ کر ان پر حملہ کرتی ہیں۔ یہ سب محض موضوع کا رخ موڑنے کے علاوہ کچھ نہیں۔بربنائے تسلیم اگر راہل جی نے فلائنگ کس کیا بھی تو کیا ہوا۔ عالمی تہذیب اور رسم ورواج کے مطابق وہ چھوٹی سی بات ہے۔ چند مغربی ممالک میں وہ تہذیب کا حصہ ہے۔ اس کو لیکر بکھیڑا کھڑا کرنا حماقت اور گندی ذہنیت کی روشن دلیل ہے۔ اگر فلائنگ کس جرم ہے ۔ عورت کو ذلیل و رسوا کرنا ہے تو اس فلائنگ کس کے بارے میں آپ کا موقف کیا ہوگا جس کو بی جے پی لیڈر اور مدھیہ پردیش وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے کئی مہیلاؤں کے سامنے دیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے  جنسی استحصال کے واردات ہیں جس میں کئی ایک بی جے پی نیتا ملوث ہیں۔ اگر ان سب کو حیطۂ تحریر میں لایا جائے تو ایک ضخیم دفتر تیار ہو جائے گا۔
اس چھوٹی بات کو بتنگڑ بناتے ہوئے بھاجپا کے 22 ممبران اسمبلی راہل کے خلاف صف آرا ہوگئے ہیں۔ کاش یہی صف بندی منی پور کے ان مظلوم عورتوں کے لیے ہوتی تو پورا ملک کیا رہتی دنیا تک ان کے اس کارنامہ کو تاریخ کے صفحات میں آب زر سے لکھا جاتا لیکن ہائے افسوس کہ ایسا ہوا نہیں اور ان بھاجپا ممبران سے توقع بھی نہیں۔ اسی درمیان ہریانہ سے یہ حیرت انگیز خبر آئی کہ ہریانہ میں نفرت کی کھیتی لہلہانے لگی ہے 50 پنچایتوں نے مسلم تاجروں کیلئے گاؤں میں ’نو انٹری‘ کا متعصبانہ فرمان جاری کیا۔ یہی سب ہونا تھا۔ تاریخ بھی ان تشدد پسند اور فرقہ پرستوں کو کبھی معاف نہیں کریے گی۔ آخیر میں ہم جملہ ہندوستانیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہوش کے ناخن لو اور شعور وآگہی سے کام لو۔ ملک میں ہم آہنگی اور قومی یکجہتی پیدا کرو جو ہماری گنگا جمنی تہذیب کی امتیازی شان ہے۔ خدا اس ملک پر جو فرقہ واریت کی گھنگھور گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں اسے دور کریں اور ملک کے طول وعرض میں امن وامان قائم رکھے آمین

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter