جب قانون خاموش ہو جائے۔۔۔۔!!!

عدالت، پارلیامنٹ، پولس اہلکاروں اور وکیلوں کے چیمبر میں رکھے قوانین کے ضخیم دفتر یہ بتاتے ہیں کہ قدیم ہندوستان میں راجاؤں اور بادشاہوں کی سالہا سال کی ریاستیں اور حاکمانِ دورِ جدید کی حکومتیں ایک نظام اور ضابطہ کے تحت چلتی آئی ہیں۔ جب تک قوانین کی پاسداری اور عدل و انصاف زندہ رہتا ہے تب تک ملک میں امن و امان اور دلوں میں محبتیں باقی رہتی ہیں اور جب انصاف اور اصول و قوانین اور قومی و ملی مفاد کی خاطر قوانین کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے تب تب قوم میں خوف و ہراس، ظلم و بربریت، اضطراب و بے چینی اور جرائم پیش آنے لگتے ہیں۔

 موجودہ ہندوستان کی صورتِ حال سے یہ بخوبی ظاہر ہے کہ آج یہ عزیز ملک کس طرف جا رہا ہے، یہاں بھائی چارگی سے رہنے والے اور محبت و مودت، اتفاق و اتحاد کا درس دینے والے لوگ آج کس تیزی سے مذہبی بنیادوں پر پھیلی نفرتی گرداب میں پھنستے جا رہے ہیں، کل تک جو لوگ ایک آنگن میں کھیل کر ایک ساتھ بڑے ہوئے آج وہی ایک دوسرے کو نگاہ نفرت و رمیدگی سے دیکھ رہے ہیں، آپسی تہواروں میں شرکت، شادی پارٹیوں میں شمولیت اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے والے لوگوں کے بیچ میں آج مذہبی دیوار کھڑی کر دی گئی ہے، لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں، کہیں ٹوپی دیکھ کر مارا جا رہا ہے تو کہیں نام پوچھ کر قتل کیا جا رہا ہے۔ بستی بستی بے خوف تجارت کرنے والے تاجرین آج دہشت و ہیبت سے لرزہ براندام ہیں۔

فسادی قسم کے آوارہ لوگ جگہ جگہ دنگا بھڑکانے کا کام کرتے ہیں، یہ فتنہ و فساد پھیلانے والے لڑکے اس قدر شترے بے مہار ہوتے جا رہے ہیں کہ کہیں ہاسپیٹل میں ڈیلیوری کے سلسلے میں آئی نقاب پوش خاتون کے پیٹ پر لات ماری جا رہی ہے تو کہیں نام پوچھ کر مسلم لڑکے کو ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے پیٹا جا رہا ہے، کہیں خود صوبائی وزیر اعلیٰ مسلم نقاب پوش خاتون کا نقاب کھینچتا ہے تو کہیں بنگلہ دیشی مسلم کہہ کر کسی تاجر کو موت کی نیند سلایا جا رہا ہے۔ وہیں مساجد و مدارس پر آئے دن قسم قسم کی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اسلاموفوبیا کے شکار افراد پر کسی طرح کی کوئی سنوائی نہیں ہے، میڈیا اور ادارے دانستہ طور پر اسلاموفوبیا کو ہوا دے رہے ہیں جس بنا پر مذہبی منافرت، فرقہ واریت اور اقلیتوں پر ظلم و تشدد بڑھتا جا رہا ہے۔

اِدھر عوام الناس کے مابین نفرتوں کی جنگیں چھڑی ہوئی ہیں اُدھر حکومتی اداروں اور پولس اہلکاروں کی جانب سے ان ماب لینچنگ کرنے والوں کے زد و کوب پر کوئی توجہ نہیں، اور مظلوم مسلمانوں پر کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں۔ سارے قانون اور ساری کورٹ کچہری مسلمانوں کے لیے مانو بند ہو چکے ہیں، حکومتی کارکنان جیسا چاہتے ہیں عدالت سے ویسا فیصلہ آ جاتا ہے، مدارس و مساجد اور مزارات کو شہید کیا جا رہا ہے، وقف کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں، مسلمانوں سے اُن کے وطنی ہونے کا ثبوت مانگا جا رہا ہے۔ آخر ہندی مسلمان کب تک یہ مظالم سہیں گے ؟ کب تک ذمہ داران نفرت اور مذہب و مسلک کے نام پر روٹیاں سیکتے رہیں گے ۔

دوسری جانب ہمارا یہ حال ہے کہ ہم سدھرنے اور جامۂ اتحاد پہننے کو راضی نہیں، سب کو اپنی اپنی پڑی ہے، کوئی کسی اپنے کا سپورٹ کرنے کو راضی نہیں، ہمیں اپنی خانہ جنگی سے فرصت ہی نہیں ہے، کوئی کسی کو اپنا پیشوا ا و رہنما ماننے کو تیار نہیں، آخر کب تک ہم یہ در در کی ٹھوکریں کھائیں گے ؟ آخر کب ہم بیدار ہوں گے اور اپنے حق کی آواز اٹھائیں گے ؟

 ہم ہندی حکومت سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہند میں امن و امان قائم کریں، مذہبی دیوار کو توڑ کر حق و سچ کے ساتھ فیصلہ کریں، جگہ جگہ ہو رہے ظلم و بربریت پر شکنجہ کسیں، اور شریر  و فسادی لوگوں کو سخت سزا دی جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں استقامت عطا فرمائے، صحت مند اور سکون کی زندگی عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter