تہران کی گونج اور عالمی ضمیر کی آزمائش!

  عالمی سیاست کی بساط پر جب طاقت کے مہرے اپنی جگہ بدلتے ہیں تو ان کی آہٹ محض ایوانِ اقتدار تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کی گونج عام انسان کی زندگی تک پہنچتی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی دنیا بظاہر سفارتی جملوں، معاہدوں اور بیانات سے عبارت دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے پس منظر میں مفادات، خدشات اور طاقت کا وہ پیچیدہ جال بچھا ہوتا ہے جس کی معمولی سی جنبش بھی کسی خطے کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ ایسے ہی نازک ماحول میں جب کسی اہم دارالحکومت سے زور دار دھماکے کی خبر موصول ہو تو وہ محض ایک مقامی واقعہ نہیں رہتا بلکہ عالمی منظرنامے کا حصہ بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں Tehran میں سنائی دینے والی دھماکے کی آواز نے اسی طرح کی تشویش کو جنم دیا ہے۔

   ابتدائی اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے ابھی تک اس دھماکے کی واضح وجہ جاری نہیں کی گئی، تاہم سیکیورٹی ادارے سرگرمِ عمل ہیں، حساس مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات میں سب سے پہلا ردعمل بے یقینی کا ہوتا ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ حادثہ تھا، کسی تخریبی کارروائی کا نتیجہ تھا یا کسی بڑے سیاسی تصادم کا پیش خیمہ؟ جب تک حقائق مکمل طور پر سامنے نہ آئیں، قیاس آرائیاں فضا میں گردش کرتی رہتی ہیں۔ یہی صورت حال اس وقت بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب Iran اور United States کے درمیان جوہری پروگرام کے مسئلے پر تناؤ میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو توانائی کی ضروریات اور سائنسی خود کفالت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے بعض اتحادی اسے ممکنہ عسکری خطرے سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی اختلاف نے سفارتی بیانات، اقتصادی پابندیوں اور سیاسی دباؤ کو جنم دیا ہے۔ جب تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہوں تو ہر غیر معمولی واقعہ ایک بڑے بحران کے تناظر میں دیکھا جانے لگتا ہے۔

   ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ محض حالیہ برسوں کی کہانی نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ایک مسلسل اتار چڑھاؤ کی داستان ہے۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جو فاصلے پیدا ہوئے وہ وقتی نہیں تھے۔ وقت کے ساتھ کبھی مذاکرات کی کوششیں ہوئیں، کبھی معاہدے سامنے آئے اور کبھی وہی معاہدے اختلافات کا شکار ہو گئے۔ اقتصادی پابندیوں نے ایران کی معیشت کو متاثر کیا، جبکہ ایران نے بھی اپنے مؤقف میں سختی دکھائی۔ اس کشمکش نے پورے خطے کو غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا رکھا ہے۔ جب عالمی طاقتیں آمنے سامنے ہوں تو ان کے اقدامات کا اثر صرف ان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتا۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف سیاسی اور عسکری تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں کسی بھی نئے واقعے کو ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی منظرنامے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈیاں، تیل کی قیمتیں، سفارتی اتحاد اور دفاعی حکمت عملیاں سب اس تناؤ سے متاثر ہوتی ہیں۔ دنیا چونکہ باہمی انحصار کے دور میں داخل ہو چکی ہے، اس لیے ایک خطے کی کشیدگی دوسرے خطوں کی معیشت اور سیاست پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

   یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کشیدگی بڑھتی ہے اور حالات جنگ کی طرف مائل ہوتے ہیں تو اس کا حاصل کیا ہے؟ کیا جنگیں واقعی مسائل کا حل فراہم کرتی ہیں یا وہ مزید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں؟ تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ جنگ کا آغاز سیاسی فیصلوں سے ہوتا ہے مگر اس کا بوجھ عوام اٹھاتے ہیں۔ دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں اور معیشت کا پہیہ سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ جو وسائل تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر صرف ہونے چاہیے تھے وہ عسکری تیاریوں میں استعمال ہونے لگتے ہیں۔

   انسانی سطح پر جنگ کا اثر سب سے زیادہ المناک ہوتا ہے۔ ایک دھماکے کی آواز محض چند لمحوں کا شور نہیں بلکہ کئی خاندانوں کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا کرب بن سکتی ہے۔ خوف کی فضا میں جینے والے شہری ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔ بچے غیر یقینی ماحول میں پروان چڑھتے ہیں، نوجوانوں کے خواب متاثر ہوتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کمزور پڑ جاتی ہے۔ جنگ کے بعد اگرچہ تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوتا ہے مگر جو جانیں ضائع ہو چکی ہوں اور جو اعتماد ٹوٹ چکا ہو، اسے بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کچھ حلقے یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ عسکری دباؤ بعض اوقات مخالف کو مذاکرات پر آمادہ کر دیتا ہے یا قومی سلامتی کو یقینی بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ وقتی طور پر ایسا ممکن بھی ہو سکتا ہے کہ کسی ملک کو سفارتی برتری حاصل ہو جائے یا اسے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع مل جائے۔ مگر یہ فائدے عارضی ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں معاشی نقصان، سماجی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام طویل المدت اثرات رکھتے ہیں۔ جنگ نفرت کے بیج بوتی ہے اور بد اعتمادی کو مضبوط کرتی ہے، جس کے نتیجے میں آنے والی نسلیں بھی اس کے اثرات محسوس کرتی ہیں۔

     تہران میں سنائی دینے والی دھماکے کی آواز کی اصل حقیقت جب سامنے آئے گی تو یقیناً اس کے سیاسی اور سیکیورٹی پہلوؤں پر تفصیلی بحث ہوگی۔ مگر اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ طاقت کے اس مسلسل کھیل کا انجام کیا ہے۔ کیا عالمی برادری کے پاس اختلافات کو حل کرنے کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی احترام کا راستہ موجود نہیں؟ کیا بارود ہی واحد زبان رہ گئی ہے جسے سمجھا جاتا ہے؟ اگر ماضی کے تجربات سے سبق لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پائیدار امن ہمیشہ مکالمے اور مفاہمت سے حاصل ہوا ہے، نہ کہ طاقت کے تصادم سے۔ آخرکار یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جنگوں کا حقیقی فائدہ عام انسان کو نہیں پہنچتا۔ اگر کسی فریق کو وقتی سیاسی یا عسکری برتری مل بھی جائے تو وہ مستقل خوشحالی کی ضمانت نہیں بنتی۔ اس کے برعکس انسانی جانوں کا ضیاع، معاشی کمزوری اور سماجی انتشار ایسی حقیقتیں ہیں جو دہائیوں تک قوموں کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ دنیا کو اگر ترقی، استحکام اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہے تو اسے تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ تہران کی فضا میں گونجنے والی یہ آواز دراصل عالمی ضمیر کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ طاقت کے مظاہرے وقتی سناٹا تو پیدا کر سکتے ہیں مگر حقیقی سکون اور پائیدار استحکام صرف امن سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر عالمی قیادتیں تاریخ کے سبق کو سمجھ لیں اور مفادات کے بجائے انسانیت کو مقدم رکھیں تو شاید آنے والے دن بارود کی بو کے بجائے مکالمے کی خوشبو سے معطر ہوں۔ یہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو خوف سے نکال کر اعتماد کی طرف لے جا سکتا ہے اور یہی وہ سبق ہے جو ہر دھماکے کی گونج ہمیں سنانا چاہتی ہے۔

  اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو Iran اور United States کے درمیان جاری کشمکش محض جوہری پروگرام یا سفارتی اختلاف تک محدود نہیں بلکہ یہ طاقت، خود مختاری، سلامتی اور عالمی بالادستی کے پیچیدہ سوالات سے جڑی ہوئی ہے۔ مگر ان تمام بڑی بڑی اصطلاحات کے پیچھے ایک سادہ حقیقت چھپی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ ہر کشیدگی کا سب سے گہرا اثر عام انسان کی زندگی پر پڑتا ہے۔ وہی انسان جو نہ سفارتی میز پر موجود ہوتا ہے، نہ عسکری حکمت عملی طے کرتا ہے، مگر ہر فیصلے کا بوجھ اسی کے حصے میں آتا ہے۔ جنگ کی فضا جب بنتی ہے تو سب سے پہلے خوف جنم لیتا ہے۔ خوف معیشت کو کمزور کرتا ہے، خوف اعتماد کو کھوکھلا کرتا ہے اور خوف ہی وہ کیفیت ہے جو قوموں کو اندر سے تقسیم کر دیتی ہے۔ سرمایہ کار پیچھے ہٹ جاتے ہیں، نوجوانوں کے منصوبے مؤخر ہو جاتے ہیں اور ریاستی وسائل دفاعی تیاریوں میں صرف ہونے لگتے ہیں۔ یوں ایک ملک جو ترقی، تعلیم اور تحقیق کی راہ پر گامزن ہو سکتا تھا، وہ غیر یقینی کے اندھیروں میں الجھ جاتا ہے۔ یہ وہ نقصان ہے جو اعداد و شمار میں مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتا مگر نسلوں تک محسوس کیا جاتا ہے۔ جنگ کا وقتی فائدہ اگر کسی کو دکھائی بھی دے تو وہ دراصل ایک سطحی تاثر سے زیادہ نہیں ہوتا۔ عسکری برتری یا سفارتی دباؤ وقتی طور پر کسی فریق کو مضبوط دکھا سکتا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ پائیدار امن طاقت کے زور سے قائم نہیں ہوتا۔ طاقت خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، دلوں میں اطمینان نہیں۔ بارود سناٹا تو لا سکتا ہے، اعتماد نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بڑی جنگ کے بعد بالآخر مذاکرات کی میز ہی سجتی ہے، اور وہی گفتگو ہوتی ہے جو ابتدا میں کی جا سکتی تھی۔

   تہران کی اس حالیہ صورتِ حال نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا دنیا نے ماضی کے تجربات سے کوئی سبق سیکھا ہے؟ کیا عالمی قیادتیں یہ سمجھنے کو تیار ہیں کہ تصادم کا راستہ خواہ کتنا ہی پرکشش کیوں نہ لگے، اس کا انجام اکثر طویل المدت عدم استحکام پر ہوتا ہے؟ اگر اختلافات کو برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جائے تو نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران سے بچ سکتی ہے۔ کیونکہ آج کی دنیا باہم مربوط ہے، ایک ملک کی کشیدگی دوسرے ملک کی معیشت اور سیاست کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی سلامتی ہر ریاست کا بنیادی حق ہے، مگر سلامتی کا تصور صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ حقیقی سلامتی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب عوام کو روزگار میسر ہو، تعلیمی ادارے آباد ہوں، صحت کا نظام مضبوط ہو اور معاشرہ امید کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہو۔ اگر جنگ کا سایہ ان تمام شعبوں پر چھا جائے تو وہ سلامتی بھی ادھوری رہ جاتی ہے جس کے نام پر یہ سب کچھ کیا جاتا ہے۔ لہٰذا! طاقت کے مظاہرے وقتی تاثر ضرور پیدا کرتے ہیں مگر تاریخ میں اصل کامیابی ان قوموں کے حصے میں آئی ہے جنہوں نے صبر، حکمت اور سفارت کاری کو ترجیح دی۔ آج جب عالمی سیاست ایک بار پھر نازک موڑ پر کھڑی ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ قیادتیں اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں اور انسانیت کو مفادات پر مقدم رکھیں۔ اختلافات ہر دور میں رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، مگر ان کا حل بارود میں تلاش کرنا دراصل مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ تہران کی فضا میں گونجنے والی آواز اگرچہ وقتی ہے، مگر اس کی بازگشت ہمیں ایک دائمی پیغام دیتی ہے۔ وہ پیغام یہ ہے کہ امن کمزوری نہیں بلکہ دور اندیشی کی علامت ہے۔ مکالمہ پسپائی نہیں بلکہ حکمت کی نشانی ہے۔ اور تعاون تصادم سے کہیں زیادہ مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اگر عالمی برادری اس سچائی کو دل سے تسلیم کر لے تو شاید آنے والے برسوں میں دھماکوں کی خبریں کم اور ترقی و تعاون کی داستانیں زیادہ سنائی دیں۔ یوں یہ واقعہ ہمیں صرف ایک لمحاتی سنسنی نہیں دیتا بلکہ ایک فکری چیلنج بھی پیش کرتا ہے۔ کیا ہم طاقت کے شور میں گم رہیں گے یا عقل و تدبر کی آواز سنیں گے؟ کیا ہم تصادم کی راہ پر چلتے رہیں گے یا امن کی جانب قدم بڑھائیں گے؟ تاریخ کا پہیہ چلتا رہے گا، مگر قوموں کی عظمت کا فیصلہ ان کے انتخاب سے ہوگا۔ اور اگر انتخاب امن، مکالمے اور انسانیت کے حق میں ہو تو یہی سب سے بڑی کامیابی اور سب سے مستحکم فائدہ ہوگا۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter