گلفشہ فاطمہ: ضمانت، پابندیاں اور ہمارے عہد کا عدالتی بیانیہ

  پانچ برس بعد جب گلفشہ فاطمہ تہاڑ جیل کے دروازے سے باہر آئیں تو منظر بظاہر آزادی کا تھا مگر اس آزادی کی فضا میں ایک انجان سی گھٹن بھی رچی ہوئی تھی۔ گلے میں ڈالے گئے ہار، آنکھوں میں ٹھہرے آنسو، دوستوں اور گھر والوں کی بھیگی ہوئی مسکراہٹیں یہ سب اس بات کی علامت تھے کہ ایک طویل تھکا دینے والی اور روح کو آزما دینے والی قید کے بعد آخرکار وہ لمحہ آیا جسے رہائی کہا جاتا ہے۔ مگر اسی لمحے میڈیا کے کیمرے، مائیک اور تیز سوالات بھی ان پر ٹوٹ پڑے اور اسی لمحے ان کے گھر والوں کی زبان سے بار بار ایک ہی جملہ ادا ہوا ”کچھ مت بولنا، خاموش رہنا“ یہ جملہ محض ایک لمحاتی احتیاط نہیں تھا بلکہ اس پورے نظام کا نچوڑ تھا جس میں آج آزادی کے ساتھ خاموشی کو بھی لازم کر دیا گیا ہے۔ یہ خاموشی دراصل خوف کی کوکھ سے جنم لینے والی وہ حکمت عملی ہے جو ہمارے عدالتی، سیاسی اور سماجی ماحول میں آہستہ آہستہ ایک معمول بن چکی ہے۔ یہ خاموشی اس احساس کا نام ہے کہ زبان کھلنے کی قیمت ابھی ختم نہیں ہوئی کہ قید ختم ہو سکتی ہے مگر نگرانی باقی رہتی ہے کہ رہائی کے بعد بھی احتیاط ایک مستقل ساتھی بن جاتی ہے۔ گلفشہ فاطمہ کی رہائی نے اسی تلخ حقیقت کو ایک بار پھر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

عدالت نے گلفشہ فاطمہ کو ضمانت ضرور دے دی مگر یہ ضمانت آزادی کی خوشبو سے زیادہ پابندیوں کی بُو لیے ہوئے ہے۔ ہفتے میں دو دن تھانے میں حاضری، میڈیا سے کسی بھی قسم کی بات چیت پر مکمل پابندی، کسی بھی رائے یا بیان کے اظہار سے اجتناب، دہلی کی حدود سے باہر جانے کی اجازت نہ ہونا اور پاسپورٹ کا ضبط رہنا یہ سب شرائط مل کر ایک ایسی زندگی کا نقشہ کھینچتی ہیں جو جیل کی دیواروں سے تو باہر ہے مگر خوف، نگرانی اور عدم اعتماد کے ایک نئے حصار میں قید ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جسم کو تو سلاخوں سے نکال لیا گیا ہے مگر آواز، سوچ اور حرکت کو بدستور ایک غیر مرئی قید میں رکھا گیا ہے۔ یہاں سوال پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ اگر عدالت کسی شخص کو ضمانت دینے پر آمادہ ہو چکی ہے تو پھر اس ضمانت کے ساتھ اس قدر سخت اور ہمہ گیر شرائط کیوں عائد کی جا رہی ہیں؟ ضمانت کا تصور اس اصول پر قائم ہے کہ ملزم کو اس وقت تک بے گناہ سمجھا جائے جب تک جرم ثابت نہ ہو اور یہ کہ مقدمے کے فیصلے تک اسے آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل رہے۔ مگر جب ضمانت کے نام پر ایسے ضابطے نافذ کر دیے جائیں جو عملاً ایک کھلی جیل کا منظر پیش کریں تو سوال صرف شرائط کا نہیں رہتا بلکہ انصاف کی روح اور نیت پر بھی نشان لگنے لگتا ہے۔ گلفشہ فاطمہ کا معاملہ اب محض ایک فرد کی قید یا رہائی کی داستان نہیں رہا بلکہ یہ ہمارے عہد کی اجتماعی کہانی بن چکا ہے۔ ایک ایسے عہد کی کہانی جس میں اختلاف کو جرم، سوال کو شرارت اور خاموشی کو دانائی کا نام دے دیا گیا ہے۔ ان پانچ برسوں میں جب وہ جیل کی کوٹھڑی میں بند تھیں ملک کے سیاسی نقشے بدلے، حکومتیں آئیں اور گئیں، قوانین کی تشریح کے زاویے تبدیل ہوئے، انتخابی بیانیے نئے سانچوں میں ڈھلتے رہے مگر جیل کے اندر وقت جیسے رک سا گیا۔ وہاں دن اور رات کی تمیز مٹ جاتی ہے۔ امید اور ناامیدی کے درمیان فاصلہ گھٹ جاتا ہے اور زندگی ایک طویل انتظار میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ آج جب وہ جیل سے باہر آئی ہیں تو ان کے قدموں کے ساتھ ایک غیر مرئی سایہ بھی چل رہا ہے۔ یہ سایہ نگرانی کا ہے، احتیاط کا ہے اور اس مستقل اندیشے کا ہے کہ ایک جملہ، ایک لفظ، ایک تاثر یا ایک مسکراہٹ بھی کسی نئی مشکل کو دعوت دے سکتی ہے۔ یہ وہ سایہ ہے جو رہائی کے بعد بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا اور جس کے ہوتے ہوئے آزادی ایک ادھورا تصور بن کر رہ جاتی ہے۔

  میڈیا سے بات کرنے پر پابندی دراصل ہمارے زمانے کی ایک اور المناک حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں سچ بولنے سے پہلے اجازت درکار ہوتی ہے اور خاموش رہنے کو ایک طرح کا قانونی تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔ عدالت کی جانب سے عائد کی گئی یہ شرط صرف ایک فرد کو خاموش رکھنے کی کوشش نہیں بلکہ پورے سماج کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ کچھ کہانیاں سننے کے لیے تیار نہیں، کچھ تجربات بیان کے قابل نہیں اور کچھ سچ ایسے ہیں جنہیں زبان تک آنے سے پہلے ہی روک دینا زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ گلفشہ فاطمہ کی رہائی کے بعد ان کے چہرے پر جھلکنے والا سکون یا تھکن محض ذاتی تجربے کا عکس نہیں تھا بلکہ وہ ان ہزاروں قیدیوں کی نمائندہ بن گئی ہیں جو برسوں مقدمات کے فیصلوں کے انتظار میں جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں، جن کی ضمانتیں فائلوں اور تاریخوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں اور جن کی زندگیاں قانونی موشگافیوں، تاخیروں اور غیر یقینی کے گرداب میں الجھ کر رہ جاتی ہیں۔ ان میں سے اکثر کے نام کبھی سرخیوں میں نہیں آتے، ان کی رہائی پر کیمرے نہیں چمکتے اور ان کی خاموشی کو کوئی خبر نہیں بناتا۔ یہ رہائی دراصل ایک ایسا سوال ہے جو عدالتوں، ریاست، میڈیا اور سماج سب کے سامنے کھڑا ہے۔ یہ سوال پوچھتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس تصورِ انصاف کے ساتھ جینا چاہتے ہیں جہاں آزادی کے ساتھ خوف نتھی ہو، جہاں ضمانت کے ساتھ خاموشی لازم ہو اور جہاں اظہارِ رائے کو ایک ممکنہ جرم سمجھا جائے؟ یہ سوال ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے عہد کے عدالتی بیانیے پر نظرِ ثانی کریں اور یہ سوچیں کہ کہیں ہم نے انصاف کو نظم و ضبط اور آزادی کو محض ایک مشروط رعایت میں تو تبدیل نہیں کر دیا۔ گلفشہ فاطمہ کی خاموشی دراصل ہماری اجتماعی سماعت کا امتحان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ بول کیوں نہیں رہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم سننے کے لیے تیار بھی ہیں یا نہیں؟ کیوں کہ اب معاملہ صرف اس سوال تک محدود نہیں رہتا کہ گلفشہ فاطمہ کو خاموش رہنا چاہیے یا بولنا چاہیے، بلکہ یہ سوال اس پورے عہد کے ضمیر پر دستک دینے لگتا ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ خاموشی اگرچہ بظاہر تحفظ کا ایک راستہ دکھائی دیتی ہے مگر یہ راستہ اکثر انصاف کی طرف نہیں بلکہ فراموشی کی طرف جاتا ہے۔ خاموشی وہ خلا پیدا کرتی ہے جس میں ریاستی بیانیہ خود کو واحد سچ کے طور پر منوانے لگتا ہے اور پھر تاریخ صرف وہی سنتی ہے جو طاقت سنانا چاہتی ہے نہ کہ وہ جو مظلوم کہنا چاہتا ہے۔ اگر گلفشہ فاطمہ خاموش رہتی ہیں تو یہ خاموشی ان کی ذاتی حکمتِ عملی سے کہیں بڑھ کر ایک اجتماعی خسارے میں بدل جائے گی کیونکہ ان پانچ برسوں کی قید، اس عدالتی تاخیر اور اس ذہنی اذیت کا کوئی باضابطہ گواہ باقی نہیں رہے گا۔ لیکن بولنا بھی آسان نہیں۔ بولنا آج کے ہندوستانی سماج میں محض اظہارِ رائے نہیں رہا بلکہ ایک خطرہ بن چکا ہے۔ بولنے والا صرف اپنے الفاظ کا ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ ان تمام نتائج کا بھی بوجھ اٹھاتا ہے جو ان الفاظ کے بعد اس کی زندگی میں داخل ہو سکتے ہیں۔ گلفشہ فاطمہ اگر میڈیا کے سامنے آ کر اپنا درد بیان کرتی ہیں تو وہ صرف ماضی کی قید کو نہیں دہراتیں بلکہ مستقبل کے خطرات کو بھی دعوت دیتی ہیں۔ ان کی آواز کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا سکتا ہے، ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے کاٹ کر ایک نیا مطلب پہنایا جا سکتا ہے اور ان کی سچائی کو ایک نئے مقدمے، ایک نئی نگرانی یا ایک نئی پابندی کا بہانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ انہیں ضرور بولنا چاہیے اتنا ہی غیر ذمہ دارانہ ہو سکتا ہے جتنا یہ کہنا کہ انہیں ہمیشہ خاموش رہنا چاہیے۔ اس وقت ان کی خاموشی دراصل ایک آئینہ ہے جس میں ہمارا عدالتی نظام خود کو دیکھ سکتا ہے۔

 اگر ضمانت کے بعد بھی کسی کو یہ خوف لاحق رہے کہ بولنا اس کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انصاف ابھی مکمل نہیں ہوا۔ انصاف صرف عدالت کے حکم نامے کا نام نہیں، انصاف اس احساس کا نام ہے کہ شہری بے خوف ہوکر اپنی کہانی سنا سکے، بغیر اس اندیشے کے کہ اس کی بات اس کے خلاف ہتھیار بنا دی جائے گی۔ اگر یہ احساس موجود نہیں تو رہائی محض ایک انتظامی عمل رہ جاتی ہے، اخلاقی فتح نہیں بنتی۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ تاریخ ہمیشہ خاموش رہنے والوں کے بجائے بولنے والوں سے سوال کرتی ہے۔ آنے والے وقت میں کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ گلفشہ فاطمہ نے ضمانت کی شرائط کیوں نبھائیں بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ اس عہد میں جب انسان برسوں بغیر فیصلے کے قید رہے تب سماج نے کیا کردار ادا کیا۔ اگر وہ بولتی ہیں تو وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر ایک زمانے کی گواہی بن جائیں گی اور اگر وہ خاموش رہتی ہیں تو یہ خاموشی بھی ایک گواہی ہوگی مگر ہمارے خوف کی، ہماری بے بسی کی اور ہمارے اجتماعی زوال کی۔ شاید اس سوال کا کوئی ایک درست جواب نہیں کہ گلفشہ فاطمہ کو بولنا چاہیے یا خاموش رہنا چاہیے کیونکہ یہ فیصلہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ حالات، ماحول اور طاقت کے توازن سے جڑا ہوا ہے۔ مگر ایک بات طے ہے کہ کسی بھی جمہوری سماج کے لیے یہ لمحہ خطرے کی گھنٹی ہے کہ ایک عورت، پانچ برس کی قید کے بعد آزادی پا کر بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو کہ اس کا بولنا محفوظ ہے یا نہیں۔ یہ سوچ بذاتِ خود ایک الزام ہے ریاست پر، نظام پر اور ہم سب پر۔ آخر میں یہ معاملہ ہمیں اسی بنیادی سوال تک واپس لے آتا ہے کہ ہم کیسا سماج بننا چاہتے ہیں۔ ایسا سماج جہاں خاموشی کو زندہ رہنے کی شرط بنا دیا جائے یا ایسا سماج جہاں سچ بولنا خطرہ نہ ہو۔ اگر ہم واقعی انصاف کے خواہاں ہیں تو ہمیں اس دن کا انتظار نہیں کرنا چاہیے جب کوئی اور گلفشہ فاطمہ برسوں بعد جیل سے نکلے اور پھر بھی خاموش رہنے پر مجبور ہو۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter