آزادی کے نام پر بربادی: عورت کی عزت کے دشمن ہم خود!
آج کا زمانہ بظاہر ترقی، جِدَّت اور سہولیات کی فراوانی کا دور ہے۔ نت نئی ایجادات، ٹیکنالوجی کا غلبہ اور دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں بدل دینے والے اس دور نے انسان کو مادی اعتبار سے ضرور آگے بڑھا دیا ہے، لیکن اگر اس ظاہری چمک دمک کے پیچھے چھپے معاشرتی اور اخلاقی زوال پر نظر ڈالی جائے، تو انسان حیرت و حسرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ وہ اقدار جن پر کسی زمانے میں فخر کیا جاتا تھا، آج دقیانوسی تصورات کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ حیاء، غیرت، پردہ، شرافت، عفت و عصمت جیسے الفاظ، جنہیں کبھی دلوں کا چین اور روح کی غذا سمجھا جاتا تھا، آج کے نوجوانوں کے لیے اجنبی اور بوجھ بن چکے ہیں ۔ معاشرے میں بالخصوص خواتین کے لباس اور طرزِ زندگی کے حوالے سے جس تیزی سے تبدیلی آئی ہے، وہ نہایت تشویشناک ہے۔ لباس، جو ستر پوشی اور وقار کی علامت تھا، اب فیشن، اظہارِ آزادی اور خود اعتمادی کے نام پر ایسے انداز میں اپنایا جا رہا ہے جو شریعت اور شرم و حیاء کے تقاضوں سے صریحاً متصادم ہے۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ خود والدین، بھائی، اور معاشرتی رہنما اس تبدیلی کو معمول کی بات سمجھ کر قبول کر رہے ہیں۔ یہ غفلت دراصل اس زہر کی مانند ہے جو دھیرے دھیرے خاندان، نسل اور دین کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ اور جب برائی کو اچھائی کے لباس میں عام کیا جائے، تو یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جس سے نبی کریم ﷺ نے قربِ قیامت کی علامات کے طور پر خبردار فرمایا ہے۔
آخر عورت کو "عورت" ہی کیوں کہا گیا؟ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ نہیں، بلکہ اس لفظ میں ایک پوشیدہ حکمت اور عمیق مطلب پنہاں ہے۔ زبانِ عربی میں "عورت" کا مفہوم ہی ہے چھپی ہوئی چیز، وہ راز جو پردے میں محفوظ ہو۔ ذرا عقل و فکر کے چراغ جلائیں اور غور کریں کہ اگر شریعتِ مطہرہ نے اسی لفظ کو منتخب کیا ہے، تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی حکمتِ الٰہی ضرور چھپی ہوئی ہے۔ یہ لفظ خود ہی عورت کی فطرت اور مقام کی عکاسی کرتا ہے۔آج کا انسان، جو اپنی سوچ کو مغربی لبرل ازم کے حصار میں قید کر چکا ہے، ہر چیز کو آزادی کے نام پر کھولنے کا خواہاں ہے۔ پردے اور حیا کی قدیم قدروں کو نظر انداز کر کے اسلام کے اصل نقش قدم سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہم، جو اس دین کے وارث ہیں، اس حقیقت پر غور و فکر نہ کریں تو پھر اس ذمہ داری کا بوجھ کون اٹھائے گا؟
جب "عورت" کا لغوی مطلب ہی ہے پردہ، حجاب، پوشیدگی، تو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت کی تقدیس اور وقار کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو پردے میں رکھے۔ اگر کوئی لڑکی تنگ و بدنما کپڑے پہنے، جیسے کہ جینز، ٹی شرٹ یا مردانہ لباس جو اس کے بدن کی نزاکتوں کو بے نقاب کر دے، تو پھر اس کو "عورت" کہنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ کیا وہ اپنی فطرت کے خلاف نہیں جا رہی؟ کیا اس کا لباس اس کی عزت و حیا کے مطابق ہے؟اسی لیے شریعت نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے، تاکہ اس کی حرمت اور وقار محفوظ رہے۔ نہ صرف لباس بلکہ عورت کی آواز تک کو غیر محرم کے سامنے بلند کرنا ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ آواز بھی ایک طرح سے دل کی زبان ہے، اور اس کا پردہ دینا عورت کی حفاظت کا ایک پہلو ہے۔
اگر یہ سب کچھ ظاہر کرنا جائز ہوتا، اگر یہ سب کھل کر دکھانا اسلام کے نزدیک درست ہوتا، تو پھر شریعتِ اسلامی نے اس پر پابندی کیوں لگائی؟ یہ سب احکامات عورت کی عزت و وقار، معاشرتی پاکیزگی، اور اخلاقی اقدار کی حفاظت کے لیے ہیں۔ ان میں پوشیدہ حکمت کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہی اسلام کی اصل روح کی پاسداری ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
اے نبی! اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنے چہروں پر اپنے چادروں کا کچھ حصہ ڈال لیا کریں۔ یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کو پردہ کرنے کی اہمیت اور حکمت کو واضح کیا ہے۔ اس میں نہ صرف خواتین کی عزت اور وقار کی حفاظت کا حکم ہے بلکہ انہیں معاشرتی اذیتوں سے بچانے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔ پردہ کا مقصد صرف جسمانی تحفظ نہیں بلکہ روحانی، اخلاقی اور معاشرتی صفائی بھی ہے۔ جب خواتین اپنی شناخت کے ساتھ پردہ کرتی ہیں، تو وہ نہ صرف اپنی عزت کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ ان کے ذریعے معاشرتی فواحش اور بے حیائی سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ اس آیت میں موجود ہدایت ایک جامع پیغام ہے جو مسلمان خواتین کو عزت، تحفظ اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی طرف رہنمائی دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے خواتین کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی عزت کی حفاظت کے لیے پردہ کریں۔ اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ وہ عورتیں جو مسلمان ہوں، اپنی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے غیر محفوظ حالات میں بدتمیزی سے بچ سکیں۔ جب خواتین اپنے چہروں اور جسموں کو ڈھانپ کر باہر نکلیں گی، تو لوگ انہیں عزت دار سمجھیں گے اور ان کی عزت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
یہ آیت اُس دور میں نازل ہوئی جب جاہلیت کے زمانے میں خواتین کی عزت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا تھا۔ آزاد عورتیں اور باندیاں دونوں ایک ہی طریقے سے باہر نکلتی تھیں، جس کی وجہ سے آزاد عورتوں کو بھی بدنامی اور اذیت کا سامنا ہوتا تھا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مسلمان خواتین کو اس بات کا حکم دیا کہ وہ اپنی عزت و وقار کو محفوظ رکھنے کے لیے پردہ کریں، تاکہ وہ باندیوں سے ممتاز نظر آئیں اور کوئی فاسق یا فاجر شخص ان کی عزت کو پامال نہ کرے۔پردے کے ذریعے عورتوں کا یہ پہچاننا ممکن ہوگا کہ وہ عزت دار اور پاکدامن خواتین ہیں، اور انہیں اس بات کی تکلیف یا اذیت کا سامنا نہیں ہوگا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی واضح کی ہے کہ پردہ خواتین کی عزت و وقار کی حفاظت کرتا ہے، اور جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں یا اس پر اعتراض کرتے ہیں، وہ دراصل ان کی عزت و وقار کی پامالی کی کوشش کرتے ہیں۔
ذلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ کا مفہوم یہ ہے کہ جب مسلمان خواتین پردہ کریں گی، تو لوگ ان کو عزت کے ساتھ پہچانیں گے، اور ان کے ساتھ بدسلوکی یا اذیت کا سامنا نہیں ہوگا۔
یہ آیت مسلمانوں کو یہ بھی سبق دیتی ہے کہ آج کے دور میں جہاں عورتوں کی عزت کا معاملہ انتہائی حساس ہو چکا ہے، ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ پردہ خواتین کی عزت کی حفاظت کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جو لوگ پردہ کو فرض نہیں سمجھتے یا اس کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں، انہیں اس آیت سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔پردہ نہ صرف عورتوں کی عزت کی ضمانت ہے بلکہ یہ ایک طرح سے معاشرتی فساد اور بے حیائی سے بچاؤ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کا مقصد عورتوں کو جسمانی اور ذہنی اذیت سے بچانا ہے اور ان کے مقام و مرتبے کو بلند کرنا ہے۔ جو خواتین بے پردہ ہوتی ہیں، وہ نہ صرف اپنی عزت کو خطرے میں ڈالتی ہیں، بلکہ معاشرے میں فحاشی اور بدتمیزی کو بڑھاوا دیتی ہیں۔
اس آیت کا پیغام نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کے لیے ہے۔ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ پردہ عورت کی آزادی یا اس کے حقوق کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اس کے عزت و وقار کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی ایک حکمت رکھی ہے اور اس کے ہر حکم میں ہمارے لیے بھلا ئی ہے۔ اس حوالے سے کئی حدیث بھی آئی ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور حدیث یہ ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ رِقَاقٌ فَأَعْرَضَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " يَا أَسْمَاءُ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ تَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلاَّ هَذَا وَهَذَا " . وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور ان پر باریک اور چست کپڑے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو اپنا چہرہ موڑ لیا اور فرمایا: "اے اسماء! جب کوئی عورت سن بلوغ کو پہنچ جائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہیں آنا چاہیے سوائے چہرہ اور ہتھیلیوں کے۔"
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب ایک عورت بالغ ہو جائے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کا پردہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی وضاحت کی کہ صرف عورت کا چہرہ اور ہاتھ وہ حصے ہیں جو اس کے پردے سے مستثنیٰ ہیں، باقی جسم کو چھپانا ضروری ہے۔
آج کا دور فتنے، آزمائشوں اور اخلاقی زوال کا دور بن چکا ہے۔ روزانہ ہماری آنکھوں اور کانوں کے سامنے ایسی دردناک خبریں آتی ہیں جو دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں — کہیں کسی معصوم بیٹی کی عصمت لوٹ لی جاتی ہے، کہیں کسی بہن کو سرِ راہ اغوا کر لیا جاتا ہے، اور کہیں کسی باعفت لڑکی کو ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ واقعات اب کوئی انوکھی یا اچانک پیش آنے والی بات نہیں رہے، بلکہ ایک تلخ اور بھیانک حقیقت بن چکے ہیں جو ہمارے معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
ان حادثات کے پسِ پردہ کئی اسباب کارفرما ہیں، لیکن ایک نمایاں سبب یہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل، بالخصوص لڑکیاں، جدیدیت اور آزادی کے نام پر اپنی روایات، اپنی تہذیبی اقدار اور حیا و عفت کی بنیادوں کو پسِ پشت ڈال چکی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ آزادانہ گھومنا، بے باکی سے میل جول رکھنا، اور مغربی طرزِ زندگی اپنانا ہی ترقی اور روشن خیالی کی علامت ہے۔ دوسری طرف والدین بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں — وہ نہ اپنی اولاد کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں، نہ ان پر کوئی نگرانی یا حدود مقرر کرتے ہیں۔پھر جب کوئی دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آتا ہے تو یہی والدین اپنے حال پر ماتم کرتے اور فریادیں کرتے نظر آتے ہیں کہ ہماری بیٹی کے ساتھ ظلم ہوا، ہماری بیٹی کو اغوا کر لیا گیا، ہماری عزت پامال کر دی گئی۔ لیکن یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اکثر سانحات اسی لاپرواہی، بے پردگی، آزاد روی اور حدود و قیود سے بے نیازی کے باعث جنم لیتے ہیں۔
آج کی بہت سی لڑکیاں بغیر کسی فکر کے ناچ گانے، تفریح گاہوں، کیفے اور میلوں ٹھیلوں میں جاتی ہیں۔ وہاں بے حیا نگاہوں کے مالک افراد انہیں ہوس بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور پھر یہی ماحول کسی خوفناک انجام کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ افسوس کہ ہم نے اپنے معاشرے سے حیا کا پردہ خود ہی چاک کر دیا ہے، ہم نے اپنی بیٹیوں کو آزادی کے نام پر اس دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنا آسان نہیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ عورت کی عزت و عفت صرف اس کی اپنی نہیں بلکہ پورے خاندان، پورے معاشرے اور پوری قوم کی عزت سے جڑی ہوتی ہے۔ جب معاشرہ حیا کو ترک کر دیتا ہے، جب والدین اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لیتے ہیں، جب بیٹیاں حدود اور اقدار بھلا دیتی ہیں — تو پھر واقعات نہیں، تباہیاں جنم لیتی ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوبارہ اپنی دینی و تہذیبی بنیادوں کی طرف لوٹیں اور اپنی زندگیوں کو اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔ ہمیں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی صحیح دینی تعلیم و تربیت کا انتظام کرنا چاہیے، ان پر نرمی، محبت اور حکمت کے ساتھ نگرانی رکھنی چاہیے، اور انھیں موجودہ دور کی بے لگام "آزادی" کے فریب سے بچانا چاہیے۔ آج کل جو نوجوان لڑکیاں بے حیائی، فیشن پرستی اور عریانی کو آزادی سمجھ بیٹھی ہیں، ان کو سمجھانا ہوگا کہ اصل آزادی وہی ہے جو دین نے ہمیں دی ہے — یعنی حیا، عزت، وقار اور حدود کے اندر محفوظ زندگی۔ ہمیں اپنی بچیوں کو باحیا لباس پہننے، باعزت رویّہ اپنانے اور غلط صحبت، ناچ گانے، فحش مواد اور گمراہ کن محفلوں سے دور رہنے کی تربیت دینی ہوگی۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ جدیدیت کے نام پر بے راہ روی کو نہ اپنائیں بلکہ اپنے گھروں کو اسلامی اقدار کا نمونہ بنائیں۔ جب گھروں میں تربیت درست ہوگی تو معاشرہ بھی خود بخود سنور جائے گا۔ اگر ہم نے یہ ذمے داری نہ نبھائی تو معاشرتی بگاڑ، اخلاقی انحطاط اور ایسے المناک واقعات روز بروز بڑھتے چلے جائیں گے۔