ڈی این اے ٹیسٹ کا فقہی اور شرعی جائزہ ۔۔

اللہ ربّ العزّت نے اس کائنات میں بے شمار حیرت انگیز اور انوکھی چیزیں پیدا فرمائی ہیں۔ خود انسان کا اپنا وجود بھی  عجائب کا مجموعہ ہے اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے عبرت اور بصیرت کے بے شمار پہلو موجزن ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: "وَفِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا  تُبۡصِرُوۡنَ۔" (سورۃ الذاریات، آیت21) اور تمہاری ذاتوں میں بھی (نشانیاں) ہیں، تو کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو؟

ذرا انسان کی صورت وساخت پر نظر ڈالیں! اس دنیا میں اربوں کی تعداد میں انسان موجود ہیں مگر سب کا چہرہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس سے دوگنا انسان کے انگوٹھوں کی تعداد ہے مگر کسی کے انگوٹھے کا نشان دوسرے کے انگوٹھے کے نشان سے نہیں ملتا ہے۔ اسی طرح ہر ذی روح کے اندر موروثی مادے(Genetic materials) موجود ہیں جو کہ ہر جاندار میں لاکھوں کروڑوں خلیوں(Cells) میں پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر ذی روح دوسرے سے ممتاز ہوجاتا ہے۔ اسی موروثی مادے کی تحقیق اور جانچ پڑتال کا نام DNA رکھا جاتا ہے۔

ڈی این اے کا معنی اور شرعی نقطۂ نظر

ویکیپیڈیا میں DNA کی لفظی تحقیق کے بارے میں مذکور ہے کہ "یہ دراصل Deoxyribonucleic acid کا مخفف ہے اور اس کے نام کے اجزا کے معنی اور ان کے اردو متبادل یوں ہیں:

 De=  کم ہوجانا، نکل جانا، مَنـزُوع، فـقـید

oxy=  آکسیجن

 ribo=رائبوز (ایک قسم کی شکر کا نام)

 nucleic=مرکزہ (خلیہ کا)

 acid= ترشہ (تیزابی خاصیت رکھنے والا)

گویا اردو میں DNA کا مکمل نام فقید آکسیجن رائبو مرکزی ترشہ ہے۔

شرعی نقطۂ نظر سے اصول وفروع یعنی ماں باپ اور ان کی اولاد کے درمیان جو جزئیت ثابت ہوتی ہے اسی جزئیت کی تحقیق وجستجو کا نام جدید دور میں ڈی این اے ٹیسٹ رکھا جاتا ہے۔

فقہ کی قدیم کتابوں میں اصول وفروع کے درمیان جزئیت کے متعلق صراحتاً مذکور ہے۔ صاحب ہدایہ امام مرغینانی رحمہ اللہ حرمت مصاہرت کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: أن الوطي سبب الجزئية بواسطة الولد حتّى يضاف إلى كل واحد منهما كملاً، فيصير أصولها وفروعها كأصوله وفروعه،

(الهداية، كتاب النكاح، ج٢، ص٣٠٩، مکتبہ فیصل)

ترجمہ: وطی جزئیت کا سبب ہے بچے کے واسطے سے یہاں تک کہ بچہ واطی اور موطوءہ میں سے ہر ایک کی طرف کامل طور پر منسوب ہوتا ہے لہذا موطوءہ کے اصول و فروع واطی کے اصول و فروع کی طرح ہو گئے۔

اسی کتاب میں مدت رضاعت میں دودھ پینے سے حرمت رضاعت کے ثبوت کے متعلق مذکور ہے:

"ولأن الحرمة وإن كانت لشبهة البعضية الثابتة بنشور العظم و إنبات اللحم لكنه أمر مُبطن فتعلق الحكم بفعل الإرضاع."

(الهداية، كتاب الرضاع، ج٢، ص٣٥٠)

حرمت اگرچہ بعضیت اور جزئیت کے شبہ کی وجہ سے ہے جو کہ ثابت ہے ہڈی اور گوشت کے نشو و نما سے، لیکن یہ ایک باطنی امر ہے اس لیے حکم کو دودھ پلانے کے فعل سے ہی متعلق کر دیا گیا۔

مذکورہ بالا عبارتوں سے یہ واضح ہوگیا کہ اسلام میں اصول وفروع اور قریبی رشتہ داروں کے درمیان جزئیت کا تصور ہے اور اسی بنیاد پر حرمت مصاہرت اور حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے۔

ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کی شرعی حیثیت :

شریعت میں اس رپورٹ کی حیثیت قرینۂ عقلیہ کی طرح ہے۔ جس طرح شریعت میں کچھ احکام قرینہ کی بنیاد پر معتبر ہیں۔ مثلاً : اگر ولی نے باکرہ بالغہ سے نکاح کی اجازت طلب کی، اجازت طلب کرنے کے وقت وہ لڑکی خاموش رہی تو اس خاموشی کو رضامندی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ قرینہ موجود ہے، اور وہ 'حیا' ہے جس کے باعث لڑکی خاموش ہے۔ ہدایہ میں ہے: فإذا استأذنها الولي فسكتت أو ضحكت فهو إذن لقوله عليه السلام: "البكر تستأمر في نفسها فإن سكتت فقد رضيت ولأن جهة الرضاء فيه راجحة لأنها تستحيى عن إظهار الرغبة، لا عن الرّد۔

(الھدایة، باب في الأولياء، ج٢، ص٣١٤)

یہ مسئلہ بھی ہدایہ میں مذکور ہے: کہ ایک شخص ایک گھر میں داخل ہوا، اس کے علاوہ اس گھر میں کوئی نہیں تھا، نیز آنے جانے کا ایک ہی دروازہ تھا۔ دروازہ پر بیٹھے دوسرے شخص نے اندر سے اقرار کی آواز سنی تو یہ اندر داخل ہونے والے شخص کے اقرار کی گواہی دے سکتا ہے۔ کیوں کہ اس پر قرینۂ عقلیہ موجود ہے کہ اقرار اسی داخل ہونے والے شخص کا ہے۔ ہدایہ کی عبارت ملاحظہ فرمائیں: "إِذَا كَانَ دَخَلَ الْبَيْتَ وَعَلِمَ أَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ سِوَاهُ ثُمَّ جَلَسَ عَلَى الْبَابِ وَلَيْسَ فِي الْبَيْتِ مَسْلَكْ غَيْرُهُ فَسَمِعَ إِقْرَارَ الدَّاخِلِ وَلَا يَرَاهُ، لَهُ أَنْ يَشْهَدَ لِأَنَّهُ حَصَلَ الْعِلْمُ فِي هَذِهِ الصُّورَةِ."

(ہدایہ، کتاب الشھادۃ، ج٣، ص١٥٨)

نیز مجلس شرعی کے فیصلے میں مذکور ہے. "اس طور پر دیکھا جائے تو ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کی حیثیت قرینۂ عقلیہ کی ہے اور اب تو ہزارہا ہزار بلکہ بے شمار بار کے مشاہدات و تجربات سے یہ امر یقینی ہو چکا ہے کہ یہ رپورٹ سو فیصد صحیح ہوتی ہے اور اس میں غلطی کا احتمال عادۃً نہیں رہ گیا ہے۔ دنیائے طب وسائنس میں اس کا حال یہی ہے اور دنیا کی حکومتوں نے بھی اپنی آسانی کے لیے اس پر اعتماد کیا ہے۔"

(جدید مسائل پر علما کی رائیں اور فیصلے، ج٣، ص٣٣٨)

لہذا شرعاً جن امور کے اثبات کے لیے قرائن سے مدد لی جاتی ہے وہاں مذکورہ رپورٹ معتبر ہوگی، اور جن معاملات میں بینہ اور قطعی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے وہاں اس رپورٹ سے حکم ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔

شک کی وجہ سے DNA ٹیسٹ کروانا:

شادی کے  پہلے ٹسٹ کروانا تاکہ لڑکی کے اندر کوئی عیب یا مرض، یا مستقبل میں کوئی مرض ہونے والا ہو تو اس کا سراغ لگایا جاسکے، یہ جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ تقریباً ہر انسان کے اندر کسی نہ کسی درجے میں عیب اور مرض ہوتا ہے۔ اگر اس بنیاد پر ٹیسٹ کرانے کی اجازت دی جائے تو بے شمار لوگوں کا راز فاش ہوگا، اس طرح معاشرہ تباہی وبربادی کی طرف جائےگا، اور بہت سارے لوگ اپنا راز کھل جانے کے بعد ساری زندگی نکاح سے محروم رہ جائیں گے۔

نیز کچھ شوہر دور دراز ممالک سے برسوں بعد گھر آکر، یا ویسے ہی اپنی بیویوں پر بدگمانی کرتے ہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کرانے پر مجبور کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مقدس میں بدگمانی اور تجسس کرنے سے روکا گیا ہے : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ  بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوۡا.. (سورة الحجرات، آيت١٢)

ترجمہ: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے، اور تجسس نہ کرو۔

لہذا بلا وجہ اپنی بیویوں یا کسی پر بدگمانی کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی اجازت ہے۔

زنا، قتل، اور چوری کا ثبوت:

 زنا کے ثبوت کے دو طریقے ہیں: (1) اقرار: یعنی زانی ہوش وحواس کی حالت میں، صاف وصریح الفاظ میں چار مرتبہ قاضی کے سامنے زنا کا اقرار کرے۔

(2) چار عاقل بالغ عادل مسلمان قاضی کے سامنے گواہی دیں کہ ہم نے اس فلاں کو سرمہ میں سلائی کی طرح وطی کرتے دیکھا ہے۔

ظاہر ہے کہ DNA ٹسٹ کی رپورٹ، اقرار کے درجہ میں ہے نہ ہی چار عینی گواہوں کے درجہ میں، اس کی حیثیت قرینۂ عقلیہ اور ظن کی ہے۔ لہذا قرینہ اور ظن کی وجہ سے کسی محصن کو زانی قرار دے کر سنگسار نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی غیر محصن کو سو کوڑے لگایا جائےگا۔

اسی طرح اس رپورٹ کی وجہ سے ملزمِ قتل کو قصاص میں قتل کیا جائے گا نہ ہی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس لیے کہ ان دونوں کے ثبوت کا بھی دو طریقہ ہے: پہلا: قاتل قتل کا، یا چور چوری کا خود اقرار کرے۔ دوسرا: ان کا جرم دو مردوں کی گواہی سے ثابت ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ ڈی این اے رپورٹ اقرار کے درجے میں ہے نہ ہی عینی دو مردوں کی گواہی کے درجے میں ہے۔

 مجلس شرعی کے فیصلے میں مذکور ہے: "لہذا ڈی، این، اے، ٹیسٹ کی رپورٹ سے زنا، سرقہ، قتل وغیره موجب حد و قصاص جرائم کا ثبوت نہ ہوگا، ہاں ! اس کی حیثیت قرینۂ عقلیہ کی ہے اس لیے اس کی رپورٹ میں عضو یا جز کا نمونہ جس کا قرار پائے گا اس سے تفتیش ہو سکتی ہے۔"

(جدید مسائل پر علما کی رائیں اور فیصلے، جلد سوم، ص٣٤٦)

ثبوت نسب :

نسب کے ثبوت کے لیے چار صورتیں ہیں (1) نکاح صحیح، (٢) نکاح فاسد، (٣) وطی بالشبہ یعنی شبہ میں اپنی منکوحہ سمجھ کر وطی کرلی ہو، (٤) باندی۔

ہدایہ میں ہے ؛ لان النسب كما يثبت بالنكاح الصحيح يثبت بالنكاح الفاسد وبالوطئ عن شبهة وبملك اليمين۔

(الهداية، باب ثبوت النسب، ج٢، ص٤٣٤)

لہذا نکاح کے چھ مہینہ بعد بچہ پیدا ہوا تو نسب صاحب فراش یعنی شوہر سے ثابت ہوگا، اگرچہ رپورٹ اس کے خلاف ہو۔

حدیث پاک میں ہے: الولد للفراش وللعاهر الحجر ، (صحيح البخاري، كتاب الفرائض، حديث6749)

یعنی بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔

چند بچوں کا آپس میں خلط ملط ہوجانا:

چوں کہ ڈی این اے ٹیسٹ قرینہ کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے اگر چند نومولود بچے خلط ملط ہو جائیں، شناخت کی کوئی صورت باقی نہ ہو، کسی کے پاس شرعی ثبوت بھی نہ ہو تو باوثوق ذرائع اور تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ ٹسٹ کراکر نسب کی تعیین کی جاسکتی ہے۔

یوں ہی کسی بچے کے کئی افراد دعوے دار ہیں اور کسی کے پاس کوئی شرعی ثبوت بھی نہیں ہے تو ایسے بچے کا نسب بھی اس رپورٹ کے ذریعے متعین کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter