ڈاکٹر منکر حسین: فکر و فن اور سائنس و روحانیت کا لازوال مرقع
جب اقوام اپنی فکری انحطاط، تعلیمی زوال اور روحانی سرد مہری کے گرداب میں ڈوبنے لگتی ہیں، تب قدرت ایسے افراد کو جلوہ گر کرتی ہے جو نہ صرف حال کا ماتم کرتے ہیں بلکہ مستقبل کا نقشہ بھی کھینچتے ہیں۔ وہ افراد جو قوموں کی فکری زنجیروں کو توڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور جن کے اندر نہ صرف عقل کی جولانی ہوتی ہے بلکہ دل کی حرارت، نظر کی گہرائی اور عمل کی بصیرت بھی۔ ڈاکٹر محمد منکر حسین رحمہ اللہ بھی انہی نوادرِ روزگار میں سے تھے جنہوں نے سائنس کی گہرائیوں سے روحانیت کی بلندیوں تک کا سفر کیا، اور پھر اسی عرفانی مشعل کو لے کر خدمتِ خلق کے میدان میں اترے۔ وہ نہ صرف ایک مایہ ناز سائنٹسٹ تھے بلکہ ایک درویش صفت مصلح، ایک فلاحی مفکر اور ایک تعلیمی معمار بھی تھے۔ ان کی زندگی ایک ایسی کتاب کی مانند تھی جس میں علم و عرفان، اخلاص و ایثار، تفکر و تدبر اور عملى جدوجہد کی روشن سطور ثبت ہیں۔
ولادت، ابتدائی تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی سفر
ڈاکٹر محمد منکر حسین رحمہ اللہ کی ولادت 12 ستمبر 1968ء کو مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد کے قصبہ بھىمپور میں ایک مذہبی، علمی اور مہذب خانوادے میں ہوئی، جہاں دینی اقدار، اخلاقی تربیت اور علمی ذوق کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ بچپن ہی سے اُن میں مطالعہ، سوالات کی گہرائی میں جانے اور غور و فکر کا غیر معمولی ذوق پایا جاتا تھا، جو آگے چل کر اُن کی علمی زندگی کا سنگِ بنیاد ثابت ہوا۔
تعلیمی سفر کا آغاز محض چھے برس کی عمر میں بھىمپور پرائمری اسکول سے ہوا۔ یہاں انہوں نے ابتدائی جماعتوں میں وہ بنیاد رکھی جس نے اُن کے اندر عمر بھر کے لیے علم کی پیاس پیدا کر دی۔ پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد، 1966ء میں وہ نیاگرام وائی۔ایم۔ جونیئر ہائی اسکول میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے سائنس کے میدان میں آگے بڑھنے کا ارادہ باندھا۔ 1970ء میں وہ پائیکر ہائی اسکول منتقل ہوئے — یہ وہ مرحلہ تھا جس نے اُن کی زندگی کا رخ متعین کر دیا۔ اسی دوران اُن کی دوستی ایک ذہین اور معاون ساتھی عبدالرزاق سے ہوئی، جو ہر تعلیمی مرحلے میں ان کے شانہ بشانہ رہے۔
مدھیامک (9ویں اور 10ویں جماعت) کے امتحانات کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد، دونوں دوستوں نے اعلیٰ ثانوی (Higher Secondary) میں سائنس کا انتخاب کیا اور 1973ء میں پائیکر ہائی اسکول ہی سے اعلیٰ ثانوی امتحان کامیابی سے پاس کیا۔ یہ وہ دور تھا جب مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش کی صورت میں آزاد ہونے کے بعد پورے خطے کو تعلیمی اداروں کی کمی، ٹرانسپورٹ کے فقدان اور معاشی مشکلات کا سامنا تھا۔
گاؤں بھىمپور میں کوئی کالج موجود نہ ہونے کے باعث، 1973ء میں وہ ہیٹمپور کرشنا چندر کالج میں بی۔ایس۔سی کیمسٹری میں داخل ہوئے۔ بعد کے ایام میں وہ یاد کرتے تھے کہ: "ہیٹمپور میں تعلیم جاری رکھنا انتہائی مشکل تھا، کیونکہ روزانہ کالج پہنچنے کے لیے 10 کلومیٹر پیدل چل کر واحد بس پکڑنی پڑتی تھی۔ کلاسز کے بعد یہی سفر واپسی پر دہرانا پڑتا، اور اکثر رات کے سات یا آٹھ بجے گھر پہنچتا تھا"۔
ان مشکلات کے باوجود، انہوں نے 1979ء میں اسی ادارے سے کیمسٹری میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں مکمل کیں۔ ماسٹرز کے دوران ہی مراری کے کبیر نذرل کالج میں تدریس کا موقع ملا، لیکن علم کی تشنگی نے انہیں دوبارہ تحقیق کی دنیا میں کھینچ لیا، اور انہوں نے یہ ملازمت ترک کر کے اعلیٰ تعلیم کی راہ اختیار کی۔
1980ء میں انہوں نے بردوان یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور کیمسٹری میں پی ایچ ڈی اسکالر کے طور پر اپنی تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ آئندہ پانچ برس انہوں نے کیمیائی تحقیق، بالخصوص Hydrogen Schiff Bases کے چیلیٹ کمپلیکسز (Organometallics) پر محنت صرف کی۔ 1986ء میں انہوں نے اپنی معرکة الآرا تحقیق مکمل کی، جو بعد میں بین الاقوامی علمی دنیا میں حوالہ جاتی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس تحقیقی سفر میں پروفیسر آر۔ایل۔ دتہ ان کے سرپرست اور علمی رہنما رہے، جن کی رہنمائی نے ہر مرحلے پر اُن کا حوصلہ بڑھایا۔
مالی مشکلات اکثر ان کے علمی سفر میں رکاوٹ ڈالتی رہیں، لیکن بھىمپور ہی کے نامور سیاستدان اور مغربی بنگال کے سابق وزیر داخلہ و مالیات، ڈاکٹر مطہر حسین نے اُن کی مالی معاونت کی اور انہیں تعلیم جاری رکھنے کا حوصلہ دیا۔ اس استقامت اور محسنوں کی سرپرستی نے ایک گاؤں کے عام لڑکے کو بین الاقوامی سطح کا محقق اور اسکالر بنا دیا۔
بعد ازاں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچے، جہاں انہوں نے اپنی تعلیمی و تحقیقی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی۔ علی گڑھ کا علمی ماحول اُن کی شخصیت میں تنقیدی شعور، تخلیقی فکر اور سائنسی بصیرت کا نیا باب کھول گیا۔ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے تائیوان کی نیشنل چنگ کنگ یونیورسٹی کا انتخاب کیا، جہاں انہوں نے تجرباتی کیمسٹری میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کی تحقیقی کاوشیں بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوئیں اور دنیا بھر میں ان کا حوالہ دیا گیا۔
یوں، ڈاکٹر محمد منکر حسین رحمہ اللہ کی تعلیمی زندگی، عزم، محنت، صبر اور حوصلے کی ایک زندہ مثال ہے — ایک ایسا سفر جو ایک چھوٹے گاؤں سے شروع ہو کر عالمی علمی میدان تک پہنچا، اور جس نے یہ ثابت کیا کہ محدود وسائل بھی مضبوط ارادے کو شکست نہیں دے سکتے۔
بین الاقوامی تدریسی و تحقیقی خدمات
ڈاکٹر منکر حسین کی تحقیقی خدمات ایک ایسا روشن باب ہیں جو نہ صرف ان کی سائنسی مہارت اور فکری گہرائی کا پتہ دیتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر مسلم محققین کے لیے ایک مثالی نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے تحقیق کے میدان میں قدم رکھتے ہی اپنی محنت، مستقل مزاجی اور علمی دیانت کے ذریعے ایسے کارنامے سر انجام دیے جنہیں سائنسی دنیا میں دیرپا اہمیت حاصل ہوئی۔
ان کی تحقیقی زندگی کا آغاز 1986ء میں سی ایس آئی آر (CSIR) کے تحت ہوا، جہاں انہوں نے ابتدائی دو سال بردوان یونیورسٹی میں اور بعد ازاں تین سال آئی آئی ٹی بمبئی میں پروفیسر پردیپ ماتھر کی نگرانی میں تحقیق جاری رکھی۔ اس عرصے میں انہوں نے نامیاتی کیمیاء کے مختلف پہلوؤں پر مہارت حاصل کی، جو بعد میں ان کی بین الاقوامی کامیابیوں کی بنیاد بنی۔
1996ء میں نیشنل سنگ ہوا یونیورسٹی (تائیوان) میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر شمولیت نے ان کے لیے عالمی تحقیق کے دروازے کھول دیے۔ اس مختصر مگر اہم دورانیے کے بعد انہیں جاپان سوسائٹی برائے فروغِ سائنس (JSPS) کا باوقار ریسرچ فیلوشپ ملا، جو عالمی علمی حلقوں میں ان کی قدر و منزلت کا واضح ثبوت تھا۔ 1997ء سے 1999ء تک اوساکا یونیورسٹی (جاپان) میں انہوں نے مٹی اور زراعت سے متعلق کیمیائی تحقیق پر کام کیا، جو اس وقت کے سائنسی منظرنامے میں ایک جدید موضوع تھا۔
1999ء سے 2016ء تک اکیڈیمیا سینیکا (تائیوان) میں ان کی وابستگی ان کے تحقیقی سفر کا سب سے طویل اور نتیجہ خیز دور ثابت ہوئی۔ اس دوران انہوں نے C-H bond activation، کاپر کیٹالسس، اور مٹیریل کیمسٹری جیسے جدید اور پیچیدہ موضوعات پر تحقیق کی، جو عالمی تحقیقی جرائد میں کثرت سے شائع ہوئی۔ ان کے تحقیقی مضامین کی تعداد 55 سے زائد ہے، جو بین الاقوامی سطح کے معتبر سائنسی جرائد میں شائع ہوئے اور بارہا حوالہ جات (citations) کے ذریعے علمی دنیا میں تسلیم کیے گئے۔
ڈاکٹر منکر حسین کی تحقیق کی ایک امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ وہ محض لیبارٹری تک محدود نہ تھی بلکہ عملی اطلاق (practical application) کے پہلو کو بھی پیش نظر رکھتی تھی۔ ان کی تحقیقات نے نہ صرف سائنسی علم میں اضافہ کیا بلکہ صنعت، زراعت اور ماحولیاتی بہتری کے لیے بھی نئی راہیں کھولیں۔
مزید یہ کہ، وہ ایک ایسے محقق تھے جنہوں نے غیر مسلم اکثریتی ممالک میں رہتے ہوئے بھی اپنی دینی شناخت کو برقرار رکھا۔ تحقیق کے مصروف اوقات میں بھی نماز ترک نہ کرتے، بلکہ ان کے ساتھی اکثر خود یاد دہانی کراتے کہ “Munkir, go and pray—it’s time!”۔ یہ پہلو ان کی شخصیت کو ایک ہمہ جہت مثالی کردار بناتا ہے، جہاں ایمان اور عقل کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
تصوف اور روحانی رجحان
ڈاکٹر منکر حسین کی شخصیت کا ایک نہایت روشن اور لطیف پہلو ان کا تصوف اور روحانی رجحان ہے۔ اگرچہ ان کا علمی پس منظر سائنسی دنیا سے جڑا تھا، لیکن ان کے باطن میں ایک عارفانہ جستجو، قلبی سکون کی طلب اور باطن کی صفائی کا شوق موجزن تھا۔ وہ محض ظاہری علم پر قناعت کرنے والے نہیں تھے بلکہ حقیقتِ مطلقہ تک رسائی کے خواہاں تھے، اور یہی جستجو انہیں روحانی مسلک اور صوفیانہ طرزِ فکر کی طرف کھینچ لائی۔
ان کے نزدیک تصوف محض خانقاہی ریاضت کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر طرزِ حیات ہے، جس میں اخلاص، ایثار، خدمتِ خلق اور ذکرِ الٰہی بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اکابر صوفیہ کے اقوال اور تعلیمات کو نہ صرف علمی حلقوں میں بیان کرتے بلکہ اپنی عملی زندگی میں نافذ بھی کرتے تھے۔ ان کے لیکچرز اور مجالس میں قرآن و سنت کی روشنی میں تصوف کی اصل حقیقت کو نہایت متانت اور دلنشینی سے واضح کیا جاتا تھا۔
ان کی مجالس میں شریک ہونے والے طلبہ اور رفقاء بیان کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی گفتگو میں ایک عجیب روحانی کشش ہوتی، گویا وہ محض الفاظ نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی صداقتیں پیش کر رہے ہوں۔ وہ نفس کی اصلاح، دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری پر زور دیتے، اور ہر سامع کو خود احتسابی کی دعوت دیتے۔
ڈاکٹر منکر حسین کا یہ روحانی پہلو اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی علم وہی ہے جو عقل و دل دونوں کو منور کر دے اور انسان کو اپنے رب سے قریب تر کر دے۔
دارالہدٰی اسلامک یونیورسٹی بنگال كيمپس
دارالہدٰی اسلامک یونیورسٹی بنگال كيمپس کی تاسیس و ترقی میں ان کا گراں قدر تعاون ہے۔ یہ کمیپس دار الہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، ملپرم، کیرالا کا آف کیمپس ہے۔
دار الہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، ملپرم، کیرالا کی بنیاد 1983ء میں رکھی گئی، اور 1986ء میں باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوا۔یونیورسٹی کے قیام میں کئی نابغۂ روزگار شخصیات کی محنتيں کارفرما رہیں، جن میں ڈاکٹریو باپوٹی حاجی (بانی رکن)، مولانا ايم ايم بشير مسلیار ، مولانا سی ایچ عیدروس مسلیار نور الله مراقدہم اور مولانا ڈاکٹر محمد بہاء الدین ندوی فیضی (حاليہ وائس چانسلر) کے اسمائے گرامی نمایاں ہیں۔ دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی میں دینی اور دنیوی علوم ايك ساتھ جدید تعلیمی اسلوب اور ہم عصر نظامِ تعلیم کے ساتھ پڑھائے جاتے ہیں۔
بنگال کیمپس کی تاسیس
جب ڈاکٹر صاحب کو اس نوعیت کے ادارے کا علم ہوا تو وہ بے حد متاثر ہوئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے صوبے بلکہ اپنے ہی علاقے میں ایسا ہی ایک ادارہ قائم کرنے کی سنجیدہ کوششیں شروع کر دیں۔ اسی مقصد کے تحت2010ء میں تائیوان سے واپس آنے کے بعد ڈاکٹر منکر حسین نے اپنے گاؤں میں دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے مشاورت کے لیے کولکتہ میں اپنے ساتھی صابر غفار اور شہنشاہ جہانگیر کے ہمراہ وائس چانسلر ڈاکٹر بہاء الدین ندوی اور دیگر مرکزی کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات محض رسمی تعارف نہ تھابلکہ ایک نظریاتی ہم آہنگی کا آغاز تھا۔ اس ملاقات میں انہوں نے اپنے گاؤں میں دارالہدٰی کا کیمپس قائم کرنے کی تجویز پیش کی اور اس کے لیے زمین فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کی بنگال کیمپس کا آغاز 2012ء میں بیربھوم ضلع كے قصبہ بهيمپور ميں وقف كرده 11 ایکڑ اراضی پر ہوا، جو آج ایک روحانی اور تعلیمی مرکز کے طور پر مسلمانوں کے لیے ایک روشنی کا مینار بن چکا ہے۔
ابتدا ہی سے ڈاکٹر منکر حسین صاحب نے اس ادارے کے فکری و انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ڈاکٹر صاحب کا خواب تھا کہ یہ ادارہ دین و دنیا، علم و عمل، اور تحقیق و روحانیت کا امتزاج بنے۔ وہ ہمیشہ اس بات کے داعی تھے کہ اسلامی علوم کو جدید عصری تقاضوں کے ساتھ مربوط کر کے پیش کیا جائے، تاکہ فارغین دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی میدانوں میں بھی قیادت کا کردار ادا کر سکیں۔یہاں طلبہ کو دینی علوم، عصری مضامین، انگریزی، عربی اور بنگلہ زبان، جدید ٹیکنالوجی، قیادت سازی، اور اخلاقی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ طلبہ کو رہائش، خوراک، اور تعلیم بالکل مفت مہیا کی جاتی ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد محض ڈگری نہیں بلکہ شخصیت سازی اور امت کی تعمیر تھی۔
ان کے مشوروں اور انتظامی رہنمائی کے نتیجے میں، دارالہدٰی بنگال كيمپس نے تحقیق و تدریس دونوں میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے ادارے کی مالی مضبوطی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کیے، طلبہ کی فلاح و بہبود میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ ان کے اور بنگال کیمپس کے اساتذہ و ذمےداران کی محنت، رہنمائی اور سپورٹ سے ہی یہاں کہ طلبہ آج قومی و بین الاقوامی سطح پر ادارے کا نام روشن کررہے ہیں۔
ان کی دور اندیشی کا ایک اور مظہر 2019ء میں نظر آیا جب دارالہدٰی بنگال کیمپس میں لڑکیوں کے لیے ایک ڈے اسکول کا آغاز کیا، جس کے لیے اب باقاعده 52,000 مربع فٹ پر محیط رہائشی عمارت بھی زیر تکمیل ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈاکٹر منکر حسین کی خواہش لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کی بهى تھی۔
سماجی خدمات و اصلاحی تحریک
ڈاکٹر منکر حسین کی حیاتِ طیبہ محض تدریس، تحقیق، اور تصنیف کے میدان تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ ایک عظیم مصلحِ قوم اور خادمِ انسانیت کی صورت میں بھی نمایاں ہوئے۔ ان کا دردِ دل، جذبۂ ایثار اور خدمتِ خلق کا جذبہ اتنا پختہ تھا کہ وہ ہمیشہ مستحق افراد کی مدد میں مصروف رہتے۔ بیوگان کی کفالت، یتیموں کی پرورش، غریب خاندانوں کی لڑکیوں کے نکاح کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھانا، نادار مریضوں کا علاج کرنا—یہ سب ان کی روزمرہ کی سرگرمیاں تھیں۔ ان کا طرزِ عمل اور سخاوت کبھی فخر یا شہرت کے لیے نہیں تھی بلکہ یہ سب خدا کی رضا اور انسانیت کی خدمت کے خالص جذبے سے ہوتا تھا۔
ڈاکٹر منکر حسین کی اصلاحی تحریک کا اصل مقصد معاشرے میں محبت، ایثار، اور انسانی اخوت کو فروغ دینا تھا۔ ان کا یقین تھا کہ حقیقی سخاوت وہی ہے جو کسی کی عزت نفس کو مجروح نہ کرے اور جو دینے والا ہے، وہ عطا کرنے کے بعد کبھی خود کو متکبر محسوس نہ کرے۔ اس تصور کو وہ اپنی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرتے ہوئے دکھاتے تھے۔
ان کی سوشيل ورک اور اصلاحی خدمات کا ایک نمایاں پہلو ان کی "السکینہ" کے تحت قائم کی جانے والی فلاحی تنظیم تھی، جس کے ذریعے انہوں نے نہ صرف اپنے حلقے میں بلکہ پورے علاقے میں فلاحی منصوبوں کی بنیاد رکھی۔ ان کی محبت اور ایثار کا ایک اور مظہر "الحمرا" نامی اسکول کے لیے دی گئی زمین تھی، جس کا مقصد غریب و مستحق بچوں کو تعلیم فراہم کرنا تھا۔
ڈاکٹر منکر حسین نے اپنی فلاحی خدمات کے دائرے کو بڑھاتے ہوئے تحقیقاتی فنڈز سے حاصل شدہ رقم سے نہ صرف اسکولوں اور مساجد کے لیے زمین خریدی بلکہ قبرستانوں کے لیے بھی اراضی عطیہ کی۔ ان کا خواب ہمیشہ ایک اسلامک یونیورسٹی قائم کرنے کا تھا، اور ان کی یہ خواہش دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کے بنگال کیمپس کے قیام سے حقیقت کا روپ لے سکی۔
ان کی زندگی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ وہ شادی کے بغیر زندگی گزارتے ہوئے اپنی تمام تر توانائیاں قوم کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کرتے رہے۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی خدمات ایک مشعلِ راہ کے طور پر زندہ ہیں، جو آنے والی نسلوں کو علم اور ایمان کے درمیان توازن قائم کرنے کی ترغیب دیتی رہیں گی۔ ان کا عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ ایمان اور سائنس، دونوں ایک دوسرے کے ہم آہنگ ہو کر معاشرے کی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
وفات اور دائمی وراثت
بالآخر یہ چشمۂ حکمت و معرفت اور منارۂ رشد و ہدایت اپنے پیچھے اخلاص، خدمت اور ایثار کی ایک بے مثال وراثت چھوڑتے ہوئے 5 فروری 2025ء کو اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا ۔ آج ہماری ملت کو ان کی اسی روح کی ضرورت ہے، کیونکہ ان کی جاویداں روح میں معاشرے کو بدلنے، بکھرے قافلوں کو یکجا کرنے اور تاریک راہوں کو منور کرنے کی قدرت موجود ہے۔ ان کی زندگی کی روشنی کسی ایک دور یا خطے تک محدود نہ تھی، بلکہ ہر اُس دل میں اترتی ہے جو علم و عمل، ایثار و قربانی اور صدق و وفا کے چراغ روشن کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں ان کی یاد کو محض تاریخ کے اوراق میں محفوظ کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ایک زندہ اور متحرک جذبے کے طور پر اپنے اعمال، اداروں اور افکار میں ڈھالنا چاہیے۔ یہی ان کے مشن کی حقیقی تعظیم اور ان کی امانت کی حفاظت ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو آنے والی نسلوں کو امید، حوصلہ اور رہنمائی دیتا رہے گا۔
مہدی احسن بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محقق، ادیب اور سماجی مبصر ہیں، جو اس وقت دارالہدٰی اسلامک یونیورسٹی، بنگال کیمپس میں زیرِ تعلیم ہیں۔ آپ کی تحریریں قومی و علاقائی اخبارات و رسائل میں آپ کے مضامین شائع ہو تى رہتی ہیں۔ آپ خصوصاً اسلامی تعلیم، سماجی اصلاح اور فکری بیداری جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں۔ مہدٰی احسن کا مقصد قلم و فکر کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا اور علمی ورثے کو نئی نسل تک پہنچانا ہے۔