”ذبح عظیم“اور حکمت خداوندی!
ماہِ ذی الحجہ جہاں تاریخ کے اس عظیم واقعے کی یاد دہانی کرا تا ہے جس کا تذکرہ قرآن مجید نے ”بذبح عظیم“ کے الفاظ سے کیا ہے، وہیں یہ مبارک مہینہ قرآن مقدس میں وارد ہونے والی ان تمام آیات شریفہ کی بھی یاد دلاتا ہے جن میں اللہ تبارک و تعالی نے اپنے تئیں رحیم و کریم اور لطیف و حکیم ہونے کے دعوے کیے ہیں۔ خصوصا ”انّ اللہ یرید بکم الیسر ولایرید بکم العسر“، ”کتب ربُّکم علی نفسہ الرحمۃ“ اور ”وکان بالمؤمنین رحیما“ جیسی آیات مقدسہ پردہئ ذہن پر رقص کرنے لگتی ہیں اور بندگان خدا کے دل و دماغ اپنے اور معبود حقیقی کے بیچ اپنائیت کے ایک لطیف سے جذبے سے سرشار ہو جاتے ہیں اور ان کے سر اپنے رب کے لطف و کرم کے آگے بے اختیار جھکنے لگتے ہیں۔
رب غفور و رحیم نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں قربان ہونے سے بچا کر اپنے بندوں پر جو احسان کیا ہے وہ اس کے اپنے بندوں پر عظیم احسانات میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالی تو قادر مطلق ہے، ’فعال لما یرید‘ ہے، اگر وہ چاہتا تو ابراہیم علیہ السلام کی تیز دھار چھری کو حلقوم اسماعیلی کاٹنے کی اجازت دے سکتا تھا اور اس میں بندوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی چوں چرا کی گنجائش نہیں تھی، مگر اس نے ایسا اس لیے نہیں کیا کہ ابن عباس سے مروی ہے: ”لو تمّت تلک الذّبیحۃ لصارت سنۃ، وذبح الناس ابناۂم“ یعنی اگر وہ قربانی پوری ہو جاتی تو ساری دنیا کے لیے ایک سنت قرار پاتی اور لوگ اپنے بیٹوں کی قربانی دینا شروع کر دیتے، بلفظ دیگر لوگوں پر اپنے بیٹوں کی قربانی لازمی ہو جاتی، اور ظاہر ہے کہ یہ چیز مسلمانوں کے حق میں ایک مشکل امر بن جاتی۔
اللہ جل شانہ نے اس معاملے میں محض اپنے رحم و کرم سے تخفیف فرمائی اور اس قدر تخفیف فرمائی کہ اب اگر کوئی انسان اپنے فرزند کی قربانی کی نذر بھی کر لے تب بھی یہ قربانی اس پر واجب نہیں ہوگی بلکہ ایک بکرے کی قربانی کافی ہوگی جیسا کہ حضرت مجاہد اور دیگر ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس سے دریافت کیا کہ ’انی نذرت ان انحر ابنی؟ فقال یجزیک کبش سمین، ثم قرا ”وفدیناہ بذبح عظیم“ یعنی میں نے اپنے لخت جگر کو قربان کرنے کی نذر کی (تو ایسی صورت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟) تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ایک موٹی تازی بکری تمہارے لیے کافی ہے، پھر دلیل کے طور پر اس آیت کی تلاوت فرمائی ”وفدیناہ بذبح عظیم“۔
امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے بھی مذکورہ بالا آیت و حدیث کی روشنی میں اسی مسئلے کا استنباط فرمایا ہے، سو وہ فرماتے ہیں: ”من نذر ذبح ولدہ لزمہ ذبح شاۃ“ جس کسی نے اپنے بیٹے کی قربانی کی نذر کی تو اس پر ایک بکرے کی قربانی لازم ہے (الجوہر فی تفسیر القرآن)۔
مختصر یہ کہ یہ اللہ رب العزت کی بے پناہ رحمتوں ہی کا نتیجہ ہے کہ ایک مسلمان چاہ کر بھی اپنی نذر کے قول صریح پر عمل نہیں کر سکتا کیوں کہ انسانوں کو خدائے تعالی نے خاص کرامت بخشی ہے، پس انسان مکرم اور اس کا خون محرم ہے۔ اس صورت میں صاحب نذر کے قول صریح کے بطلان کی صورت تو نکلتی ہے مگر اس پر عمل برآوری کسی طور ممکن نہیں کہ انسان کے خون کی حرمت نص صریح سے ثابت ہے۔
یہ تو چند سطحی باتیں ہوئیں جن کا لب لباب یہ تھا کہ خدائے وحدہ لاشریک کا اپنے بندوں پر رحم و کرم اور احسانات کے سمندر کا کوئی کنارہ نہیں اور وہ اپنے بندوں پر صادر کرنے والے ہر حکم میں یسر تیسیر کا خیال رکھتا ہے، وہ ان پر ایسا کوئی حکم نافذ نہیں کرتا جس سے اس کے بندے حرج میں پڑ جائیں۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کے تئیں تکلیف بالمحال کا قائل نہیں۔ اب ”ذبح عظیم“ جسے میں نے مضمون کا عنوان بنایا ہے کے متعلق چند اہم باتیں بتانا چاہوں گا جو قربانی کے مسائل سے ذرا مختلف ہوں گی۔ در اصل عید قرباں پر قربانی کے احکام و مسائل پر مبنی کئی مضامین پڑ ھنے کو مل جاتے ہیں مگر ان امور کی طرف قلمکار حضرات کے دھیان کم ہی جاتے ہیں جن کی طرف میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ کچھ نئی باتیں آپ کے علم میں لا سکوں۔
قربانی کے متعلق اللہ عز و جل کے مبارک قول ”وفدیناہ بذبح عظیم“ پر اگر آپ غور کریں تو آپ کی سطح ذہن پر ایک سوال ضرور ابھرے گا کہ اللہ تبارک و تعالی نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلے ”کبش“ یعنی مینڈھے کی قربانی کو ”ذبح عظیم“ جیسے عظیم لقب سے کیوں ملقب کیا؟ علمائے کرام کی اس میں متعدد آرا ہیں:
۱) حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’اس قربانی کو عظیم کا وصف اس لیے ملا کہ یہ یقینی طور پر یعنی سو فیصد مقبول قربانی تھی‘۔
۲) حضرت ابو بکر وراق نے کہا’کیوں کہ وہ مینڈھا نسلا نہیں تھا بلکہ اس مخصوص قربانی کے لیے خصوصی طور سے تکوین شدہ یعنی بنایا گیا تھا‘۔
۳) حضرت حسن بن فضل فرماتے ہیں ’کیوں کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے تھا‘۔
۴) حضرت عمرو بن عبید فرماتے ہیں ’کیوں کہ اس کی وجہ سے ایک سنت قائم ہو گئی اور وہ قیامت تک باقی رہنے والی ایک امر دین بن گئی‘۔
۵) بعض نے کہا ’کیوں کہ وہ ایک نبی اور ابن نبی کے بدلے لایا (قربان کیا) گیا تھا‘۔ (روح المعانی)
آیت مذکورہ کے ضمن میں سوالِ ثانی جو اذہانِ انسانی میں جنم لیتا ہے وہ یہ ہے کہ اصل میں ”ذبیح“ کون ہے؟ ایا وہ حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام ہیں (جیسا کہ ظاہر و مشہور ہے) یا حضرت اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ہیں؟ اس سلسلے میں امام نسفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”الاظہر ان الذبیح اسماعیل“ یعنی ظاہرا ذبیح اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔ اور یہی قول کبار صحابہ میں سے حضرت ابو بکر، ابن عباس، ابن عمر اور تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین کی ایک بڑی جماعت کا ہے۔ ان حضرات نے اس مسئلے میں آقا علیہ السلام کے اس قول سے دلیل لی ہے جس میں آپ فر ماتے ہیں: ”انا ابن الذبیحین“ یعنی میں دو ذبیحوں (ذبیحین) کا بیٹا ہوں۔ نبیئ معظم کے اس قول کے مطابق ایک ذبیح تو اسماعیل علیہ السلام ہیں کیوں کہ آپ بوقت قربانی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی صلب میں موجود تھے اور دوسرے ذبیح جن کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے وہ ہیں خود آپ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ! واقعہ کچھ یوں ہے کہ آپ کے دادا عبد المطلب نے اللہ کے حضور یہ نذر کی تھی کہ جب میرے سارے بیٹے دس سال کی عمر کو پہنچ جائیں گے تو میں سب سے آخر والے (چھوٹے) کو تیری راہ میں قربان کر دوں گا۔ پس آپ علیہ السلام کے والد ماجد حضرت عبد اللہ سب سے چھوٹے تھے، سو حضرت عبد المطلب نے حضرت عبد اللہ کے بدلے سو اونٹوں کی قربانی دے دی تھی۔ سو اس حدیث پاک کے پہلے مشار الیہ یعنی اسماعیل علیہ السلام کی ذات سے یہ حقیقت آشکارہ ہوتی ہے کہ ”ذبح عظیم“ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذات بابرکات ہے۔
تاہم کبار صحابہئ کرام کے اور گروہ جس میں حضرت علی، ابن مسعود اور عباس رضی اللہ عنہم جیسی عظیم ہستیاں شامل ہیں، ساتھ ہی تابعین کی ایک جماعت بھی ان کا ہمنوا ہے، کا کہنا ہے کہ ”ذبح عظیم“ میں مذکور ذبیح حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں! دلیل کے طور پر انھوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کا وہ خط پیش کیا ہے جو آپ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف بھیجا تھا اور جس کے آغاز میں آپ علیہ السلام نے بحرف جلی و صریح لکھا تھا: ”من یعقوب اسرائیل اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ“ یعنی یعقوب اسرائیل اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ کی طرف سے! یہاں پر ”اسحاق ذبیح اللہ“ کا قطعہ قابل توجہ ہے، جو اس امر پر دال ہے کہ اللہ جل مجدہ نے قرآن مجید میں جس ذبیحے کی طرف بقول ”بذبح عظیم“ اشارہ کیا ہے وہ ذبیح حضرت اسحاق علیہ السلام کی ذات مبارکہ ہے۔ تاہم اس امر کی شہرت میں کوئی شک نہیں کہ اشارہئ آیت قرآنیہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذات ستودہ صفات کی طرف ہے۔
موضوع کے ضمن میں اس امر کا تذکرہ بھی حشو و تطویل کے زمرے میں نہیں آنا چاہیے کہ قربانی کے وقت تسبیح ”اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد“ کا تلفظ کرنا بطور سنت کیوں مشروع ہوا؟ تو اس سلسلے میں روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کے بدلے جنتی مینڈھے کو ذبح کیا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا تھا ”اللہ اکبر اللہ اکبر“ اور ذبیح یعنی حضرت اسماعیل یا اسحاق علیہما السلام نے فرمایا ”لا الہ الا اللہ واللہ اکبر“ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا ”اللہ اکبر وللہ الحمد“۔ اللہ تبارک و تعالی کو مذکورہ اصحاب کے یہ اقوال پسند آ گئے اور یہی وجہ ہے کہ ہر انسان کے لیے بوقت قربانی ان الفاظ کی ادائیگی سنت قرار پائی (تفسیر نسفی)۔
قربانی کے علاوہ بھی عید الاضحی کے مہینے خصوصا ایام حج کے دوران میں اس تسبیح کی اہمیت ہر کسی پر عیاں ہے۔ الغرض قربانی اور ”ذبح عظیم“ سے مناسبت رکھنے والی ایسی ڈھیر ساری باتیں اور رموز و نکات ہیں جنھیں دائرہئ علم میں لانا ضروری ہے تاکہ ہم تاریخ کے اس عظیم، حیرت انگیز اور ناقابل فراموش واقعے کے حقیقی احوال کو جان سکیں اور ان کے پیچھے کار فرما اللہ عز وجل کی مخفی حکمتوں کو پہچان سکیں۔ اللہ ہمیں توفیق بخشے! آمین۔