پریشانی کی اصل وجہ قیادت کا نہ ہونا

    مسلمانوں کی پسماندگی اور پریشانی کی اصل وجہ قیادت کا نہ ہونا ہے۔ قیادت تو ہے اور ہر دور میں رہی ہے بلکہ قیامت تک رہے گی یہ اور بات ہے کہ ہم اس قیادت کو نہ سمجھ پائیں ہیں۔ یہ قیادت کس کے پاس ہے؟ اس دور میں کون قائد ورہنما ہے؟ ہمارے خیال میں یہ علماء ہی ہمارے قائد ورہنما ہیں۔ اس بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری پریشانی کی اصل وجہ علماء کی قیادت سے انحراف اختیار کرنا اور ان پر اعتماد نہ کرنا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس قوم کے پاس قرآن واحادیث ہوں، مسائل و جزئیات پر مشتمل فقہی متون وشروح ہوں وہ اس طرح کی بات کرے کہ ہمارے پاس قائد ورہنما نہیں ہے یہ کس قدر حیرت کی بات ہے؟مسلمانوں کی زبان سے اس قسم کی باتوں کا صادر ہونا زیب نہیں دیتا، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پاس ہر وہ چیز ہے جس کی فراہمی ہمارے لیے ضروری ہے وہ بزرگوں کی سیرتیں ان کی تعلیمات و ارشادات ان کے پند و نصائح ہیں۔ پھر یہ رونا کہ ہمارا کوئی قائد نہیں یہ رونا کیسا ہے؟ 

   جو لوگ قیادت کے فقدان کی باتیں کرتے ہیں ہم ایسوں کے تعلق سے کہنا چاہتے ہیں کہ اُنہیں قیادت کی صحیح جانکاری نہیں ہے۔ یاد رہے کہ قیادت عربی کا لفظ ہے اس کا معنی رہنمائی اور رہنمائی کرنا ہے۔ یہ قیادت قیادتِ مطلقہ ہے اور عرف عام میں جب قیادتِ مطلقہ کا اِطلاق کیا جاتا ہے اس سے قیادت کاملہ مراد لی جاتی ہے۔کامل قیادت اگر کوئی قیادت ہے تو وہ دینی ومذہبی قیادت ہے اس قیادت کے تعلق سے اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: "آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا اور تم پر میں نے اپنی نعمت پوری کر دی" (المائدہ:4)-
   
   میں کہتا ہوں کہ جو قیادت کے فقدان پر آنسوں بہاتے ہیں اُنہیں اپنی سوچ کا علاج کرنا چاہیے اور اپنی فکری صلاحیتوں میں انقلاب لانا چاہیے کہ فکری صلاحیتوں میں انجمادی کیفیت کے طاری ہونے سے ہی انسان کے اندر مایوسی اور قنوطیت پیدا ہوتی ہے۔ پھر ان کی زبان سے غیر شعوری طور پر ایسی باتوں کا اظہار ہونے لگتا ہے جو حسرت و یاس اور ناامیدی کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ دور حاضر کے دانشوروں مفکروں اور مدبروں نے غیر معیاری قیادت کو معیاری تصور کر لیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس قیادت کا وجود ہی دوسروں کے سہارے ہوں اس سے ملت میں تزلزل ہی پیدا ہوگا۔ سماجی معاشی معاشرتی اور اقتصادی قیادتیں کیا کامل ہوں گی؟- 

    آج معاشرے کا ہر فرد جانتا ہے کہ ہندوستان ہی نہیں اس کے علاوہ زیادہ تر ملکوں میں مسلمانوں کے اقتصادی حالات بہتر نہیں۔ ہم معاشی مسائل میں اس طرح الجھ پڑے ہیں کہ بہت سے نان شبینہ کے محتاج ہو چکے، ان کا کوئی کاروبار نہیں، تجارت نہیں اور غریبی سے بہت زیادہ نیچے آکر زندگی بسر کر رہے ہیں، خطہ افلاس ہم سے بہت زیادہ اونچائی پر ہے اور ہم اس سے بہت زیادہ نیچے ہیں، اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے جو پالیسی وضع کی جاتی ہے جو اسکیمیں اور منصوبے چلائے جاتے ہیں ان سے مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ ہمارے خیال میں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ان اسکیموں کی جانکاری نہیں ہوتی اور جنہیں جانکاری ہوتی ہے وہ سودہ بازاری سے کام لیتے ہیں اور جو قرض کی اسکیم ہوتی ہے اس سے غریب کم بڑے لوگ اور جو مستحق نہیں ہوتے ہیں وہ اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اس لیے کہ "رعایتی فیس" دینے کے لیے ان کے پاس روپیوں کی کمی نہیں ہے۔ جب کہیں گاڑی پھنستی ہے تو پیسے دے کر نکل جاتے ہیں تو سب کچھ اسی کے لیے ہوتا ہے مسلمان کو کیا ملتا ہے؟ اس طرح کے رویہ سے دولت مند افراد روز مالدار ہوتے جا رہے ہیں اور غربت کی بدولت غریب شخص آئے دن غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ غربت کی زندگی کانٹوں کی زندگی ہوتی ہے وہ یا تو اپنے ہاتھوں کو مارے افسوس کے ملتے ہیں یا پھر راتوں میں تاروں کو گنتے رہتے ہیں۔ یوں تو ہر پارٹی کے سیاسی افراد نعرہ لگاتے ہیں غریبی ہٹاؤ مگر وہ کونسی پارٹی ہے جو غربت کو مٹا رہی ہے۔ اس کے باوجود ہمیں بھروسہ ہے تو کس پر؟ ان سیاسی لیڈروں پر جو ہم سے ووٹ لیتے ہیں اور لکھنؤ یا دہلی جاکر اے سی روم میں آرام کرتے ہیں اور ہمارے پوتے پر موج مستی کرتے ہیں، مسلمانوں نے سب کو آزماکر دیکھ لیا، ہر ایک کی باتیں سن لیں، بس ان نیتاوں کی ایک بات ہے ان کے وعدے کیا ہوتے ہیں۔ 

   سیاست جو کسی دور میں حکمتِ عملیہ اور تدبیر حسنہ کا نام تھا، لیکن آج سیاست سے دھوکہ، فریب اور انتقامی جذبہ مراد لیا جاتا ہے، اس لیے سیاسی چالبازیاں مشہور ہیں، سیاسی قائدین کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہیے مگر آج سیاست کے نام پر کیا ہورہا ہے یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، سب جانتے ہیں کہ آج جو سیاست کے میدان میں ٹال ٹھونک کر اترتے ہیں وہ قائد و رہنما نہیں ہیں دور حاضر کی سیاست کو قیادت کے ساتھ جوڑنا ایسا ہے جیسے فرش مخمل پر ٹاٹ کا پیوند لگانا، اس کے باوجود مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ سیاست کے شاطر کھلاڑیوں پر مرے جارہے ہیں اگر ایم ایل اے، ایم پی یا کوئی وزیر بناوٹی ہنسی کے ساتھ کسی کو مسکرا کر دیکھ لیتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم سے زیادہ کوئی ان سے قریب ہی نہیں، وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ بس اب ہماری معراج ہوگئی، سیاسی قیادت کیا ہے گھن زدہ ہے اس کی محفل میں رونق تک نہیں ہے جسے قیادت ملنی چاہیے اور جو اس کا مستحق تھا اسے ملی نہیں بلکہ یہ قیادت نا اہلوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے اس لیے اس کا ہونا بھی نہ ہونے کے برابر ہے لوک سبھا اور ودھان سبھا میں ہمارے ہاتھوں سے بنائے ہوئے جو ایم پی اور ایم ایل اے جاتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں وہ ہمارے مفاد کی نہیں بلکہ اپنے مفاد کی بات کرتے ہیں کاش اگر ان کے دلوں میں قیادت کی عزت ہوتی تو وہ ہمارے اور امت مسلمہ کی بات کرتے مگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں۔ 

   اس کے بر خلاف دینی مذہبی قیادت وہ قیادت ہوتی ہے جو کرب و اضطراب کی تمازت سے پریشاں حال افراد کو ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں عطا کرتی ہے اور انہیں اخلاص و محبت کی لوریوں سے نوازتی ہے مگر دور حاضر کے منحرف لیڈروں قائدوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جہاں تک ممکن ہو انہیں بھی دینی قیادت سے استفادہ کرنا چاہیے مگر نہیں وہ اس سے استفادہ میں اپنی کسر شان سمجھتے ہیں یہی سبب ہے کہ یہ لیڈران اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دینی مذہبی قیادت اور دوسری قیادتوں کے مابین کی خلیج اور بھی زیادہ وسیع اور کشادہ ہو اس کے درمیان اور بھی فاصلے بڑھیں، اس لئے آئے دن فاصلہ بڑھتا ہی جارہا ہے اور دوریوں میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، جو لوگ سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں وہ اس بات سے واقف ہیں کہ دینی قیادت سے منحرف ہونے کے نتیجے میں ہماری منحرف قیادتیں منقسم ہوتی جارہی ہیں کہیں یہ تقسیم مینو فیسٹو کی بنیاد پر ہوتی ہے کہیں سیاسی بنیاد کی نظر پر، کبھی سیاست علاقائی تہذیب پر بنٹی ہے تو کبھی زبانوں کی بنیاد پر کہیں تنگ نظری اور عصبیت کی بنیاد، قیادتوں کے بٹ جانے کے سبب سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہوا ہمارا اس طرح بٹ جانا کہ ہم اپنے وجود کو صحیح معنوں میں برقرار نہ رکھ سکیں یہ وہ نقصان ہے جس کی بھرپائی ہم نہیں کر سکتے۔ آج ہم اپنے کارواں سے بچھڑ چکے ہیں، اچھے اور نیک دل انسانوں کی صحبتوں سے محروم ہو چکے ہیں، جہاں سے اجالے ملتے ہیں، نکہتیں ملتی ہیں اور نت نئی کامیابیاں نصیب ہوتی ہیں ہم نے اس مقام اور اس در کو چھوڑ دیا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری اچھی خاصی تعداد ہونے کے باوجود ہمارے وجود کی کوئی اہمیت نہیں، کسی بھی سیاسی پارٹی میں ہمارا وہی مقام ہے جو مقام ان دانوں کو حاصل ہوتا ہے جنہیں شکاری چڑیوں کو شکار کرنے کے لیے بکھیر دیتا ہے پھر جال پھیلاتا ہے خواہ وہ کوئی سی پارٹی ہو۔ اس بات سے کوئی حیرت و تعجب نہیں کہ جو اپنے مرکز سے منحرف ہوتا ہے اور جمیعت سے منہ موڑتا ہے اس کا یہی حشر ہوتا ہے اور وہ زندگی کے ہر موڑ پر تنہا رہ جاتا ہے۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter