عمر خالد کی قید اور بی جے پی کا سیاسی انتقام

 ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں عمر خالد کا نام محض ایک فرد کا حوالہ نہیں رہا بلکہ اب یہ اس عدالتی جبر، ریاستی انتقام اور آئینی انحراف کی علامت بن چکا ہے جو وطن عزیز کی جمہوری روح کو رفتہ رفتہ جھلسا رہا ہے۔ وہ جمہوریت جس پر کبھی فخر کیا جاتا تھا کہ یہاں اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے آج اسی اختلاف کو جرم بنا کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل رہی ہے۔ تہاڑ جیل کی تنگ و تاریک کال کوٹھڑی میں گزرنے والے 1825 سے زائد ایام صرف ایک نوجوان کی قید کی داستان نہیں بلکہ اس آئین کے سینے پر کندہ ان وعدوں کا نوحہ ہیں جن میں ہر شہری کو حیات، آزادی اور منصفانہ سماعت کا حق دیا گیا تھا۔ ستمبر 2020 سے لے کر 2026 کے آغاز تک عمر خالد کو بغیر کسی ثابت شدہ جرم کے قید میں رکھنا اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ہندوستان میں اب قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ حکمرانوں کے ہاتھوں میں قانون ایک آلہ بن چکا ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں ضمانت کو ایک استثنائی رعایت سمجھا جا رہا ہے اور جیل کو ایک مستقل سزا کی شکل دے دی گئی ہے حالانکہ عدالتی ٹرائل کا باقاعدہ آغاز تک نہیں ہو سکا۔ یہ صورتحال محض ایک قانونی بحران نہیں بلکہ ایک گہرے اخلاقی زوال کی عکاس ہے۔ انصاف کا بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ سزا جرم ثابت ہونے کے بعد دی جاتی ہے مگر یہاں قید خود سزا بن چکی ہے اور ثبوت ایک غیر ضروری بوجھ۔ یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کا استعمال اب دہشت گردی سے نمٹنے کے بجائے سیاسی اختلاف کو کچلنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ قانون جو کبھی قومی سلامتی کے نام پر لایا گیا تھا آج جمہوری آوازوں کے گلے گھونٹنے کا ہتھیار بن چکا ہے۔ عمر خالد کا معاملہ اسی آہنی پنجرے کی ایک واضح مثال ہے جس کی چابی انتظامیہ کے پاس ہے اور جس کے سامنے عدلیہ کی بے بسی یا خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس معاملے نے جو ارتعاش پیدا کیا ہے وہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ اب ہندوستان کے داخلی معاملات میں انسانی حقوق کی پامالی کو عالمی برادری نظر انداز کرنے کے موڈ میں نہیں رہی۔ 30 دسمبر 2025 کو آٹھ امریکی ڈیموکریٹک قانون سازوں کی جانب سے ہندوستان کے سفیر کو لکھا گیا خط محض سفارتی مکاتبت نہیں بلکہ ہندوستانی نظامِ عدل پر ایک اخلاقی فردِ جرم تھا۔ جم میک گورن، جیمی راسکن، پرمیلا جے پال اور راشدہ طالب جیسے ناموں کا اس خط میں شامل ہونا اس بات کا اعلان تھا کہ دنیا کی نظریں اب ہندوستان کے دعوؤں اور اس کے عملی رویّوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تضاد کو بخوبی دیکھ رہی ہیں۔ ان رہنماؤں نے واضح طور پر کہا کہ کسی بھی مہذب جمہوریت میں اختلافِ رائے کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت کچلنا ناقابلِ قبول ہے۔ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا عمر خالد کو ذاتی خط لکھنا بھی اس امر کی علامت ہے کہ یہ مقدمہ اب ایک عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والا سوال بن چکا ہے۔

  اس کے برعکس حکمراں جماعت بی جے پی کا ردِعمل اخلاقی دیوالیہ پن کی ایک افسوسناک تصویر پیش کرتا ہے۔ عالمی تشویش کو راہل گاندھی کی بیرونِ ملک ملاقاتوں یا کسی مبینہ بین الاقوامی سازش سے جوڑنا دراصل حقائق سے فرار کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ پردیپ بھنڈاری جیسے ترجمانوں کا یہ شور کہ ملک کو بدنام کیا جا رہا ہے اس وقت مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے جب خود ملک کے اندر عدالتی عمل سست روی، تاخیر اور بے حسی کا شکار ہو۔ اگر دہلی پولیس کے دعوے واقعی اتنے ہی مضبوط ہیں تو پھر پانچ سال گزر جانے کے باوجود ٹرائل کا آغاز کیوں نہیں ہو سکا؟ یہ سوال صرف عمر خالد کے حامی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے اہم ہے جو آئین اور انصاف پر یقین رکھتا ہے۔31 اکتوبر 2025 کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا بے نتیجہ رہنا اس مایوسی کو مزید گہرا کرتا ہے جو انصاف کے متلاشی خاندانوں اور شہریوں کا مقدر بنتی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ جسے کبھی مظلوموں کی آخری امید سمجھا جاتا تھا اگر ایسے معاملات میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آئے تو پھر عام شہری کہاں جائے؟ یہ خاموشی محض ایک مقدمے کی تاخیر نہیں بلکہ ایک پورے عدالتی نظام کی ساکھ پر سوال ہے۔ اعداد و شمار کی زبان میں صورتحال مزید خوفناک ہو جاتی ہے۔ فری اسپیچ کلیکٹو کی رپورٹ کے مطابق اظہارِ رائے پر حملوں میں بے پناہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اختلاف اب خطرہ بن چکا ہے۔ جب ایک ہی سال میں صحافی قتل کیے جائیں، اختلاف رکھنے والوں کو قید میں ڈالا جائے اور ہزاروں آوازوں کو ڈیجیٹل سنسرشپ کے ذریعے خاموش کر دیا جائے تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ محض ایک کھوکھلا نعرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹیں بھی اسی تلخ حقیقت کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ ہندوستان میں صحافت کا دم گھونٹا جا رہا ہے اور نئے ضوابط دراصل عالمی تنقید سے بچنے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔ عمر خالد کا مقدمہ صرف ایک فرد کی آزادی کا سوال نہیں بلکہ یہ اس سوچ کے خلاف ایک علامتی مزاحمت ہے جو اختلاف کو غداری اور سوال کو جرم بنا دیتی ہے۔ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا ہندوستان واقعی ایک کثیر آوازوں پر مشتمل جمہوریت رہے گا یا ایک ایسی ریاست میں تبدیل ہو جائے گا جہاں صرف سرکاری بیانیہ ہی سچ مانا جائے گا۔ کیا ہم واقعی اس سمت بڑھ رہے ہیں جہاں جے این یو جیسے تعلیمی اداروں سے اٹھنے والی سماجی انصاف کی آوازوں کو یو اے پی اے کی بھٹی میں جھونک دیا جائے گا؟ کیا عدلیہ اپنی اس تاریخی ذمہ داری کو نبھا پائے گی جس کا مقصد کمزور کو طاقتور کے ظلم سے بچانا ہے؟ اگر آج عمر خالد، شرجیل امام اور خالد سیفی جیسے کارکنان کو منصفانہ ٹرائل اور ضمانت کا بنیادی حق نہیں ملتا تو تاریخ یہ لکھنے پر مجبور ہوگی کہ اکیسویں صدی کے ہندوستان میں انصاف صرف طاقتور کی لونڈی بن کر رہ گیا تھا۔ بین الاقوامی دباؤ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی دہائیاں اور عالمی ضمیر کی آوازیں اس وقت تک بے اثر رہیں گی جب تک ہندوستان کا اپنا اجتماعی ضمیر بیدار نہیں ہوتا۔ ضروری ہے کہ ریاست سیاسی انتقام کی عینک اتار کر آئین کی روشنی میں فیصلے کرے ورنہ یہ قید خانے صرف انسانوں کو نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے مستقبل کو بھی دفن کر دیں گے۔

  اس معاملے میں سب سے زیادہ تشویش ناک سوال یہی ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر عمر خالد کا مقدمہ برسوں سے التوا کا شکار ہے اور کیوں یہ تاخیر رفتہ رفتہ ہندوستان کے لئے بین الاقوامی بدنامی کا سبب بنتی جا رہی ہے۔ کسی بھی مہذب قانونی نظام میں مقدمات کی طوالت کو انتظامی کمزوری، تفتیشی ناکامی یا عدالتی دباؤ کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر یہاں تاخیر محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انصاف نہ دینے کی یہ تاخیر بذاتِ خود ایک خاموش سزا میں تبدیل کر دی گئی ہے جہاں برسوں تک قید میں رکھنا ہی مقصد بن چکا ہے اور فیصلہ سنانا غیر ضروری سمجھ لیا گیا ہے۔ اس تاخیر کی پہلی اور بنیادی وجہ وہ سیاسی فضا ہے جس میں یہ مقدمہ پروان چڑھا۔ دہلی فسادات کے بعد ایک بیانیہ گڑھا  گیا جس میں چند مخصوص طلبہ، کارکنان اور دانشوروں کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دے دیا گیا۔ اس بیانیے کے بعد ریاستی اداروں کیلئے پیچھے ہٹنا سیاسی شکست کے مترادف بنا دیا گیا۔ اگر ٹرائل شروع ہوتا، گواہوں سے جرح ہوتی اور شواہد کی کسوٹی پر مقدمہ پرکھا جاتا تو اندیشہ تھا کہ ساری کہانی زمیں بوس ہوجائے گی۔ چنانچہ تاخیر کو ہی سب سے محفوظ راستہ سمجھا گیا۔ نہ بری کرنا پڑے، نہ ثبوت پیش کرنے کی ذلت اٹھانی پڑے بس وقت کو ہتھیار بنا کر قید کو طول دیا جائے۔ دوسری اہم وجہ یو اے پی اے جیسے قوانین کا وہ ڈھانچہ ہے جو ضمانت کو تقریباً ناممکن بنا دیتا ہے اور ریاست کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ برسوں تک فرد کو محض الزامات کی بنیاد پر قید رکھ سکے۔ اس قانون نے تفتیشی اداروں کو جواب دہی سے تقریباً آزاد کر دیا ہے۔ نہ چارج شیٹ میں تاخیر پر کوئی مؤثر گرفت، نہ ٹرائل شروع نہ ہونے پر کوئی فوری سوال۔ یہی وجہ ہے کہ عمر خالد کا مقدمہ فائلوں کے انبار میں دب کر رہ گیا اور ہر پیشی محض تاریخ پر تاریخ بن کر رہ گئی۔ اس قانونی جال نے تاخیر کو معمول اور قید کو معمولی بنا دیا۔ تیسری اور سب سے افسوسناک وجہ عدالتی بے عملی ہے۔ عدالتیں اگرچہ آئینی طور پر آزاد ہیں مگر ایسے حساس سیاسی مقدمات میں ان کی رفتار اور جرات سوالوں کے گھیرے میں آ جاتی ہے۔ ضمانت کی درخواستوں کا بار بار مسترد ہونا، سماعتوں کا غیر معینہ مدت تک موخر ہونا اور فیصلہ کن ریمارکس سے گریز اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ عدلیہ یا تو دباؤ میں ہے یا خاموش رہنے کو ہی عافیت سمجھ رہی ہے۔ یہی خاموشی بالآخر بین الاقوامی سطح پر شور بن کر ابھری کیونکہ جب داخلی فورمز پر انصاف کی امید دم توڑنے لگتی ہے تو عالمی دروازے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں یہ معاملہ محض ایک ملکی قانونی کیس نہیں رہا بلکہ ہندوستان کی جمہوری ساکھ کا سوال بن گیا۔ جب برسوں تک ٹرائل شروع نہ ہو، جب قید کا دورانیہ ممکنہ سزا سے بھی زیادہ ہو جائے اور جب حکومت ہر تنقید کو سازش کہہ کر رد کرتی رہے تو عالمی برادری کے لئے خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا۔ بین الاقوامی سطح پر یہ سوال اٹھنا فطری تھا کہ اگر ہندوستان واقعی قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہے تو پھر انصاف میں یہ غیر معمولی تاخیر کیوں؟ یہی سوال آہستہ آہستہ تشویش میں بدلا اور تشویش نے بدنامی کی شکل اختیار کر لی۔ درحقیقت یہ بدنامی بیرونی طاقتوں کی پیدا کردہ نہیں بلکہ اندرونی ناانصافیوں کی فطری پیداوار ہے۔ ریاست اگر ابتدا ہی میں شفاف ٹرائل، تیز رفتار سماعت اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کو یقینی بناتی تو شاید یہ معاملہ عالمی سطح پر موضوعِ بحث ہی نہ بنتا۔ مگر جب انصاف کو موخر کیا گیا، جب قید کو ہتھیار بنایا گیا اور جب اختلاف کو جرم کے طور پر پیش کیا گیا تو دنیا نے بھی سوال اٹھانا شروع کر دیے۔ یہ سوال ہندوستان کی خود مختاری پر حملہ نہیں بلکہ اس کے آئینی وعدوں کی یاد دہانی ہیں۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter