2026 کی آمد اور گزشتہ سال کا احتساب
وقت ایک ایسا بہتا ہوا دریا ہے جو نہ کسی کے لیے رکتا ہے اور نہ ہی پلٹ کر دیکھتا ہے۔ دن مہینے اور سال اسی روانی میں ہمارے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں اور ہمیں احساس بھی تب ہوتا ہے جب ایک اور سال اپنی تمام تر یادوں، تجربات، کامیابیوں اور ناکامیوں سمیت ماضی کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ نئے سال کی آمد محض کیلنڈر کی ایک تاریخ بدل جانے کا نام نہیں بلکہ یہ لمحہ ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں، پرکھیں اور اپنی زندگی کے سفر کا دیانت دارانہ جائزہ لیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ نئے سال کو صرف خوشیوں، خواہشوں اور تمناؤں کے شور میں خوش آمدید کہہ دیتے ہیں مگر گزرے ہوئے سال کے احتساب کی زحمت کم ہی گوارا کرتے ہیں حالانکہ یہی احتساب آئندہ سال کی سمت متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ نئے سال کے آغاز پر منصوبے بنانا، بڑے بڑے اہداف طے کرنا اور خود سے بلند دعوے کرنا اب ایک عام رجحان بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا، تقاریر اور نشستوں میں ترقی، کامیابی اور تبدیلی کے خواب بڑی آسانی سے سجا لیے جاتے ہیں مگر ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے جس مستقل مزاجی، محنت اور خود احتسابی کی ضرورت ہوتی ہے وہ اکثر مفقود نظر آتی ہے۔ بہت سے لوگ محض جوش کے عالم میں منصوبہ بندی کر لیتے ہیں مگر چند ہی دنوں یا ہفتوں میں وہی منصوبے سرد خانے کی نذر ہو جاتے ہیں۔ کچھ افراد مقصد کو صرف خیال اور خواہش تک محدود رکھتے ہیں اور کچھ تھوڑی سی عملی کوشش کے بعد دوبارہ اپنی پرانی روش پر واپس لوٹ آتے ہیں۔ اس کے برعکس زندگی میں آگے بڑھنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو ہدف طے کرنے کے بعد ثابت قدمی کے ساتھ اس کے حصول میں لگے رہتے ہیں، رکاوٹوں سے گھبراتے نہیں اور نتائج کی پروا کیے بغیر مسلسل جدو جہد کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم بطور معاشرہ صرف اس کوشش کو قابلِ قدر سمجھتے ہیں جو بظاہر کامیابی سے ہمکنار ہو جائے۔ ناکامی کا سامنا کرنے والوں کو اکثر مایوسی، طنز اور نظر انداز کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ دانشوروں اور ماہرینِ نفسیات کے نزدیک کسی مقصد کے حصول کے لیے خلوصِ نیت کے ساتھ آخری حد تک جد وجہد کرنا بذاتِ خود ایک بڑی کامیابی ہے چاہے فوری طور پر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں۔ جو شخص کوشش کے مرحلے سے گزرتا ہے وہ تجربے، شعور اور سیکھنے کے اعتبار سے ان لوگوں سے کہیں آگے ہوتا ہے جو محض ناکامی کے خوف سے قدم ہی نہیں اٹھاتے۔ ناکامی دراصل کامیابی کی پہلی درسگاہ ہے بشرطیکہ اسے مایوسی کے بجائے سیکھنے کے موقع کے طور پر دیکھا جائے۔ خود احتسابی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم گزرے ہوئے سال کو صرف سرسری نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ اس کے ہر پہلو پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ہمیں خود سے ایماندارانہ سوالات کرنے چاہئیں کہ گزشتہ سال میں ہماری زندگی میں کون سے اہم واقعات پیش آئے، ان کے اثرات ہمارے لیے کس حد تک مثبت یا منفی رہے، کن مواقع پر ہم نے درست فیصلے کیے اور کہاں ہم سے لغزش ہوئی۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ درپیش چیلنجز نے ہماری سوچ، رویے اور شخصیت میں کیا تبدیلی پیدا کی۔ ہماری جسمانی صحت، ذہنی سکون اور جذباتی کیفیت کس حد تک متوازن رہی، ہمارے پیشہ ورانہ سفر اور ذاتی تعلقات میں کیا اتار چڑھاؤ آیا؟ یہ سب سوالات خود احتسابی کے عمل کو بامعنی بناتے ہیں۔ اس مرحلے پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم حقیقت سے نظریں نہ چرائیں بلکہ اس کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کریں کیونکہ سچ کا سامنا ہی حقیقی تبدیلی کی بنیاد بنتا ہے۔ گزشتہ سال کا محاسبہ کرتے وقت صرف ناکامیوں کو یاد کرنا اور خود کو ملامت کرنا دانشمندی نہیں۔ اسی طرح صرف کامیابیوں پر فخر کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں کو نظر انداز کرنا بھی خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ متوازن رویہ یہ ہے کہ ہم اپنی کامیابیوں پر شکر گزار ہوں، ان سے حوصلہ حاصل کریں اور اپنی ناکامیوں کو سبق کے طور پر قبول کریں۔ کامیابیوں کا معتدل انداز میں جشن منانا انسان کو جذباتی تقویت دیتا ہے، اس کے اعتماد کو بحال کرتا ہے اور آئندہ کے سفر کے لیے نئی توانائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر انسان مسلسل ناکامیوں اور محرومیوں ہی کو سوچتا رہے تو پژمردگی اور مایوسی اس کے اندر سرایت کر جاتی ہے جو نئے سال کے اہداف کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔ غلطیوں کا وجود انسانی زندگی کا فطری حصہ ہے۔ اصل خرابی غلطی ہونے میں نہیں بلکہ اسے تسلیم نہ کرنے اور بار بار دہرانے میں ہے۔ گزشتہ سال کی لغزشوں کو یاد رکھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ہم ان کے اسباب و عوامل کو سمجھ سکیں اور آئندہ ان سے بچنے کی عملی تدبیر اختیار کر سکیں۔ یہی عمل انسان کو پختگی عطا کرتا ہے اور صحیح و غلط کے درمیان فرق کی پہچان دیتا ہے۔ اس تناظر میں ناکامی دراصل رہنمائی کا ایک خاموش ذریعہ بن جاتی ہے جو ہمیں بہتر فیصلوں کی طرف لے جاتی ہے۔
جب ہم گزرے ہوئے سال سے حاصل شدہ تجربات، سیکھے گئے اسباق اور اپنی اندرونی تبدیلیوں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اپنی شخصیت کی خامیاں اور خوبیاں دونوں واضح نظر آنے لگتی ہیں۔ یہ مرحلہ خود سازی کا نقطۂ آغاز ہے۔ اگر ہم ان تبدیلیوں کو بہتر سمت میں آگے بڑھانے کی کوشش کریں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ ہمارے مقاصد بھی زیادہ واضح اور قابلِ حصول ہو جاتے ہیں۔ نئے سال کے اہداف طے کرنے سے پہلے گزشتہ سال کے تجربات کو سامنے رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ ہم حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کر سکیں اور غیر ضروری غلطیوں سے بچ سکیں۔ گزشتہ سال کی کامیابیوں، ناکامیوں اور چیلنجز کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے بعد جب ہم نئے سال کے لیے اہداف متعین کرتے ہیں تو ہمارے فیصلوں میں پختگی آ جاتی ہے۔ ایسے اہداف جو قابلِ حصول ہوں اور جن کی پیش رفت کو جانچا جا سکے انسان کو عملی طور پر متحرک رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے اہداف کا مسلسل جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ حالات کے مطابق خود کو ڈھالا جا سکے اور رفتار کو برقرار رکھا جا سکے۔ دراصل خود احتسابی اس بات کا اعلان ہے کہ انسان اپنی زندگی کو بے سمت نہیں چھوڑنا چاہتا بلکہ شعور، ذمہ داری اور مقصد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ آخرکار یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نئے سال کی حقیقی خوبصورتی آتش بازی، نعروں اور وقتی جوش میں نہیں بلکہ اس سنجیدہ سوچ میں ہے جو ہمیں خود کو بہتر بنانے پر آمادہ کرے۔ جو شخص اپنے ماضی سے سیکھ کر حال کو سنوارتا ہے وہی مستقبل کو روشن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گزرے ہوئے سال کا دیانت دارانہ احتساب دراصل آنے والے سال کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور یہی سرمایہ انسان کو محض وقت گزارنے والا نہیں بلکہ بامقصد زندگی گزارنے والا بنا دیتا ہے۔ زندگی کا اصل حسن اس بات میں نہیں کہ انسان کبھی ٹھوکر نہ کھائے بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہر ٹھوکر کے بعد خود کو سنبھال کر پہلے سے زیادہ شعور اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔ وقت بار بار دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا وہ ہر سال ایک نیا موقع دے کر خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ اب یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اس موقع کو غفلت کی نذر کر دیں یا اسے اپنی اصلاح اور بہتری کا ذریعہ بنا لیں۔ جو لوگ ماضی کو صرف حسرتوں اور شکوؤں کا دفتر بنا لیتے ہیں وہ حال میں بھی الجھے رہتے ہیں جبکہ دانشمند لوگ ماضی کو چراغ بنا کر حال کے اندھیروں میں راستہ تلاش کرتے ہیں۔ خود احتسابی کا عمل محض الفاظ یا خیالات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عملی زندگی میں ڈھالنا ضروری ہے۔ اگر انسان اپنی کوتاہیوں کو پہچان تو لے مگر انہیں درست کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کرے تو یہ احتساب محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتا ہے۔ اصل نصیحت وہی ہے جو انسان کو بدل دے، اس کے رویے میں نرمی، فیصلوں میں دانائی اور عمل میں استقامت پیدا کر دے۔ جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرنا سیکھ لیتا ہے وہ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے خود کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے اور یہی رویہ انسان کو اخلاقی بلندی عطا کرتا ہے۔ نئے سال کا پیغام یہ بھی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کریں۔ دنیا کی دوڑ میں بہت سے لوگ کامیابی کی تعریف صرف دولت، شہرت یا منصب سے کرتے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ سب چیزیں عارضی ثابت ہوتی ہیں۔ حقیقی کامیابی وہ ہے جو انسان کے کردار میں نظر آئے، معاملات میں سچائی جھلکے، رویے سے دوسروں کو امن و سکون کا احساس ہو۔ اگر ہم نے پورا سال بھاگ دوڑ میں گزار دیا مگر خود کو بہتر انسان نہ بنا سکے تو ایسی کامیابی بھی دراصل ایک خالی خول کے سوا کچھ نہیں۔ انسان کو اپنے آپ سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ مایوسی وہ اندھیرا ہے جو نہ صرف حال کو بے نور کر دیتا ہے بلکہ مستقبل کی امیدوں کو بھی نگل لیتا ہے۔ جو شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔وہی اصل میں زندہ دل ہوتا ہے۔ ہر نیا دن، ہر نیا سال ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی نیت کو تازہ کریں، اپنے عزم کو مضبوط کریں اور اپنی کمزوریوں کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ الله تعالیٰ نے انسان کو غلطی کے ساتھ ساتھ توبہ اور اصلاح کی صلاحیت بھی عطا کی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ تبدیلی کا عمل یک دم نہیں ہوتا۔ جو لوگ ایک ہی دن میں سب کچھ بدل دینے کا خواب دیکھتے ہیں وہ اکثر چند دنوں میں تھک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان آہستہ آہستہ مگر مستقل طور پر آگے بڑھے۔ چھوٹے چھوٹے مثبت قدم، معمولی مگر مسلسل اصلاح اور روزانہ کا تھوڑا سا احتساب مل کر ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ جو شخص صبر کے ساتھ اس راستے پر قائم رہتا ہے، وقت خود اس کے حق میں فیصلے کرنے لگتا ہے۔ نئے سال کی اصل روح یہ نہیں کہ ہم صرف دوسروں سے بہتر بننے کی کوشش کریں بلکہ یہ ہے کہ ہم کل کے اپنے آپ سے بہتر بن سکیں۔ اگر آج ہمارا اخلاق کل سے بہتر ہے، ہماری سوچ پہلے سے زیادہ مثبت ہے اور ہمارا عمل زیادہ ذمہ دار ہو چکا ہے تو یہی ہمارے نئے سال کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ زندگی کا مقصد صرف جینا نہیں بلکہ بہتر انداز میں جینا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم ہر سال، ہر مہینے اور ہر دن خود کو پرکھتے رہیں۔ لہٰذا! اس نئے سال کو اپنے دل و دماغ کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنائیں۔ انا، غفلت اور خود فریبی کو پیچھے چھوڑ دیں اور سچائی، عاجزی اور محنت کو اپنا زادِ راہ بنائیں۔ یاد رکھیں! وہی انسان وقت کے امتحان میں سرخرو ہوتا ہے جو خود کو بدلنے کی ہمت رکھتا ہے اور وہی قوم آگے بڑھتی ہے جو ماضی سے سبق لے کر حال کو سنوارتی اور مستقبل کو امید کے چراغوں سے روشن کرتی ہے۔ یہی سوچ، یہی عزم اور یہی مسلسل خود احتسابی انسان کو محض زندہ نہیں بلکہ بامقصد اور باوقار زندگی عطا کرتی ہے۔