شعبان المعظم رمضان کی روحانی تیاریوں کا مہینہ

   اسلامی تقویم میں بعض مہینے ایسے ہیں جو صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کی روحانی تربیت اور اخلاقی تعمیر کا ذریعہ ہیں۔ انہی مبارک مہینوں میں شعبان المعظم کو ایک خصوصی مقام حاصل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو رمضان المبارک کی آمد کا پیش خیمہ، اس کے انوار و برکات کا دروازہ اور بندۂ مومن کے لیے خود احتسابی و تیاری کا سنہرا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر رمضان المبارک ایمان و تقویٰ کی معراج ہے تو شعبان المعظم اس معراج تک پہنچنے کی سیڑھی ہے۔ شعبان المعظم دراصل دو عظیم مہینوں کے درمیان واقع ہے۔ ایک طرف رجب المرجب جیسا معزز مہینہ اور دوسری طرف رمضان المبارک جیسا بے مثال مہینہ۔ اسی نسبت سے نبی کریم ﷺ نے اس مہینے کو خاص اہمیت عطا فرمائی۔ حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”یارسول الله ﷺ! میں آپ کو شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں اتنے نفلی روزے رکھتے نہیں دیکھتا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایک ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہیں حالانکہ اس میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں“۔ (سنن النسائی:2357) شعبان المعظم غفلت کا نہیں بلکہ بیداری کا مہینہ ہے۔ رمضان المبارک میں عبادت کا ذوق اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب دل پہلے سے اس کے لیے آمادہ ہو اور یہی آمادگی شعبان المعظم میں حاصل کی جاتی ہے۔ شعبان المعظم کی ایک اور عظمت اس نسبت سے بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس مہینے کو اپنا مہینہ فرمایا ہے۔ حدیث میں آتا ہے: ”رجب الله کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے“۔ (کنز العمال: 35175) شعبان المعظم میں نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ رمضان المبارک میں فرض عبادات خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی جا سکیں۔

  شعبان المعظم کا ایک نمایاں پہلو کثرتِ صیام ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہ فرماتی ہیں: ”نبی کریم ﷺ شعبان کے مہینے میں اتنے روزے رکھتے کہ ہم گمان کرتے شاید آپ ﷺ اس میں افطار ہی نہیں کریں گے اور کبھی افطار فرماتے تو یوں لگتا کہ شاید روزہ نہیں رکھیں گے لیکن میں نے آپ ﷺ کو رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں پورے مہینے کے روزے رکھتے نہیں دیکھا اور شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں اتنے زیادہ روزے رکھتے بھی نہیں دیکھا“۔ (صحیح البخاری:1969) یہ روزے  بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ نفس کو ضبط میں لانے، خواہشات کو قابو میں رکھنے اور دل کو الله تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے کی عملی مشق ہیں۔ یہی مشق رمضان المبارک میں تقویٰ کی صورت اختیار کر لیتی ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے  گئے جیسے تم سے اگلوں پر فرض ہوئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ“۔ (البقرہ) شعبان کا ایک عظیم الشان پہلو لیلۃ النصف من شعبان بھی ہے جسے برصغیر میں شب براءت کہا جاتا ہے۔ متعدد احادیث میں اس رات کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”الله تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنی مخلوق کی طرف نظر فرماتا ہے اور مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ سب کو بخش دیتا ہے“۔(سنن ابن ماجہ: 1390) یہ رات بندہ مومن کے لیے مغفرت، توبہ اور اصلاحِ باطن کا نادر موقع ہے۔ لیکن اس رات کی اصل روح آتش بازی، فضول رسومات یا اختلافات میں نہیں بلکہ خاموشی، عاجزی اور رب کے حضور جھکنے میں ہے۔ جو دل کینہ، حسد اور نفرت سے پاک ہوگا، وہی اس رات کی برکات سمیٹ سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کی کامیابی کا انحصار اسی بات پر ہے کہ ہم شعبان المعظم کو کیسے گزارتے ہیں۔ اگر شعبان غفلت میں گزر جائے تو رمضان المبارک رسمی بن کر رہ جاتا ہے اور اگر شعبان المعظم میں دل بیدار ہو جائے تو رمضان المبارک زندگی بدل دینے والا مہینہ بن جاتا ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کی عادت، نمازوں میں خشوع، نفلی عبادات کا ذوق، گناہوں سے بچنے کی فکر اور حقوق العباد کی ادائیگی یہ سب وہ اوصاف ہیں جو شعبان المعظم میں پروان چڑھتے ہیں اور رمضان میں کمال کو پہنچتے ہیں۔ آج جبکہ رمضان المبارک بھی اکثر مصروفیات، بازاروں اور ظاہری تیاریوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ شعبان المعظم ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اصل تیاری دل، نیت اور کردار کی ہوتی ہے۔ جو شخص شعبان المعظم میں اپنے دل کی صفائی نہیں کرتا وہ رمضان المبارک میں محض رسم کا روزہ رکھتا ہے اور جو شعبان المعظم میں اپنے باطن کو سنوار لیتا ہے اس کا رمضان المبارک عبادت، قرب الٰہی اور نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ بلاشبہ شعبان المعظم رمضان المبارک کا دروازہ ہے۔ جو اس دروازے پر ادب، تیاری اور شعور کے ساتھ حاضر ہو گیا اس کے لیے  رمضان کی رحمتیں کھل جاتی ہیں اور جو اس دروازے سے غفلت میں گزر گیا وہ رمضان المبارک کی بے شمار برکتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ الله تعالیٰ ہمیں شعبان المعظم کی قدر کرنے، اس کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے اور رمضان المبارک کا حقیقی استقبال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter