کلام صوفیہ میں رمزیت  اور معنی آفرینی

تصوف ایک ذوقی اور وجدانی علم ہے۔ صوفیہ کرام راہ سلوک میں مختلف تجربات سے دو چار ہوتے ہیں۔ مختلف مقامات سے گزرتے ہیں۔ان پر مختلف واردات اور کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ یہ واردات و کیفیات اور احوال و مقامات ایک ایسی دنیا یا دنیاؤں کے ہوتے ہیں  جس کو یاجن کو اشاراتی زبان میں لامکانی اور لا زمانی دنیا کہا جاتا ہے۔ وہ دنیا اس عالم رنگ و بو سے ماوراء ہوتی ہے۔وہ عالم اس دنیائے کون و مکان سے بلند ہوتا ہے اس پر دنیا یا عالم کا اطلاق محض زبان کے عجز کا اظہار اور زبان کی محدودیت کا شکوہ ہے۔بعض صوفیہ کے نزدیک وہ دنیا لامکانی و لازمانی تو نہیں ہوتی لیکن کثرت موہوم کے فروق و امتیازات اس دنیا میں نہیں ہوتے وہ ایک دائر وحدت کی دنیا ہوتی ہے۔عالم کثرت کی پروردہ زبان اس وحدت نظارہ کے بیان سے قاصر ہوتی ہے۔صوفیہ کرام کے تجربات چوں کہ ذوقی ہو تے ہیں اس لیے یہ دونوں باتیں درست ہو سکتی ہیں اور مختلف صوفیہ کے تجربات مختلف ہو سکتے ہیں۔

صوفیہ کرام اپنے سفر سلوک میں اس دنیا میں پہنچتے ہیں جہاں وقت کا حجاب اٹھ جاتا ہے، جہاں مکان کی قید ختم ہو جاتی ہے جہاں گفتگو حرف و صوت کی محتاج نہیں ہوتی اور معنی کو لفظ کے لباس کی احتیاج نہیں ہوتی۔ لیکن جب وہ اس دنیا سے واپس آتے ہیں (یہ ذھاب اور ایاب وقت کا محتاج نہیں ہو تا) تو اس دنیا کے مشاہدات کو بیان کرنے کے لیے صوفیہ کے پاس صرف وہی زبان ہوتی ہے جو وقت اور مکان کی دنیا میں پابند اسی عالم رنگ و بو میں وضع کی گئی ہے جس کا مقصد صرف اس عالم آب و گل میں ترسیل و ابلاغ ہے اور اس زبان کا یہ عالم ہے کہ یہ زبان خود اس عالم کون و فساد کے حقائق کو بھی پوری طرح آشکار نہیں کر پاتی چہ جائیکہ اِس میں اُس عالم کے حقائق بیان کیے جائیں جہاں یہ زبان صرف زبان ِبے زبانی ہے۔ اُس عالم کے حقائق کو اِس ملفوظی زبان میں ادا کرنا مشکل ہے۔ایک بات واضح رہے کہ صوفیہ کا یہ سفر حقیقی معنوں میں کسی موجود یا خارجی چیز کا سفر نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ ایک طرح کی دروں بینی اور ایک طرح کا ذہنی سفرہے۔ جس کا اثبات بعض صوفیہ نے واضح الفاظ میں کیا ہے۔اس سفر میں وہ جن مشاہدات اور تجربات سے دوچار ہو تے ہیں وہ مشاہدات اور مرئیات اور تجلیات اتنی مسحور کن اور خیرہ کر دینے والی ہو تی ہیں کہ اس سے دوچار ہو نے والا شخص اس میں مبہوت اور ششدر رہ جاتا ہے۔ اور پھر جیسے جیسے اس کا مشاہدہ وسیع ہو تا ہے اور ان لامکانی حقائق کا ادراک جتنا زیادہ ہوتا جاتا ہے۔اس کے الفاظ ختم ہو نے لگتے ہیں بلکہ الفاظ کے اشارے اتنے ہی تنگ ہوتے جاتے ہیں کہ وہاں زبان ترسیل کا ذریعہ نہیں رہ پاتی۔ اسی طرح کی کیفیت کے بارے میں امام نفری نے اپنی کتاب المواقف میں لکھا ہے، کلما اتسعت الروءۃضاقت العبارۃ۔(یعنی مشاہدہ جتنا زیادہ وسیع ہو تا ہے الفاظ کی قبا اتنی ہی تنگ ہو جاتی ہے۔)(1)یہ مشاہدات اتنے ما ورائی ہو تے ہیں کہ اس مقام پر عبارت حجاب بن جاتی ہے(2) اور اپنی حجابیت میں علم و جہل دونوں ہی دیدار کے لیے حجاب کا کام کرتے ہیں (3)  اور نفری نے ہی ایک دوسرے موقعہ یہ عبارت نقل کی ہے ’الحرف یعجزان یخبر عن نفسہ فکیف یخبر عنی‘ (لفظ تو درماندہ ہے کہ اپنے ہی معنی بیان کرسکے وہ میرے بارے کیا اطلا ع دے سکتا ہے۔)(4)

زبان کی ان تنگنائیوں کے با وجودان مراحل سے دو چار ہونے والوں کے سامنے اور کوئی راستہ بھی نہیں کہ وہ وہی زبان استعمال کریں جسے وہ جانتے ہیں اور جسے دوسرے سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ لامکاں اور لازماں کے حقائق کو زمان و مکان کی اس وصفی اور ملفوظی زبان میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یعنی حسیات سے بلند دنیا کی واردات کو عالم محسوسات کے لیے تشکیل دی گئی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی گفتگو مرموز اور بسا اوقات غیر واضح ہو جاتی ہے۔ عام قاری اس عبارت کا کوئی حتمی مفہوم متعین نہیں کر پاتا یا کہنے والے  کی مرادکے برخلاف معنی اخذ کرتا ہے اور بسا اوقات محض اس زبان کو صحیح محمل میں نہ رکھنے کی وجہ سے صوفیہ  کرام مطعون بھی ہوتے رہے ہیں اور ان پر طرح طرح کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

در اصل صوفیہ جن کیفیات سے دوچار ہو تے ہیں ان کو صرف وہی لوگ جان سکتے ہیں جو اس جہاں سے آشنا ہیں جس کے وہ حقائق ہیں۔وہاں اول تو کوئی زبان ہی نہیں چونکہ زبان تومخفی چیزوں کے بارے میں شرح کا کام کر تی ہے اور وہاں تو ہر چیزآئینہ ہے۔ اگران مشاہدات کے لیے کوئی متعین زبان ہو گی بھی تو اس سے یہ سالکین واقف نہیں ہو تے۔ اس لئے  وہاں کے حقائق کو بیان کر نے کے لیے کسی بھی ظاہری یا باطنی مشابہت یا مماثلت کے شائبہ کی بنیاد پر اس عالم رنگ و بوکاکوئی لفظ استعمال کر تے ہیں وہ لفظ ان کی مراد نہیں ہو تا بلکہ مراد کے لیے صرف اشارہ یا تمثیل ہوتی ہے۔ ان کی مراد کو سمجھنا اور ان کے کلام کو محمل حسن پر اتارنا ضروری ہے۔

صوفیہ کو خود بھی ہمیشہ اس کا احساس رہا کہ جو الفاظ وہ استعمال کرتے ہیں ان الفاظ کے قالب ان معنی کے متحمل نہیں ہیں جو وہ مراد لیتے ہیں۔  اس لیے صوفیہ دراصل لفظ کے ذریعے اس کے معنی مراد نہیں لیتے بلکہ معنی کے معنی مراد لیتے ہیں کہ لفظ جس حقیقت کی کشودکرتا ہے وہ حقیقت مطلوب نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت تو اس کے درون میں مخفی ہے اور اس تک رسائی کے لیے لفظ صرف ایک وسیلہ یا اشارہ کا کام کرتا ہے۔ اس حقیقت کوعیان دیکھنے کے لیے لفظ کی قبا کو چاک کر کے بطون معنی میں مشاہدہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس لیے بعض صوفیہ نے یہ دعوت دی ہے کہ پیکر ملفوظات کی وادی سے گزر کر ہی وہ علم حاصل ہوتا ہے جو مکمل طور پر کامل ہے۔ جہاں یکتائیت ہے حق کی بھی اور ہر چیز کی۔وہ کائنات ایسی ہے جس کا امتیاز یکتائی ہے،وحدت ہے،فرق و امتیاز سے بلندی ہے۔ جبکہ ہماری یہ دنیا یاکائنات زوج زوج ہے۔ یہاں علم کے ساتھ جہالت اور عدل کے ساتھ ظلم وابستہ ہے۔اور اس تضاد کے ذریعے ہی ہم معانی کا تعین کرتے ہیں۔ اس لیے اس کے حرفی پیکر بھی اسی طرح کے متضاد صفات کے حامل معانی پر دلالت کرتے ہیں جب کہ صوفیہ کے تجربات اس سے ماوراء ہو جاتے ہیں۔

صوفیہ کرام کی گفتگومرموز تھی۔ عام آدمی کے لیے اس کا فہم مشکل تھا۔اس لیے ان کے اس کلام کو اشارہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ خود صوفیہ بھی اس کو اشارات ہی کہتے ہیں۔ابو علی روذباری نے فرمایا کہ ”ہمارا یہ علم محض اشارات ہیں، اگر ان کوملفوظی زبان کا جامہ پہنایا جائے تو ان کا مفہوم مخفی ہو جاتا ہے۔“ (5) اس کا مطلب یہی ہے کہ ان حقائق کو برہنہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا چونکہ وہ حقائق ملفوظی زبان کی قید سے بلند ہیں۔ ابو بکر کلاباذی نے اس لیے ان علوم کو علوم خواطر اور علوم مشاہدات اور مکاشفات کہا ہے اور لکھا ہے اسے علم اشارہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ دلوں کے مشاہدات اور باطنی کیفیات کی تشریح تحقیقی طور پر نہیں ہو سکتی۔اس کی طرف اشارہ ہی کیا جا سکتا ہے۔(6)

تصوف کے اولین شارح اور مصنف ابو نصر السراج نے اپنی شہرہ آفاق کتاب اللمع فی التصوف میں لفظ اشارہ کی تشریح  میں لکھا ہے کہ اشارہ کا مطلب ہے کہ متکلم خود تو اس بات سے آگاہ ہو لیکن اس بات کے لطیف ہونے کی وجہ سے وہ اس کو الفاظ کا جامہ نہ پہنا سکے۔(7) اشارہ کے مترادف ایک اور لفظ متقدمین صوفیہ کی اصطلاحات میں استعمال ہوا ہے اور وہ ہے رمز۔ رمز و اشارہ کو بعض صوفیہ نے الگ الگ بھی بیان کیا ہے اور بعض نے مترادف  معنی میں رکھا ہے۔ لیکن اپنے مفہوم کے اعتبارسے یہ دونوں الفاظ قریب قریب مترادف ہی ہیں۔ ابو نصر السراج نے رمز کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے ”ظاہری الفاظ کے تحت ایسے باطنی معنی رکھ دینا جسے صرف رمز شناس صوفیہ ہی سمجھ سکیں، کوئی دوسرا نہ سمجھ سکے۔“ (8) اور اسی طرح کی بات اشارہ کے بارے میں کہی ہے جس کا تذکرہ اوپر آیا ہے۔

صوفیہ کی اس مرموز گفتگو کا ادراک اس دور کے دیگر اہل علم کو بھی تھا اور وہ محسوس کرتے تھے کہ صوفیہ جس زبان میں گفتگو کرتے ہیں وہ عسیر الفہم ہے۔ عام انسان پر اس کا مفہوم پوری طرح واضح نہیں ہوتا۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اس زبان پر اعتراضات بھی کیے۔ مثلاً ایک مشہور صوفی ابوالعباس بن عطا سے کسی نے خاص اس زبان کے بارے میں سوال کیا کہ ”صوفیو! تمھیں کیا ہو گیا ہے۔ تم نے یہ کیسے الفاظ وضع کر لیے ہیں جو عام لوگوں کے لیے غیر مانوس ہیں، اور عام رائج الوقت زبان کو ترک کر کے تم نے نامانوس زبان استعمال کرنی شروع کر دی ہے۔  ایساتم کیوں کرتے ہو؟ کیا حقائق کی پردہ پوشی کے لیے یا اپنے مسلک کے عیوب پر پردہ ڈالنے کے لیے؟
 

ابو العباس نے جواب دیا ’چونکہ ہمارے نزدیک یہ علم ایک نایاب علم ہے اس لیے ہم نے غیرت کھاتے ہوئے ایسا کیا ہے تاکہ ہماری جماعت کے سوا کوئی اور اس کا مزا نہ چکھ سکے۔

اس کے بعد انھوں نے یہ اشعار کہے
 اَحْسَنُ مَا اَظْہَرَہٗ و نُظْہرُہٗ
 بَادِیْ حَقٍّ لِلْقُلُوبِ نَشْعُرہٗ
کیا ہی عمدہ بات ہے جسے اللہ نے ظاہر کیا اور ہم نے بھی ظاہر کیااور وہ حق تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والے امور ہیں جنھیں ہم دلوں پر واضح کر دیتے ہیں۔

یُخْبِرُنی عنّی وَعْنہٗ اُخْبِرُہٗ
اَکْسُوْہُ مِن رَوْنقہ مَا یَسْتُرُہٗ
اللہ مجھے میری حقیقت بتا دیتا ہے اور میں اسے اس کے متعلق خبر دیتاہوں اور میں اس کو ایسی آب و تاب پہناتا ہوں کہ
عَنْ جَاہِل لَا یَسْتطیْعُ ینشرہ
یُفْسِدْ مَعْنَاہٗ اِذَا مَا یَعْبُرہٗ
اس کی وجہ سے وہ ایسے جاہل لوگوں سے پوشیدہ ہو جاتا ہے جونہ اسے ظاہر کر سکتی ہیں۔اور اگر بیان کرناچا ہیں تو اس کا مفہوم بگاڑ دیتے ہیں۔

فلا یطیق اللفظ بل لا یعشرہ
ثم یوافی غیرہ فیخبرہ
چنانچہ وہ ایک لفظ بھی کہنے کی طاقت نہیں رکھتا بلکہ اس کا دسواں حصہ بھی نہیں کہہ سکتا پھر اوروں کے پاس جاتا ہے جو اسے بتاتے ہیں۔

فَیُظْہِرُ الجَہْلَ وَیَبْدُوْ رَمزہٗ
وَیَدْرُسُ العِلم وَیَعْفُوْ اَشَرُہٗ
اس طرح وہ جہالت کا اظہار کرتا ہے جس سے اس کے رمز کا وجود ظاہر ہوجاتا ہے۔ علم مٹ جاتا ہے اور اس کا نشان تک باقی نہیں رہتا۔

اور انھوں نے یہ اشعار بھی پیش کیے:
اِذَا اَہْل العِبَارَۃِ سَاءَلَوْنَا
اَجَبْنَا ہُمْ بِاَعْلَامِ الاِشَارَہٗ
جب اہل عبارت ہم سے سوال کرتے ہیں تو ہم ان کو اشاروں سے جواب دیتے ہیں۔
 نُشِیْرُبِہَا فَنَجْعَلُہَا غُمُوْضًا
 تَقَصّرُ عنہ تَرْجَمَۃُ العِبَارَۃُ
ہم ان رموز سے اشارہ کر کے (معانی کو) مشکل بنا دیتے ہیں جس کی وضاحت کرنے سے اس عبارت کا ترجمہ بھی عاجز ہوتا ہے۔

 ونَشْہَدُ ہَا و تَشْہَدُ ناسُرُوْراً
 لَہٗ فِی کُلّ جَارِحَۃٍ اِشارہ
ہم اسے دیکھتے ہیں اور وہ ہمیں خوش ہو کر دیکھتا ہے اور اس کا ہر عضو اس سرور کو برانگیختہ کر رہا ہوتا ہے۔
 تَرَی الاَقْوَالَ فِی الاَحوال اَسْریَ
 کَاَسْرِالعَارِفِیْنَ ذوی الخَسَارَہْ
تو دیکھے گا کہ اقوال احوال کے اسی طرح قیدی بنے ہوئے ہیں جس طرح عارفین اہل خسارہ لوگوں کو قید کر لیتے ہیں۔(9)

صوفیہ کے رمز و اشارے ریاضی کی طرح بے رنگ و کیف نہیں ہوتے بلکہ معنی کے اظہار میں  اپنی محدودیت کے باوجود وہ نہایت لطیف پیرایہ ہوتا ہے اور الفاظ و عبارت نہایت خوبصورت ہوتی ہے۔ایسی خوبصورت اور دلکش عبارت میں یہ لطائف بیان کیے جاتے ہیں کہ سننے یا پڑھنے والا بھی مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک عظیم صوفی قناد نے صوفیہ کے رموز و اشارات کی خوبی اس شعر میں بیان کی ہے:(10)
اذا نطقوا اعجزک مر می رموزہم
و ان سکتوا ہیہات منک اتصالہ
”جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اسرا کی حقیقی گرہ کھلتی نہیں اور اگر وہ چپ ہو جائیں تو اس کا وصال ناممکن ہو جات ہے۔“

صوفیہ نے اپنے ان اشارات و رموز کا انکشاف صرف اپنے حلقے میں کیا ہے۔  چنا چہ ابتدائی عہد کے صوفیہ اپنے اشارات یا تو اپنی محفلوں میں بیان کرتے تھے یا صرف اپنے خطوط میں لکھا کرتے تھے۔ نہ انھوں نے ان کا اظہار عوام میں کیا اور نہ اپنی تصنیفات میں۔ ابو النصر السراج نے لکھا ہے کہ ”جب کوئی شخص ہمارے مشائخ کے رموز سے واقف ہونا چاہے اسے ان کے مکاتبات اور مراسلات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ ان کے رموز ان مکاتبات و مراسلات ہی میں پائے جاتے ہیں، ان کی تصنیفات میں نہیں۔“ (11)

کبھی کبھی ایسا بھی ہوا کہ صوفیہ کے یہ باہمی مکاتبات عام لوگوں کے ہاتھ لگ گئے اور ان لوگوں نے ان اشارات کو نہ سمجھنے کی بنیادپر ان کے خلاف طوفان کھڑا کر دیا۔ حضرت جنید بغدادی بہت بڑے صوفی تھے۔ عام طور پر علماء و محدثین بھی ان کا احترام کرتے تھے۔ انھوں نے اصفہان میں اپنے کسی دوست کو خط لکھا۔ وہ خطکسی نے راستہ میں کھول لیا اور اس کی نقل پورے شہر میں تقسیم کر دی۔ اس کے بعد حضرت جنید بغدادی پر لوگوں نے طعن و تشنیع شروع کی جس کی وجہ سے خود حضرت جنید بہت پریشان ہوئے اور اس کے اثرات کو زائل ہونے میں ایک عرصہ لگ گیا۔ حضرت جنید نے ایک خط میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے ”مجھے تمھارے خط کا جواب لکھنے سے صرف اس بات نے روکا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے خط کا مضمون تمھاری لاعلمی سے کسی اور کے ہاتھ لگ جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدت ہوئی کہ میں نے اصفہان کے کچھ لوگوں کو ایک خط لکھاتھا۔ کسی نے اسے کھول کر اس کی نقل لے لی۔ اس خط کی بعض باتیں کچھ لوگوں کی سمجھ میں نہ آ سکیں اور میں انھیں اس الجھن سے نکالتے نکالتے تھک گیا۔ مجھے اس سے ان کی خاطر بہت رنج اٹھانا پڑا۔“ (12)

صوفیہ کرام شروع میں ان لطائف و اشارات کو عوام کی نظروں سے چھپانے کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ صرف اصحاب حال کے سامنے ہی زبان کھولتے تھے یا ارباب قلوب کو خطوط کے ذریعہ بتاتے تھے۔ ابو بکر شبلی دسویں صدی کے ایک عظیم صوفی ہیں۔ اگرچہ وہ تصوف کے طریقہ صحو کے پیروکار تھے لیکن ان پر احوال و واردات کا نزول بہت زیادہ تھا۔ انھوں نے ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادی کو ایک خط لکھا۔ اس میں اپنے واردات کا اظہار کھلے الفاظ میں کیا تھا۔ یہ خط اللمع فی التصوف میں موجود ہے۔ حضرت جنید بغدادی پر یہ خط بہت شاق گزرا۔ یہ خط ان کے پاس بدھ کے روز آیا تھا۔ انھوں نے ایک ہفتہ تک اسے اپنے پاس رکھا پھر اس کا جواب لکھا کہ
 ”اے ابو بکر! مخلوق کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ ہماری تو یہ حالت ہوتی تھی کہ ایک کلمہ کو لیتے پھر اسے سونگھتے اور اس کی تعریف کرتے اور تہہ خانوں میں گھس کر اس کلمہ کو بولتے تھے اور تمہارا حال یہ ہے کہ اکابر خلق کے سامنے بے لگام ہو گئے ہو۔مخلوق کے ہزار درجے ہیں اور جو کچھ آپ نے لکھا ہے وہ تو پہلے درجے کے لیے بھی مشکل بات ہے۔“ (

13)
اکابر صوفیہ اپنے ان اشارات کو اس لیے نہیں چھپاتے تھے کہ ان کے اشارات کسی خرابی یا کفر و زندقہ پر مبنی تھے۔ ان کا مقصد صرف یہ ہوتا تھا کہ عوام ان الفاظ کو صحیح طرح نہ سمجھ پانے کی وجہ سے کسی تشویش میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ یہ دراصل مخلوق پر شفقت کی وجہ سے تھا۔ حضرت جنید بغدادی نے اوپر کے خط میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور ایک اور خط میں لکھا ہے
 ”مخلوق کے ساتھ نرمی اختیار کرنی چاہیے، ان کے سامنے ایسی باتیں لانا جنھیں وہ جانتے ہی نہیں، ان پر مہربانی نہیں کہلائے گی اور نہ ہی ان کو ایسے کلام سے خطاب کرنا چاہیے جسے وہ سمجھ ہی نہ سکیں۔ اللہ تمھاری حفاظت کرے اور تم کو اور ہم کواپنی حفاظت میں رکھے۔ تم اپنی زبان قابو میں رکھو اور اپنے زمانے کے لوگوں کو پہچانو۔ لوگوں سے ایسی بات کرو جنھیں وہ جانتے ہوں اور جن امور کو وہ نہیں جانتے انھیں ترک کر دو۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ لوگ جن چیزوں سے ناواقف ہوتے ہیں ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ لہٰذا تمہارا عملایسا ہونا چاہیے کہ اوروں کے لیے رحمت ہو نہ کہ زحمت۔ اگر خدا نے تجھے تیری ذات کے لیے مصیبت بنا رکھا ہے تو تجھے چاہیے کہ تو جب مخلوق کے پاس جائے تو اپنی اس حالت کو ترک کر کے صحیح حالت میں ان کے پاس جائے اور ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے ان سے گفتگو کرے۔“ (14)

صوفیہ کے اسنئی لفظیات کو استعمال کرنے کی امام قشیری نے ایک اور تاویل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صوفیہ نے اپنے لیے مخصوص اصطلاحات اس لیے وضع کیں تاکہ ان کے علوم و معارف صرف انہی کے درمیان رہیں اور دوسرے لوگ ان کے صحیح مفہوم سے آگاہ نہ ہو سکیں۔ انھوں نے اپنی کتاب الرسالۃ القشیریہ میں ایک مستقل باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے’باب فی تفسیر الالفاظ تدور بین ھذہ الطائفہ و بیان ما یشکل منھا‘(15)

ابو بکر الکلاباذی نے بھی اس سے ملتی جلتی بات کہی ہے۔لکھا ہے کہ
جب حالات ایسے ہو گئے تو صوفیہ کرام نے اپنے علم کے لیے اصطلاحات وضع کر لیں اور ان کو اپنے علم کے لیے اشارہ بنا لیا جو اس علم سے واقف ہو تا وہ ان کو سمجھ لیتا اور جو واقف نہ ہوتا اس سے وہ علوم مخفی رہتے۔(16)

ابتدائی عہد کے اجلہ صوفیہ کے بعد تصوف میں بھی باقاعدہ تصنیف و تالیف کا آغاز ہو گیاتھا اور بعض علماء نے پورے فن تصوف پر شرح و بسط کے ساتھ گفتگو شروع کی۔ سب سے پہلی باضابطہ کتاب ابو نصرالسراج کی اللمع فی التصوف، پھر ابو بکر کلا باذی کی التعر ف لمذہب اہل التصوف، اور اس کے بعد کی کتابوں میں امام قشیری کی الرسالۃ القشیریہ، ابو عبدالرحمن السلمی کی طبقات الصوفیہ اورابو نعیم اصفہانی کی حلیۃ الاولیاء خاص طور پر اہم ہیں۔اس عہد کے صوفیہ زیادہ مستقیم الاحوال تھے۔ان کے یہاں ان مشاہدات کا اظہار کم ہے۔اس لیے مذکورہ بالا کتابوں میں اصطلاحات اور فنی انفرادیت تو ملتی ہے اشاراتی اور رمزیہ گفتگو کم ملتی ہے۔ تصوف کی اکثر کتابوں میں لکھا ہے کہ صوفیہ کی اشاراتی زبان میں گفتگو کا باقاعدہ آغاز ذوالنون مصری نے کیا تھا۔ علامہ جامی نے لکھا ہے کہ ذوالنون مصری سے پہلے کے مشائخ نے ان واردات کا زبان سے اظہار نہیں کیا، سب سے پہلے ذوالنون مصری نے ان کا اظہار کیا۔ ان کے بعد حضرت جنید بغدادی کا زمانہ آیا تو انھوں نے واردات کولکھنا شروع کیا اور پھر ابو بکر شبلی کا زمانہ آیا تو انھوں نے برسر منبر ان کا اعلان کرنا شروع کر دیا۔ (17)

ذوالنون مصری نے ایک جگہ اپنی ان واردات کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ میں نے راہ سلوک میں  یعنی روحانی طورپرتین سفر کیے۔ اور ان تین اسفار میں تین علوم مجھے حاصل ہوئے۔ پہلے سفر میں میں نے جو علم حاصل کیا اس کو خاص و عام سب نے قبول کیا۔ دوسرے سفر میں جو علم حاصل کیا اس کو خواص نے تو قبول کیا لیکن عوام نے قبول نہیں کیا۔ تیسرے سفر میں جو علم حاصل کیا اس کو نہ عوام نے قبول کیا اور نہ خواص نے۔ پہلا علم توبہ کا علم تھا۔ اس کو خاص و عام دونوں نے قبول کیا۔ دوسرا علم توکل، معاملہ اور محبت کا علم تھا اس کو خواص نے قبول کیا۔ اور تیسرا علم ’علم حقیقت‘ تھا جس کو لوگوں کے قلب و ذہن قبول نہیں کر سکے۔ اور انھوں نے مجھ  کو چھوڑ دیا اور مجھ  پر تنقیدیں کرنے لگے۔

صوفیہ کی یہ اشاراتی زبان وقت کے ساتھ اور نکھرتی گئی۔ اس میں اضافے ہوتے رہے اور صوفیہ کی جرأت گفتار میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ اس طرح کی مرموز گفتگو کا انتہائی نقطہ شطحات ہیں۔ شطح ایک نامانوس لفظ ہے۔ اس سے مراد صوفیہ کی وہ عبارتیں اور ان کے وہ دعاوی لیے جاتے ہیں جو وہ حالت سکر کے زیر اثر کرتے ہیں اور جن میں جناب باری تعالیٰ عز اسمہ کے بارے میں ایسے جملے کہے جاتے ہیں جن کا ظاہر گستاخانہ ہوتا ہے۔ صوفیہ نے شطحات پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور شطح اور غیر شطح کے فرق کو واضح کیا ہے۔اور ایسا اس لیے ضروری تھا کہ بہت سے نقلی صوفی بھی وجد اور سکر کا اظہار کر کے اول فول کہنے لگے تھے۔ صوفیہ کے مطابقشطح چاہے قابل قبول نہ ہو لیکن اس پرکوئی مواخذہ نہیں ہوتا۔ چونکہ شطح کا صدور اس وقت ہو تا ہے جب سالک اپنیحواس میں نہیں ہوتا اور جو اپنے ہوش میں نہ ہو اس پر مواخذہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ ابو نصر سراج نے کتاب اللمع میں شطحات پر ایک مستقلباب قائم کیا ہے۔ مشہور صوفی روز بھان بقلی نے اس موضوع پر ایک ضخیم کتاب شرح شطحیات لکھی۔ عصر حاضر میں تصوف کے نامور اسکالر کارن ارنیسٹ نے بھی اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے 'The Words of Ecstasy in Sufism'  صوفیہ کی طرف سے جب شطحات کا  صدور ہونا شروع ہوا تو ابتدا میں یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہو گیا تھااور عوام ان الفاظ کے صدور کی بنا پر صوفیہ کو بہت مطعون کرنے لگے تھے۔    غالبا انہی وجوہات کی بنا پرحضرت جنید بغدادی جیسی شخصیت نے ابو یزید بسطامی کے شطحات کی شرح میں ایک مستقل کتاب لکھی جس کا ایک حصہ کتاب اللمع میں موجود ہے۔ (18)

شطحات کے علاوہ بعض صوفیہ نے اپنے اس پورے سفر کو جس میں سالک زمان و مکان کی کائنات سیگزر کر عالم برزخ اور عالم مثال تک پہنچتا ہے۔سفرناموں کی شکل میں بھی لکھ دیا ہے۔ اس طرح کی کتابوں میں نفری کی المواقف اور ابن عربی کی الاسراء والمعراج بہت مشہور ہیں۔

صوفیہ کی اس مرموز زبان،مشکل الفاظ اورشطحات کی فتح و کشاد کرنے کی کوشش بہت سے لوگوں نے کی ہے۔ صوفیہ کے ان مرموزات و اشارات کی تقسیم بندی کی جائے تو ان کو بڑی آسانی سے تین قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر وضح ی یونس نے القضا یا النقدیہ فی النثرالصوفی میں تقسیم بندی کی ہے(19) ان کے مطابق صوفیہ کے یہ مرموزات یا تو ذہنی ہیں یا حسی ہیں یا مجازی ہیں۔ ذہنی مرموزات کا جہاں تک تعلق ہے تو دراصل ان کی عبارت مرموز نہیں ہوتی لیکن اس عبارت میں جو بات کہی جا رہی ہے وہ فہم و ادراک سے بالاتر ہوتی ہے۔ مثلاً ابویز بسطامی کی ایک عبارت ہے: میں ایک مرتبہ بلند ہوا حتیٰ کہ میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ میرے رب نے مجھ سے کہا کہ اے ابو یزید میری مخلوق تجھ کو دیکھنا چاہتی ہے۔ تو ابو یزید نے کہا کہ پھر آپ مجھے اپنی وحدانیت سے مزین کر دیجیے کہ تیری مخلوق مجھے دیکھے تو کہے کہ ہم نے تجھے دیکھا۔ اور وہ تو خود ہی ہو۔ اور میں وہاں نہ ہوں۔ ابو یزید کہتے ہیں کہ میرے رب نے ایسا ہی کیا۔ پھر مجھے کھڑا کیا، زینت بخشی اوربلند کیا۔ پھر کہا کہ میری مخلوق کی طرف جاؤ، تو میں وہاں سے ایک قدم مخلوق کی طرف چلا، دوسرا قدم اٹھایا ہی تھا کہ میں بے ہوش ہو گیا۔ تو میرے رب نے آواز دی کہ میرے حبیب کو واپس کر دو چونکہ وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتا۔“(20)

ابو یزید نے اس میں اپنے ایک روحانی تجربہ کا ذکر کیا ہے۔ جس میں خدا ان کے ساتھ ہم کلام ہوا۔واضح رہے کہ اجلہ صوفیہ کی وضاحت موجود ہے کہ یہ تجربہ حقیقی نہیں ہوتابلکہ غایت عشق کا ایک مقام ہے جہاں سالک ذہنی طور پر ایسی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔ورنہ اللہ جل و علا کی ذات وراء الوراء ہے سیدنا کلیم اللہ کے لیے جہاں لن ترانی کا فیصلہ ہوا اس درگاہ میں اور کی کیا مجال۔ابو یزیدبسطامی کو ایک ذہنی تجربہ ہوا تھااس کا اظہارانھوں نے اس طرح کیا۔ جیسا کہ خود ان کے شطحات میں ان کیے الفاظ میں منقول ہے۔ان کے تجربے کایہ  بیان اپنے اظہار میں واضح ہے اس کی زبان سادہ ہے۔ لیکناس کے اطلاقات کو سمجھنا ممکن نہیں ہے لیکن عبارت واضح ہے۔

دوسری قسم رمز حسی کی ہے یہ عام طور پر ایک لفظ میں مرموز ہو تا ہے۔یعنی صوفیہ کرام عالم محسوسات کے کسی ایک لفظ کے  ذریعہ اپنے  روحانی تجربہ کی کیفیت کو  بیان کرتے ہیں اس تجربہ  کے  اظہار  میں لفظ اپنے حسی محمول کے لئے  توواضح ہوتا ہے لیکن اس کی تکوین اور اس کے معنی کی گیرائی عام آدمی  کی فہم سے بالاتربلکہ بسا اوقات خلاف ہو تی ہے۔ مثلا ابو یزید بسطامی فرماتے ہیں
’جب میں مقام  وحدانیت پر پہنچا تو میرے لئے توحید کے مشاہدہ کا پہلا لمحہ تھا میں محض اپنی عقل کے سہارے اس میں دس سال چلتا رہا حتی کہ میری عقل درماندہ گئی(پھر مجھے اس ذات کی طرف سے رہنمائی ملی) اور میں پرندہ بن گیا جس کا جسم احدیت کا تھا اور جس کے ’پر‘ دیمومت(ہمیشگی) کے تھے۔(21)

اس عبارت میں جسم فنا کا استعارہ ہے اور پر بقا کا استعارہ ہے، احدیت سے اس ذات کی مکنونیت کی طرف اشارہ ہے اور دیمومت سے مراد اس کی تجلیات کا ظہور ہے۔ پرندہ ایک حسی وجود ہے سالک نے اپنے تجربے کو اس کے ذریعے بیان کیا ہے۔ لیکن سالک نے جس پرندہ کا ذکر کیا ہے اس کا کوئی وجود نہیں اور حسی پرندہ سے اس کا تعلق نہیں۔ بس سالک اپنے تجربہ کو بیان کر نا چاہتا ہے درماندگی میں اس کی زبان سے پرندہ نکلا۔ لیکن وہ کوئی واضح مشابہت اور مثالیت کا حامل نہیں ہے۔ اس لئے اس پرندے کودیمومت اور احدیت سے جوڑ کر بتا دیا کہ وہ اڑنے والا پرندہ نہیں کچھ اور ہے۔

بعض صوفیہ نے اس طرح کے تجربات کے اظہار کے لئے  پروانہ کا  لفظ بھی استعمال کیا ہے بعض نے چراغ کا استعارہ استعمال کیا ہے اسی طرح تارہ، چاند،بادل وغیرہ کے حسی اشارے میں اپنے  مشاہدات کا بیان کیا ہے۔صوفیہ کی مرموز گفتگو میں سب سے زیادہ استعمال رمز حسی کا ہے۔

 تیسری قسم رمز مجازی ہے صوفیہ کے یہاں اس کی بھی بکثرت مثالیں ملتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صوفیہ اپنے تجربات کے اظہار کے لیے کوئی ایسا لفظ استعمال کرتے ہیں جو معروف تو ہو لیکن اس کا کوئی حسی وجود نہ ہو، مثلا بعض صوفیہ راہ سلوک کے بعض مقامات کے اظہار کے لئے لفظ تیہہ استعمال کر تے ہیں یہ ایک طرح سے وہ کیفیت ہو تی ہے جس میں سالک سفر کا آغاز توکر دیتا ہے لیکن نشان منزل ہنوز نا آشنا ہو تا ہے۔                                            

تصوف میں با ضابطہ فنی تصنیف کا آغاز ہوا تو ان تصنیفات میں صوفیہ کی اس مرموز گفتگو اور اشارات و لطائف کے لیے بھی  ایک گوشہ مختصکیا گیا ہے اور جو چیز اب تک خطوط یا  ان کی مجلسوں تک محدود تھی وہ صفحہ قرطاس پر سفر کر نے لگی۔ ان مصنفین نے صوفیہ کے ان خطوط اور ملفوظات کو نقل کر نے ساتھ ساتھ ان کی تشریح بھی کی۔
 

امام قشیری نے صوفیہ کے ذریعہ استعمال ہونے والے مخصوص الفاظ کو ایک خاص معنی دینے کی کوشش کی۔ انھوں نے تمہید یہ رکھی کہ جس طرح ہر فن کے ماہرین کی کچھ مخصوص اصطلاحات ہوتی ہیں اسی طرح یہ بھی صوفیہ کی اپنی اصطلاحات ہیں۔ ان کامقصد اپنے مسلک کی انفرادیت اور نااہلوں سے ان اسرار کی حفاظت ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:
”یہ بات تو ہم سب کو معلوم ہے کہ ہر فن کیعلماء خاص قسم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں جنھیں دوسرے جن کے علما اس طرح استعمال نہیں کرتے۔ وہ آپس میں خاص اغراض کی بنا پر ان الفاظ کے معنی پر اتفاق کرلیتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس طرح مخاطب کو سمجھانے میں آسانی ہوتی ہے۔ یعنی جب یہ الفاظ بولے جائیں گے تو صوفیہ ان کا مفہوم پوری طرح سمجھ لیں گے۔ یہ لوگ آپس میں خاص قسم کے الفاظ اس لیے بھی استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کے معانی صرف وہ اجمالاً سمجھیں اور دوسرے لوگ جو اس طریقے سے اختلاف رکھتے ہیں ان سے وہ معانی و مطالب پوشیدہ رہیں۔ کیونکہ ان کی غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ ان کے اسرار نااہلوں میں شائع ہوں، اس لیے ان الفاظ کے حقائق نہ تو کسی قسم کے تکلف سے جمع کیے گئے ہیں اور نہ کسی تصرف سے بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کے دلوں میں القاء کر دیا ہے اور حقائق کے لیے کچھ لوگوں کے اسرار (قلوب) منتخب کر لیے ہیں۔“ (22)

زبان کے ساتھ بہت سے مسائل ہیں۔ عام گفتگو میں بھی زبان اپنے منطوق کی پوری غماز نہیں ہوتی۔ بلکہ منطوق کے لیے اشارہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی بات کو سمجھنے میں مختلف لوگوں کی مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔ اور انسان کے احوال و ظروف کے اعتبار سے ایک ہی عبارت ایک سے زائد معنی کی متحمل ہو سکتی ہے۔ قدامہ بن جعفر نے نقد النثرمیں ایک اہم نکتہ بیان کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ”ظاہر باطن کا محتاج ہوتا ہے اور باطن ظاہر کا محتاج ہوتا ہے، اس لیے ہر باطن کا ظاہر ہی اس کے باطن کی طرف رہنمائی کرتا ہے(اور باطن میں تعدد یا درجہ بندی ممکن ہے)۔ اگر اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کو ظاہر کر دیتا تو تمام انسانوں کا علم مساوی ہو جاتا۔“ (23)

زبان جن معنی کے لیے وضع ہوتی ہے ان کے لیے بھی پوری طرح غماز نہیں ہو تی تو ایسے معانی و مفاہیم جو زبان کی گرفت سے ماوراء ہیں ان کے لیے زبان مکمل دلیل اور بیان نہیں ہو سکتی۔ اس لیے تصوف کے موضوع پر لکھنے والوں نے صوفیہ کے ذریعہ استعمال کیے گئے الفاظ کی وضاحت کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ یہ کوشش دو طرح کی ہے۔ ایک توصوفیہ کی مخصوص اصطلاحات کا بیان ہے۔ وہ اصطلاحات عام طور پر فنی مباحث ہیں اور ان کی ایک حد تک وضاحت ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اللمع فی التصوف اور الرسالۃ القشیریہ میں ایسے متعدد الفاظ کا مصداق متعین کرنے کی کوشش کی ہے اور امام قشیری نے ان الفاظ کی تشریح سے قبل ایک طویل تمہید لکھی ہے جس کا تذکرہ اوپر آ یا ہے۔

دوسری وہ عبارتیں ہیں جن میں کسی تجربہ کا اظہار ہے۔ صوفیہ میں سے بعض نے ان عبارتوں کی وضاحت بھی کرنے کی سعی کی ہے۔ لیکن اس کی کوئی جامع کتاب نہیں ہے۔بلکہ کتابوں میں مختلف عبارتوں کی اپنے ذوق و فہم کے مطابق وضاحت کی ہے۔ غالباً اس سلسلہ کی سب سے پہلی کوشش حضرت جنید بغدادی نے کی تھی۔ انھوں نے ابویزید کے شطحات کی تفسیر  لکھی تھی۔ اس کے کچھ نمونے ابو نصر سراج نے اللمع فی التصوف میں جمع کر دیے ہیں۔ صوفیہ نے ان عبارتوں اور تجربات کی وضاحت کے کچھ اصول متعین کیے ہیں۔صوفیہ کے ان اشارات کے بارے میں پہلا اصول تو یہ ہے کہ وہی اشارات قابل قبول ہیں جو نصوص شرعیہ کے موافق ہوں۔ مثلاًرویم نے کہا ”اصح الحقائق ما قارن العلم“ (24)(سب سے زیادہ صحیح حقائق وہ ہیں جو علم  یعنی شریعتکے موافق ہوں)  اس لیے کسی صوفی کے وہ تجربات جو شریعت کے خلاف ہوں وہ قابل قبول نہیں ہوں گے۔

صوفیہ جس حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں اور جوحقائق ان پر منکشف ہو تے ہیں ان میں تعدد بھی  ہے اور درجہ بندی بھی ہے خود صوفیہ کو اس کا ادراک تھا  ابو جعفر صیدلانی فر ماتے ہیں کہ حقائق کی تین قسمیں ہیں  پہلی قسم  وہ حقائق ہیں جو شریعت کے تابع ہیں دوسری قسم وہ حقائق ہیں جو علم یعنی شریعت کے تابع تو نہیں لیکن علم ان کا ساتھ دیتا ہے اور تیسری قسم ان حقائق کی ہے جو جام علم سے چھلک جاتے ہیں۔ابو بکر شبلی فر ماتے ہیں زبان تین طرح کی ہو تی ہے اول لسان علم دوم لسان حقیقت اور سوم لسان حق، لسان علم وہ ہے جو واسطوں سے پہنچتی ہے اور لسان حقیقت وہ ہے جس کو اللہ تعالی بغیر واسطہ کے دلوں میں اتارتا ہے اور لسان حق کے لیے اس نے کوئی طریقہ نہیں رکھاہے۔ (25)

صوفیہ کرام کی مخصوص زبان اور ان کے اشارات و رموز کی دنیا بہت وسیع ہے اس مختصر مضمون میں اس زبان کی حقیقت کو سمجھنے کی طرف کچھ اشارے کرنے کی جسارت کی گئی ہے۔اس کاوش ناتمام کا حاصل یہ ہے کہ صوفیہ کرام کے روحانی تجربات کی تزکیہ نفس اوراصلاح باطن کے لیے جو اہمیت ہے وہ اپنی جگہ زبان و بیان کے اندر وسعت پیدا کرنے میں بھی ان تجربات اور ان کے اظہار نے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔اگر اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے تو اس سے زبان اور اظہار ادا کے بہت سے گوشے نئے مفاہیم کی صورت میں جلوہ گر ہوں گے۔

حواشی:
(1)۔محمد بن عبدالجبار النفری:المواقف والمخاطبات، تحقیق آربری،مکتبہ متنبی القاھرہ1935 ص51
(2)۔ایضا ص 51
(3)۔ ایضا ص53
(4)۔ایضا ص 53
(5)۔ابو النصر السراج: اللمع فی التصوف،تحقیق ڈاکٹر عبدالحلیم محمود اورطہ عبدالباقی سرور،دارلکتب الحدیثہ،1960، ص 414
(6)۔ابو بکر الکلاباذی:التعرف لمذہب اہل التصوف،تحقیق ڈاکٹر عبدالحلیم محمود اورطہ عبدالباقی سرور،دارلکتب الحدیثہ،1960، ص 87
(7)۔اللمع فی التصوف،ص 414
(8)۔اللمع فی التصوف، ص 414
(9)۔التعرف  لمذہب اہل التصوف ص 89 اردو 134
(10)۔اللمع فی التصوف ص 414
(11)۔اللمع فی التصوف ص 414
(12)۔اللمع فی التصوف، ص 312
(13)۔اللمع فی التصوف، ص305
(14)۔اللمع فی التصوف، ص 312
(15)۔ ابوالقاسم القشیری: الرسالۃ القشیریہ، تحقیق معروف مصطفی رزیق،المکتبہ العصریہ بیروت 2001 ص 53
(16)۔التعرف لمذہب اہل التصوف ص 88
(17)۔عبدالرحمن جامی:نفحات الانس، تحقیق محمود عابدی، طبع اصفہان،ص28
(18)۔اللمع فی التصوف، 453
(19)۔ ڈاکٹر وضحی یونس: القضا یا النقدیہ فی النثرالصوفی،دمشق 2006،ص98
(20)۔اللمع فی التصوف، ص461
(21)۔السہلجی: النور من کلمات ابی طیفور مرتب عبدالرحمن بدوی ضمن شطحات الصوفیہ،الکویت طبع دوم 1978، ص 149
(22)۔الرسالہ، ص 53
(23)۔قدامہ بن جعفر:نقد النثر،تحقیق طہ حسین اورعبدالحمید العبادی،طبع قاہرہ 1933، ص41

(24)۔اللمع فی التصوف ص 286
(25)۔نفحات الانس، ص28

از قلم: ڈاکٹرمفتی محمد مشتاق تجاروی
اسسٹینٹ پروفیسر
ڈپارٹمنٹ اسلامک اسٹڈیز
جامعہ ملیہ اسلامیہ
نئی دہلی

Related Posts

Leave A Comment

1 Comments

Voting Poll

Get Newsletter