اللہ کے رسول ﷺ کی دعائیں ( قسط دوم)

اللہ کے رسولﷺدعا کا بہت زیادہ اہتمام فرمایا کرتے تھے۔حدیث کی کتابوں میں آپ سے کئی دعائیں مروی ہیں۔آپ کی دعاکا امتیازی وصف حمد وثنا کے وہ الفاظ ہیں جن سے آپ دعاکا آغاز کرتے ہیں۔دعاشروع کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی پاکی بیان کرنا اس کی حمد کرنا اس کی قدرت، رحمت، ربوبیت یا ایسے کسی وصف کا ذکر کرنا جوصرف اس کے ساتھ خاص ہو اللہ کے رسول ﷺ کی دعا کا خاص وصف ہے۔دعا کے آغاز میں ان اوصاف کا ذکر ادبا کیا جاتا ہے۔حمد وثنا کے بغیر دعاکرنا ادب کے منافی ہے۔ادب کا تقاضا یہ ہے کہ آپ پہلے اپنے رب کی حمد بیان کریں اسے ایسے اوصاف سے یادکریں جن میں وہ یکتا اور بے مثال ہے اور پھر اپنا سوال پیش کریں۔اس طرح آپ کی دعا ان اوصاف کے ضمن میں اللہ تعالی تک پہنچتی ہے اور اس کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔  
 آپ کی دعاؤں کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے آپ اپنی دعاؤں میں مادی چیزوں کے سوال سے پرہیز کرتے تھے اور ایسی چیزوں کا سوال کرتے تھے جو معنوی یا اخروی ہوتی تھیں۔بعض دعاؤں کے مطالعے سے ایسالگتا ہے کہ آپ نے مادی چیزوں کا سوال کیا ہے لیکن دراصل ایسا ہے نہیں۔مثال کے طور پر وہ دعائیں جن میں فقر یا غنا کا ذکر آیا ہے ان کو پڑھنے سے ایسا لگتا ہے کہ ان میں غربت سے بچنے اور دولت کے حصول کا سوال کیا گیا ہے لیکن تھوڑا غور کرنے پر واضح ہوجاتا ہے کہ دل کا مادی چیزوں کے خیال میں جکڑے رہنے کو فقر اور دل کا ایسی چیزوں کے خیال سے آزاد رہنے کو غنا سے تعبیر کیا گیا ہے۔دنیا میں بھی آپ جن نعمتوں کا سوال کرتے ہیں ان کے بارے میں آپ غور کریں گے تو پتہ چلے گا کہ وہ سب بھی دراصل اخروی زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہیں۔
 آج ہم اپنے مضمون کا آغاز اس دعا سے کررہے ہیں جسے اللہ کے رسولﷺ نے”سید الاستغفار“ کہا ہے۔امام بخاری نے اسے کتاب الدعوات کے باب’افضل الاستغفار‘ میں روایت کیا ہے۔ حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایاکہ سیدالاستغفار یہ ہے  (اللھم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی وانا عبدک وانا علی عھدک و وعدک ماستطعت اعوذ بک من شر ما صنعت ابوء لک بنعمتک علی وابوء بذنبی فاغفرلی فانہ لا یغفرالذنوب الا انت)  پوری عبارت کا ترجمہ اس طرح ہے۔’اے اللہ تو میرا رب ہے، تیرے علاوہ کوئی اور عبادت کا مستحق نہیں ہے۔تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں۔میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے گئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔میں اپنے اعمال کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔میں تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنی تقصیر کا بھی لہذا مجھے بخش دے کیوں کہ تیرے علاوہ کوئی اور تقصیر کی معافی کا حقدار نہیں ہے‘۔
 سید الاستغفار میں دعا کی وہ تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں جو ہم نے اوپر بیان کی ہیں۔اللہ کے رسول ﷺنے دعا کے آغاز میں اللہ کے رب معبود اور خالق ہونے کا ذکر کیا ہے۔یہ تینوں صفات اللہ کے ساتھ خاص ہیں۔امام طبری نے رب کے تین مفہوم بیان کیے ہیں۔ایک ایسا سردار جس کی سب اطاعت کرتے ہیں، ایک ایسی ذات جو دوسروں کی بقا کی ضامن ہو اور ان کے لیے وہ تمام سہولتیں فراہم کرتی ہو جو ان کے وجود کے لیے ضروری ہیں اور تیسرا معنی مالک کے ہیں۔اللہ تعالی میں یہ تینوں مفہوم اپنے حقیقی معنی میں پائے جاتے ہیں۔
 اللہ تعالی کی صفات کے ذکر کے بعد اللہ کے رسول ﷺ سب سے پہلے اپنی عبدیت کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے بندے ہیں۔عبدیت کا اقرار سب سے بڑا اقرار ہے کیوں کہ اس میں بندہ نہایت عجز و انکساری کے ساتھ اپنی ناتوانی کا اظہار کرتا ہے اور ہر قوت اور قدرت کو اللہ کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔اللہ تعالی نے بھی قرآن میں انبیاء و مرسلین کے لیے جگہ جگہ اس لفظ کا استعمال کیا ہے۔انبیاء نے بھی خود کو عبد سے تعبیر کیا ہے۔لہذا دعا کے آغاز میں عبدیت کا اعتراف ایک اہم جز بن جاتا ہے اور دعا کی معنویت میں اضافہ کردیتا ہے۔
 عبدیت کا اعتراف کرنے کے بعد آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ غور طلب ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے گئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔بندے کا اپنے مالک سے کیے گئے وعدے پر قائم رہنا ضروری ہے۔مگر یہاں اللہ کے رسول ﷺ اپنی استطاعت کے مطابق کہہ کر یہ اعتراف کررہے ہیں کہ کسی بھی بندے کے لیے اللہ سے کیے گئے عہد اور وعدے پر اس کی تمام شرائط کے ساتھ قائم رہنا مشکل ہے۔اللہ کے رسول ﷺ یقینا انسان کامل ہیں۔آپ نے اللہ سے جو وعدہ اور عہد لیا تھا اسے آپ نے بخوبی نبھایا اور ایسا نبھایا کہ اس سے بہتر کا تصور ممکن نہیں۔پھر بھی اس کی بارگاہ میں دست دعا دراز کرتے وقت اپنی تقصیر کا اعتراف کرنا دعا کو کس بلند درجے تک لے جاتا ہے اور بندے کو اللہ سے کتنا قریب کردیتا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ کی ہر ادا ہمارے لیے قابل تقلید ہے۔دعا کا یہ طریقہ اور تواضع و انکساری کا یہ انداز یقینا ہمارے لیے نمونہ عمل ہے۔
 اعمال کے شر سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان بعض دفعہ جانے انجانے کچھ نہ کچھ ایسا کردیتا ہے جو اللہ کی شان کے لائق نہیں ہوتا۔ایسے اعمال اللہ کی ناراضگی اور اس سے دوری کا سبب بنتے ہیں۔اسی لیے اللہ کے رسول ﷺ ایسے اعمال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگ رہے ہیں کہ جب اللہ کی پناہ حاصل ہوجائے گی تو ایسا کوئی بھی عمل سرزد نہیں ہوگا۔یہ بھی اللہ کے رسول ﷺکا تواضع ہے اورآپ نے محض ہماری تعلیم کے لیے ایسے الفاظ استعمال فرمائے ورنہ اللہ کے نزدیک اللہ کے رسول ﷺ کا کیا مقام و مرتبہ ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔بہرحال بندے کو اپنے اعمال کے شر سے ہمیشہ اللہ کی پناہ کا طالب ہونا چاہیے کیوں کہ اس کی پناہ کے بغیر اعمال کے شر سے بچنا ممکن نہیں ہے۔
 اعمال کے شر سے پناہ مانگنے کے بعد اللہ کی نعمت کا اقرار ہے اور فورا بعد اپنی تقصیر کا اعتراف ہے۔نعمت کا اقراراور تقصیر کا اعتراف ایک حسین امتزاج ہے۔ایک حصے میں اللہ کی شان بیان کی جارہی ہے کہ اس کی طرف سے عطا کی جانے والی نعمت میں کوئی کمی نہیں ہے اور دوسری طرف اس بات کا اعتراف ہے کہ اس نعمت کے بدلے میں جس طرح کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا ویسا شکر اداکرنا بندے کے بس میں نہیں ہے۔لہذا بندہ ان دونوں چیزوں کو بخوبی سمجھتا ہے اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کے اقرار کے ساتھ ساتھ اپنی تقصیر کا بھی اعتراف کرتا ہے۔
 تقصیر کے اعتراف کے فورا بعد اس تقصیر کی معافی کا ذکر ہے کہ اے اللہ تو نے جتنی بھی نعمتیں دی ہیں سب کا اقرار کرتا ہوں اور اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کہ ان نعمتوں کا وہ حق ادا نہ کرسکا جیسا کہ کرنا چاہیے تھا لہذا اب اپنی اس تقصیر کی معافی کا طالب ہوں اور اللہ ہی سے اپنی تقصیر کی معافی کا طالب ہوں کیوں کہ اس کے علاوہ اور کوئی تقصیر کی معافی کا حقدار نہیں ہے۔یہ صرف اللہ کی ذات ہے جو اپنے بندوں کی تقصیر اور ان کی خطا سے در گزر کرنے کا حق رکھتی ہے۔اور جب اللہ اپنے بندے کی تقصیر سے درگزر کردے تو پھر کسی اور کو اس پر سوال اٹھانے کا حق نہیں پہنچتا۔سید الاستغفار اللہ کے رسولﷺ کی فصاحت و بلاغت کا اعلی نمونہ ہے۔ایک ایک لفظ بالکل صاف اور سہل معنی میں کوئی التباس نہیں مفہوم بالکل واضح اور ترتیب کا حسین انداز سب اس دعا کو واقعی’سیدالاستغفار‘ بناتے ہیں۔
 اللہ کے رسولﷺنے سیدالاستغفار بیان کرنے کے بعد فرمایا جو دن میں یہ دعا کرے اور اس کے دل میں اس دعا کو لے کر کوئی شک نہ ہو بلکہ یقین کامل ہو اور وہ شام ہونے سے پہلے انتقال کرجائے تو اللہ اسے جنت عطا فرمائے گا اسی طرح جو شام میں یہ دعا کرے اور صبح ہونے سے پہلے انتقال کرجائے تو اللہ اسے بھی جنت عطا فرمائے گا۔اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا اسے یقین ہو یعنی دعا کے بعد کسی طرح کا تردد نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ میری مغفرت کرے گا بھی یا نہیں بلکہ پوری طرح یقین ہوبلکہ دعا کرتے وقت بھی بندہ اسی نیت سے دعا کرے کہ واقعی اللہ اس کی دعا سنے گا اور وہ جو کچھ مانگ رہا ہے وہ عطا کرے گا۔دعاکے الفاظ یوں ہی زبان سے دہرادینا ہرگز دعا نہیں کہلائے گا جب تک اللہ کے رسول ﷺ کا یہ فارمولہ پیش نظر نہیں ہوگا۔
 مومن دوطرح سے جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔ایک تو یہ کہ پہلے دوزخ میں جائے پھر وہاں سے نکل کر جنت میں جائے اور دوسرا یہ کے وہ دوزخ میں جائے ہی نا بلکہ سیدھا جنت میں جائے۔یہاں یہی دوسری صورت مراد ہے کہ اللہ’سیدالاستغفار‘ کی برکت سے اس کے گناہوں کو معاف کردے گا یا اسے آئندہ گناہ کرنے سے محفوظ رکھے گا اور اس طرح وہ دوزخ میں داخل ہوئے بغیر سیدھا جنت میں جائے گا۔ یہاں ایک اور نکتہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ حدیث میں جو بھی فضائل بیان کیے جاتے ہیں وہ فضائل اسی وقت اپنا اثر دکھاتے ہیں جب بندہ اللہ کے حقوق ادا کرتا ہے۔مثلا کوئی شخص فرض نماز ادانہیں کرتا یا رمضان کے روزے بلا کسی عذر شرعی کے ترک کردیتا ہے تو ایسے شخص کو سید الاستغفار سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ پھر اس کا فائدہ حاصل ہونے کی دوسری شرط وہی ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے بیان کی کہ ’یقین ہو‘۔جس شخص کو بھی’تردد‘ہوگا وہ ان جیسے تمام فضائل سے محروم رہے گا۔ویسے بھی ان فضائل کے حصول میں شک کرنا بد نصیبی ہے کیوں کہ یہ فضائل خود اللہ کے رسولﷺنے بیان کیے ہیں۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter