حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمة الله علیہ: حیات و خدمات (یوم وصال: 28 محرم الحرام)
بانی سلسلہ اشرفیہ، تارک السلطنت، محبوب یزدانی، فقیہ لاثانی حضرت علامہ سید جہانگیر سمنانی قدس سرہ العزیز صرف ایک ولی ہی نہیں بلکہ آپ ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے، آپ کی ذات ستودہ صفات سے ہر شخص بخوبی واقف ہے۔ لیکن افسوس آج لوگ آپ کے متعلق صرف دفع امراض کے لیے اور ایک عظیم صوفی سے زیادہ کچھ نہیں جانتے، آپ کی عظیم ذات کو چند امور اور چند کرامات کے مابین قید کر کے رکھ دیا۔ مقررین و مؤلفین اکثر طبقہ اپنی تقاریر و تصانیف میں صرف آپ کی کرامات کے علاوہ کچھ بیان نہیں کرتے، جس بنا پر عوام الناس آپ کی دینی و علمی خدمات سے ناوقف ہے۔
آپ کی ذات صرف دفاع آفات و بلیات و شفائے امراض کے لیے مختص نہیں تھی، بلکہ آپ کو علوم باطنی کے ساتھ ساتھ علوم ظاہری میں بھی مکمل دسترس حاصل تھی، تاریخ کے اوراق آپ کی علمی و قلمی خدمات سے بھرے پڑے ہیں، مختصراً آپ کی ولادت سے وفات تک کے چند تابندہ نقوش تحریر کرتا ہوں۔
آپ کی ولادت
آپ کی تاریخ ولادت میں کافی اختلاف ہے، محررین و مصنفین نے مختلف روایتوں سے الگ الگ تاریخیں اور سن ولادت مرقوم کی ہیں، لیکن مشہور یہی ہے کہ آپ کی ولادت با سعادت ۷۰۸ھ یا ۷۱۲ھ میں یونان کی سرزمین پر ہوئی۔
قبل از ولادت خوشخبری
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے والد ماجد کا نام ابراہیم تھا جو کہ سمنان کے بادشاہ تھے، آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت خدیجہ تھا۔ آپ کی ولادت سے قبل کے چند واقعات بہت مشہور ہیں، جیسا کہ آپ کی ولادت سے تقریباً 8 سال قبل آپ کے گھر دو سے تین لڑکیوں کی ولادت ہوئی پھر اس کے بعد آٹھ سال تک کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا، آپ کے والد سمنان کے بادشاہ تھے، اس لیے وہ ایک لڑکے کی خواہش رکھتے تھے جو تخت سمنان کا وارث بنے۔ آٹھ سال کا طویل عرصہ گزر گیا لیکن آپ کے یہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ روزآنہ آپ کے والدین اللہ پاک کے حضور اولاد نرینہ کی دعا مانگتے تھے، ایک روز نماز فجر کے بعد دونوں مصلّے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک کیا دیکھا کہ ایک مجذوب حضرت ابراہیم جو کہ سمنان میں ہی رہا کرتے تھے اچانک محل میں داخل ہوئے، دونوں اس طرح اچانک اُن کی موجودگی سے بہت حیران ہوئے، ان دونوں نے پہلے ان بزرگ کا نام تو سنا تھا لیکن کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ سلطان کھڑے ہوئے اور نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ اُن کو تخت پر بیٹھایا۔ اور ادباً سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے، مجذوب نے سلطان کی طرف دیکھ کر فرمایا آج تم کو اپنی طرف متوجہ پاتا ہوں کیا اولاد نرینہ کی خواہش ہے ؟ سلطان نے عرض کیا اگر عطا ہو جائے تو نوازش ہوگی۔ مجذوب نے کہا کہ اس کی قیمت زیادہ ہے کیوں کہ تم کو عجوبہ روزگار ملے گا۔ سلطان نے ادب سے عرض کیا کہ آپ جو حکم کریں گے میں حاضر کر دوں گا۔ مجذوب نے کہا: ہزار شاہی چائیے، سلطان نے فوراً ہزار شاہی پیش کر دی۔ مجذوب نے کہا: اے ابراہیم! تو نے ابراہیم سے بہت سستا سودا کیا، اتنا کہا اور تخت سے اٹھ کر چل دیئے۔ سلطان بھی ہاتھ ہاتھ باندھ کر ادب سے اُن کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ چند قدم چلنے کے بعد مجذوب نے پیچھے مڑ کر فرمایا: ”ایک لڑکا تو لے چکے ہو اب کیا چاہیے“۔ اس کے بعد ابراہیم مجذوب نظر نہیں آئے۔
مؤرخین نے اس کے علاوہ ایک روایت اور نقل کی ہے کہ سلطان اُن مجذوب کے ساتھ چند قدم چلا کہ مجذوب نے پیچھے پلٹ کر پوچھا کہ ایک لڑکا تو لے چکے ہو اب اور کیا چاہیے، اچھا جاؤ ایک چھوڑ اللّٰہ تعالیٰ دو اولاد دے گا۔
اس کے بعد سلطان ابراہیم کے یہاں دو لڑکے پیدا ہوئے ایک كا نام سید جہانگیر اشرف سمنانی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور دوسرے کا نام سید اعراف اشرف سمنانی ہے۔
اس روایت کے علاوہ ایک روایت اور بہت مشہور ہے کہ ایک رات سلطان ابراہیم نے خواب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی زیارت کی۔ بادشاہ تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے اور نہایت تعظیم و تکریم کی اور ادب کے ساتھ قدم بوسی سے مشرف ہوئے۔ جب سر قدم مبارک پر رکھا تو دل کو کمال بشاشت ہوئی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسکرا کر ارشاد فرمایا: ”اے فرزند ابراہیم! تم کو متردد دیکھتا ہوں کیا اولاد کی خواہش ہے ؟ بادشاہ رونے لگے اور بکمال عجز و انکسار عرض کرنے لگے کہ بارہ برس سے آرزوئے فرزند رکھتا ہوں جو تخت و تاج کا وارث ہو۔ اگر حضور آپ کے فضل و کرم اور عنایت و نوازش سے ایک فرزند عطا ہو جائے تو کرم بالائے کرم ہوگا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ سبحانہ وتعالی تم کو دو بیٹے عنایت فرمائے گا ایک کا نام اشرف اور دوسرے کا نام اعراف رکھنا لیکن پہلا بیٹا تمہارا صاحب سلطنت ظاہر و باطن ہوگا۔ (ملخص: سیرت مخدوم اشرف)
تعلیم و تربیت
بہت طویل عرصہ کے بعد سلطان سید ابراہیم اولاد نرینہ کی دولت سے مالا مال ہوئے تھے اس لیے اُنہیں اپنے بیٹے کے بڑے ہونے کا نہایت شدت سے انتظار تھا تاکہ اس کے لیے اچھی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں، لہذا وہ گھڑی قریب آئی جب حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی عمر چار سال چار مہینہ چار دن کی ہوئی تو نہایت اعلیٰ پیمانے پر آپ کی تسمیہ خوانی ہوئی، اس وقت کے جلیل القدر عالم دین حضرت علامہ عماد الدین تبریزی علیہ الرحمہ نے آپ کو بسم اللّٰہ پڑھائی۔ آپ کے قوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ ایک سال میں آپ نے قرآن کریم ہفت قرات کے ساتھ مکمل حفظ کر لیا تھا اس وقت آپ کی عمر سات سال کی تھی، چودہ سال کی عمر میں جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ پر عبور حاصل کر کیا تھا۔ آپ کے اساتذہ میں مشہور و معروف نام حضرت علی بن حمزہ کافی علیہ الرحمہ کا آتا ہے۔
صاحب لطائف اشرفی آپ کی علمی لیاقت اور خداداد صلاحیت کے متعلق لکھتے ہیں کہ ”جب سن شریف سات سال کو پہنچی تو نکات علمی اس خوبی سے بیان فرماتے تھے کہ بڑے بڑے علماء سن کر عش عش کر جاتے تھے۔ بارہ برس کی عمر میں علوم معانی و بلاغت و معقول و منقول، تفسیر و فقہ و حدیث و اصول جملہ علوم سے فارغ ہوئے۔ دستار فضیلت سر پر باندھی گئی، فن حدیث میں حضرت محبوب یزدانی نے حضرت امام عبد اللہ یافعی سے مکہ معظمہ میں سند حدیث حاصل کی اور مقام اسکندریہ میں حضرت نجم الدین کبریٰ کے صاحبزادے سے سند حدیث ملی اور اس کے علاوہ حضرت بابا فرح اور حضرت مولانا احمد حقانی سے بھی سند حدیث حاصل ہوئی، اسی طرح تمام علوم میں بڑے بڑے جلیل القدر علماء سے آپ نے اکتساب فیض کیا“۔
ترک سلطنت اور ہندوستان روانگی
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد حضرت ابراہیم سمنان کے بادشاہ تھے، ان کے وصال کے بعد حضرت مخدوم اشرف رحمۃ اللہ علیہ تخت نشین ہوئے، اس وقت آپ کی عمر 15 سال کی تھی، دس سال حکومت فرمانے کے بعد حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے پوری سلطنت اپنے چھوٹے بھائی کے حوالے کر کے ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے۔ ترک سلطنت کا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ: ”آپ کے تخت نشین ہونے کے بعد حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آکر بشارت دی کہ آپ ابھی حکومتی فرائض انجام دیں، اور تخت پر بیٹھ کر دین کی تبلیغ و اشاعت کا کام جاری رکھیں۔ آپ کے حکم سے حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ دس سال حکومتی فرائض انجام دیتے رہے، پھر جب آپ کی عمر پچیس سال کی ہوئی تو ماہ رمضان کی ستائیسویں شب میں حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: اے اشرف تمہارا کام پورا ہوا اب اگر وصال الٰہی اور حکومت لامتناہی چاہتے ہو تو سلطنت چھوڑ دو اور ملک ہند کی جانب کوچ کرو، یہ کہ کر حضرت خضر علیہ السلام روپوش ہو گئے۔ حضرت خضر علیہ السلام کا حکم ملنے کے بعد آپ نے ساری سلطنت اپنے بھائی کو سونپی اور مملکت کی چند ضروری معلومات فراہم کر کے والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ کے پاس اجازت لینے کی غرض سے حاضر ہوئے، والدہ ماجدہ سے اجازت لے کر چند احباب کے ہمراہ ملک ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے۔
درس و تدریس
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے عہد حکومت ہی میں تعلیم و تعلم کا عمدہ نظام قائم تھا، آپ نے درس و تدریس کے نمایاں خدمات انجام دیے اور فروغ علم دین میں اہم کردار ادا کیا۔ کثیر تعداد میں دور دراز سے طالبین علوم نبویہ اپنی علمی پیاس بجھانے کی غرض سے آپ کی بارگاہ میں زانوئے ادب تہ کرتے تھے، کثیر تعداد میں طلبہ نے آپ سے اکتساب فیض کیا۔ آپ حفظ قرآن اور تجوید و قرات کے ساتھ ساتھ علوم عقلیہ و نقلیہ کی بھی تعلیم دیا کرتے تھے، آپ کی بارگاہ نیاز کا فیض اس قدر عام تھا کہ طلبہ آپ کے پاس ایک ہی سال میں قرآن کریم مع تجوید و قرات حفظ کر لیا کرتے تھے۔ آپ کے شوق درس و تدریس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے سید عبد الرزاق نور العین کو کچھ مخصوص علوم کی تعلیم دینے کے لیے مولانا جمال الدین بدخشانی کو ایک سال تک سفر میں اپنے ساتھ رکھا، راستے میں قیام و طعام کے لیے ٹھہرتے تو تعلیم و تعلم کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ آپ کو درس و تدریس کا کس قدر شوق تھا، جس کی وجہ سے لاتعداد آپ کے تلامذہ موجود ہے۔
دینی خدمات
آپ کے والد ماجد حضرت ابراہیم رضِی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت سے ہی تعلیم و تعلم اور دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا عمدہ نظام قائم تھا، آپ کے والد ماجد نے سرزمین سمنان میں کثیر تعداد میں مدارس اسلامیہ قائم کیے، جن کی وہ خود سرپرستی فرمایا کرتے۔ حضرت مخدوم اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے تخت نشین ہونے کے بعد آپ نے ناصرف اُن مدارس اسلامیہ کی باگ ڈور کو سنبھالا بلکہ اس کو مزید فروغ دیا، مدارس میں موجود علماء و فقہاء کے لیے عمدہ وظائف مقرر کیے، تاکہ علماء مالی کمزوری کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم و تعلم پر کوئی فرق نہ پڑے، اور خود بھی بہت سے نادر و نایاب فرائض انجام دیے۔
آپ کی تصنیفات
آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے بہت سی نادر و نایاب کتب و رسائل حواشی و تراجم تحریر فرمائیں۔ علاوہ ازیں تصوف و طریقت اور کثیر علوم و فنون پر بے شمار کتابیں تصنیف فرمائیں۔ آپ کی تصنیفات کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ آپ جس جگہ تشریف لے جاتے تو وہاں کی ضرورت کے لحاظ سے اُنہیں کی زبان میں کتاب تحریر فرما دیتے، لطائف اشرفی میں ہے کہ آپ نے زیادہ تر کتابیں سفر میں تصنیف کیں۔ کتب خانہ آپ کے ساتھ ہوتا تھا، مطالعہ نہایت وسیع تھا، طرز استدلال بڑا عالمانہ تھا۔ آپ نے بہت ساری کتابیں عربی و فارسی میں تحریر فرمائیں، اور بہت سی عربی کتب کا فارسی میں اور فارسی کا عربی میں ترجمہ بھی کیا۔
آپ کی چند مشہور و معروف کتابوں کے نام یہ ہیں: ”آپ نے سب سے پہلا اور سب سے اہم کام یہ انجام دیا کہ آپ نے قرآن کریم کا فارسی میں ترجمہ کیا۔ جس وقت آپ نے قرآن کریم کا ترجمہ فرمایا اس وقت آپ سمنان کی بادشاہ تھے اور سمنان میں فارسی زبان رائج تھی، اس لیے آپ نے نہایت عمدگی کے ساتھ سلیس فارسی زبان میں آپ نے قرآن کریم کا ترجمہ کیا“۔
علاوہ ازیں آپ کی چند تصنیفات یہ ہیں: ”تحقیقات عشق، فتاویٰ اشرفیہ، بشارت المریدین، شرح ہدایہ، نحو اشرف، شرح عوارف المعارف، شرح فصوص الحکم، حجۃ الذاکرین، تنبیہ الاخوان، بشارت الاخوان، کنز الاسرار وغیرہ کثیر تصانیف و ملفوظات آپ نے تحریر فرمائیں۔
رد فرق باطلہ
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اٹھنے والے جملہ فتنوں اور فرقوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور فرق باطلہ کا علمی رد فرمایا، جیسا کہ کتب کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے روافض کا رد بلیغ فرمایا۔ کون روافض ؟ وہ روافض جو اہل بیت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کر کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے بغض و عناد رکھتے ہیں، خاص کر شیخین کریمین حضرت ابو بکر و عمر اور حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہم کے متعلق جھوٹے الزامات عائد کر کے اُن سے بغض رکھتے ہیں، یہاں تک کہ معاذ اللہ ان صحابہ کی صحابیت کا بھی انکار کر بیٹھے۔ ایسے جھوٹے رافضیوں کا حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے رد بلیغ فرمایا جو کہ آپکے مکتوبات سے ظاہر ہے، جیسا کہ آپنے ایک مکتوب شیخ عمر کی جانب لکھا اور یہ مکتوب ”اللہ نور السمٰوات والارض“ کی تفسیر اور خلفائے راشدین کے چند مناقب پر مشتمل ہے، اس میں فرماتے ہیں کہ: ”برادر اعز اشرف الاصحاب شیخ عمر درویش اشرف کی جانب سے دعا قبول فرمائیں۔ اے بھائی! طالب صادق کے لیے جب تک اس راہ میں سختی نہ ہو وہ راہ نہیں کھلتی۔ اور سالک واثق جب تک صداقت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ اپنائے اس کے لیے اس کے لیے نفع ظاہر نہیں ہوتا۔
ایک جگہ اور تحریر فرماتے ہیں کہ: ”سالک کو صداقت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عدالت حضرت عمر اور احیاء عثمان غنی سخاوت حضرت علی رحمہم اللہ تعالیٰ سے آراستہ ہونا ضروری ہے اور خلفائے راشدین کے اوصاف اربعہ سے پیراستہ ہونا ضروری ہے ورنہ کسی کام کو نہ پہنچے گا اور بادشاہ کے سامنے سعادت مند نہ ہوگا۔
اس کے علاوہ بہت سے دلائل و براہین سے آپ نے رافضیوں کا رد کیا۔
وصال پرملال
ماہ محرم الحرام میں آپ سخت مریض ہوئے، ہمہ وقت دروازے پر ملنے والوں کی ایک بھیڑ لگی رہتی تھی، آخر یہ مرد قلندر نے ۲۸ محرم الحرام سن ۸۰۸ھ میں دنیاۓ فانی سے داعی اجل کو لبیک کہا۔ (انا للہ وانا الیہ رٰجعون)
ربِّ کریم ہم سب کو حضرت کے خصوصی فیضان سے مستفیض فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ