انوکھے اور تیکھے لہجے کا شاعر: شجاعؔ خاور

بچنے کی خبر بھی نہ کسی یار کو پہنچے!

بے کار میں صدمہ کہیں دو چار کو پہنچے

                شجاعؔ خاور کے اس شعر سے ان کے انوکھے، تیکھے اور کچوکے لگانے والے انداز کا پتہ چل جاتا ہے۔ شجاع صاحب کی آواز بیسوی صدی کی وہ منفرد اور دلکش آواز ہے جس نے انسانی قلوب و اذہان کو دفعتا جھنجھوڑ ڈالا اور اصحابٍ فکر و فن اور شعر و سخن کے بیچ اپنی الگ پہچان اور منفرد شناخت بنائی۔ ان کے اشعار کے مطالعے کے بعد قارئین کے دل و دماغ ایک عجیب سی کیفیت سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ سیدھے سادے اور ہلکے پھلکے لفظوں میں ایسے شعر کہہ جانا جن سے انسان کو یک لخت جھٹکا لگے اور لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہو جائے، ان کی بہتر اور معیاری شاعری کا طرۂ  امتیاز ہے۔ مذکورہ بالا شعر کے علاوہ ان کے ایسے بے شمار اشعار ہیں جن سے ان کے انوکھے اندازِ بیان اور منفرد اسلوب تحریر کے ساتھ ساتھ فنی خوبیوں اور لطافتوں کا ادراک ہوتا ہے۔ چند مزید اشعار ملاحظہ کرتے چلیں:

اب پھرتے ہو بے یار و مددگار میاں جی

ہاں اور بنو صاحب کردار میاں جی!

بے عشق ہو آرام سے کرتے ہو نصیحت

اللہ کرے تم کو بھی بیمار میاں جی!

اٹھوں گا اب حسابِ زندگی کر کے برابر

مرا سر ہو گیا ہے آپ کے سر کے برابر

وہاں آنا جانا تو سب کا رہا

ہمارا نہ جانا غضب کا رہا

سب کا ہی نام لیتے ہیں اک تجھ کو چھوڑ کر

خاصا شعور ہے مجھے وحشت کے باوجود

ظلم کا موسم تھا اور تقریر آتی تھی مجھے

دو ہی دن میں کر لیا مشہور اپنے آپ کو

دل کھول کر نہ روئے تو جل جاؤگے میاں

گرمی کو تیز کرتی ہے برسات کی کمی

فقیرِ شہر سیدھا مت کھڑا ہو!

امیرِ شہر چھوٹا لگ رہا ہے!

                محولہ بالا تمام اشعار جناب شجاع کے بے باک، ظریفانہ اور اچانک چونکا دینے والے انداز و اسلوب کے غماز ہیں۔ ہر شعر انوکھا اور پر لطف ہے۔ چند میں طنز کا پہلو نمایاں ہے جو قاری کو دعوت فکر دینے کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں ایک لطیف سا احساس چھوڑ جاتا ہے۔ شجاع صاحب کی یہی وہ انوکھی طرزا ادا اور اچھوتا اسلوب گفتار ہے جس نے انھیں بیسویں صدی کے عظیم اردو شعرا کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔ آئیے موصوف کی شاعری کا تحقیقی اور فنی جائزہ لینے سے پہلے ان کی شاعرانہ عظمت اور فکری بلندی کو ان کے مشہور معاصرین ادباء کے اقتباسات کی روشنی میں سمجھیں۔

                ”شجاع خاور درّاک ذہن اور سفّاک لہجے کے شاعر ہیں۔ لفظوں پر ان کا حاکمانہ اقتدار قائم ہے۔ ان کا مشاہدہ تیز، اندازِ نظر واضح اور فکر روشن ہے“ (مخمور سعیدی)۔

                ”شجاع خاور کی شاعری کی بقا کے لیے فقط وہ لب و لہجہ اور بے تکلف اندازِ بیان ہی کافی ہے جسے سننے کا موقع اردو والوں کو قریب قریب نصف صدی کے بعد ملا ہے“ (سید ضمیر حسن دہلوی)۔

                ”شجاع خاور کی غزلوں کی داد وہ بزرگان ادب بھی دیں گے جو غزل میں تغزل، بلاغت، اشارت وغیرہ اجزاء کو ضروری سمجھتے ہیں“ (کمار پاشی)۔

                ”بیشتر اشعار کی تہہ تک صرف ایک دو بار پڑھ لینے سے نہیں پہنچا جا سکتا۔ اس لیے کہ بین السّطور میں اس سے کہیں زیادہ ہے جو سطور میں ظاہر ہے۔ یہ بڑے غور و فکر کی شاعری ہے“ (ظفر ادیب)۔

                ”شجاع خاور کی غزلیں میرے من میں اٹھتے ہر سوال کو یا تو پیش کرتی ہیں یا ان کے جواب دیتی ہیں۔ ان کی غزلوں سے گزرتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ یہی تو میں کہنا چاہتا تھا جسے کہنے کا ڈھنگ اور ڈھب مجھے نہیں آیا“ (کملیشور)۔

                ”وہ دن دور نہیں جب شجاع کی شاعری پر نقد و نظر مسلسل کتابوں کا موضوع ہوگا۔ ایک نئی، منفرد مگر مانوس اور دل پسند آواز اردو غزل میں برسوں کے بعد سنی گئی“ (نثار احمد فاروقی)۔

                اِن اقوال و اقتباسات کی مدد سے شجاع خاور کی مقبولیت و شہرت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جناب شجاع کی اب تک سات کتابیں ”اردو شاعری میں تاج محل“، ”دوسرا شہر“، ”واوین“، ”مصرع ثانی“، ”بات“، ”رشک فارسی“ اور ”اللہ ہو“ زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ موصوف کی نظموں میں سے پہلی بار جس نے ادبی دنیا کو چونکایا وہ تھی ان کی طویل نظم بہ عنوان ”دوسرا شجر“ جو ایک مکمل کتابی صورت میں (1968ء)میں شائع ہوئی، جب شاعر کی عمر صرف بیس سال تھی!!! نظم ”دوسرا شجر“ کے دو اشعار دیکھیں:

ہم یہ الفاظ یہ تحریر نہ کیوں الجھا دیں

آدمی اپنے ہی الفاظ سے سر پھوڑے گا

جب اسے اپنی ہی تفہیم گراں گزرے گی

ہو کے بیزار یہ تب اپنا قلم توڑے گا

                شجاع کی زندگی دوسرے ادباء سے بالکل مختلف اور الگ تھلگ ہے۔ انھوں نے اپنی حیات میں دیگر شعراء سے نسبتا زیادہ تجربات حاصل کیے۔ شجاع بیک وقت ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلی عہدے کے افسر (IPS) بھی تھے۔ عموما ایسا کسی ادیب یا شاعر کے ساتھ نہیں ہوتا۔ لوگ پہلے ملازمت اختیار کرتے ہیں پھر تخلیقی سفر شروع کرتے ہیں جب کہ خاور نے زمانہئ طالب علمی ہی سے تخلیق کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ملازمت مل جانے کے بعد سرکاری ذمہ داریوں اور مصروفیات کی بنا پر انھیں چھے برس تک شعر و شاعری ترک کر دینی پڑی۔ مگر اس فن سے قلبی لگاؤ اور حقیقی عقیدت نے انھیں چین نہ لینے دیا۔ چنانچہ خاور نے دوبارہ شاعری کی جانب توجہ مبذول کی اور پھر ان کے کلام کی اشاعتوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایام ملازمت میں حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں موصوف کبھی حکومت کی دھاندلیوں اور ناانصافیوں پر طنز کرتے نظر آتے ہیں، جیسے یہ اشعار:

غیر نے مفتی سے اپنے حق میں فتوی لے لیا

ہم صداقت کے نشے میں شاعری کرتے رہے

دلیلیں بھول جاؤگے وکیلو!

ہمارے رنگ میں دو روز جی لو

اتنے مظلوموں کو تم قید کیے جاتے ہو

ایک ظالم کو گرفتار نہیں کر سکتے!

کبھی اہل ثروت و ارباب حکومت کی غلامی، چاپلوسی اور جی حضوری کو قابل مذمت سمجھتے ہیں اور کیا ہی خوب فرماتے ہیں:

سر کو خم کیجے تو دستار بندھے سر پہ شجاع!

بولیے کیا ہے عزیز آپ کو دستار کہ سر؟

اور کبھی ملک کے موجودہ حالات پر اظہار تاسف کے ساتھ اس کے بدلنے کی استدعا کرتے ہیں:

ضبط تو چاہیے بے شک مرے جذبات کو بھی

کچھ بدلوائیے اِس شہر کے حالات کو بھی!

                شجاع خاور کی حالت ایسی ہے کہ وہ حالاتِ حاضرہ سے بھی غیر مطمئن ہیں اور بسا اوقات حالات کی تبدیلی بھی ان کے لیے پریشانی اور عدم طمانیت کی باعث بنتی ہے۔ یہ شعر دیکھیے اور ان کے منفرد انداز اور انوکھے تیور کو محسوس کیجیے۔ وہ کہتے ہیں:

حالات نہ بدلیں تو اسی بات پہ رونا!

بدلیں تو بدلتے ہوئے حالات پہ رونا

                کلام خاور کا مطالعہ کرتے ہوئے اس بات کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سیدھے سادے اور روز مرہ میں استعمال ہونے والے الفاظ و تراکیب سے بہترین تفکرات اور عمدہ شعر کی تخلیق کی قدرت و مہارت رکھتے ہیں۔ پیچیدہ اور گنجلک تراکیب و تشبیہات نیز فارسی استعارات ان کی شاعری میں جگہ نہیں پا سکتے۔ دیگر شاعروں کی طرح اردو شاعری میں فارسی الفاظ و تراکیب اور تشبیہات کا استعمال کر کے اشعار کو مشکل بنا دینا ان کی فطرت اور ذوق کے خلاف ہے۔ ایک جگہ وہ ایسے شعرا پر گہرا طنز کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

دل کی بات ہم ان سے صاف صاف کہہ دیں گے

اچھی خاصی اردو کی فارسی نہیں کرنی!

                سادگی، بے تکلفی، صاف دلی، بندش کی چستی اور زبان کی صفائی و روانی کلام شجاع کی اہم صفات و خصوصیات ہیں۔ انہی صفات و خصوصیات کی بنا پر ادبی حلقوں میں خاور کو ایک ایسے جدید اور تازہ کار شاعر کی حیثیت سے قبول کیا گیا جو اپنی روایت کا احترام بھی کرتا ہے اور جدید سے جدید تر راہوں پر تخلیقی سفر طے کرنے کی بہترین صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ خاور نے اپنی شاعری میں بہت سے تجربے کیے۔ غزل میں ایک انفرادی آزاد روی کے علاوہ ایسی قلندری کے لب و لہجے کو پروان چڑھایا جو تخلیقی تازگی اور فکری وسعت و رفعت کی حامل ہے۔

                آخر میں ان کے انوکھے، منفرد اور ذہن و دماغ کو یک بہ یک جھٹکا دینے والے چند مزید شعر ملاحظہ کریں:

اس تعلق کا چرچہ ہزاروں میں تھا

میرا قاتل بھی کل سوگواروں میں تھا

تخلیق کی راہوں میں بھٹک جاؤگے یارو!

تنقید کا رستہ تمھیں آسان پڑے گا

شجاع اتنی بھی گہری شاعری اچھی نہیں ہوتی

قلم ہے پھول سا اور لکھ رہے ہو بات پتھر کی

شاعر بنے آخر اسی موقع کی بدولت

جس موقع کے اشعار ہمیں یاد نہیں تھے

قلم اٹھاؤ ذرا حسن یار پر بھی شجاع

ملازمت نہیں کرنا، پر امتحان تو دو

لشکر کو بچائیں گی یہ دو چار صفیں کیا

اور ان میں بھی ہر شخص یہ کہتا ہے ہمیں کیا

مذاکرے نہیں ہوتے ہیں ترک الفت پر

اصول یہ ہے کہ یہ ایک دم کیا جائے

علاج تیرے تغافل نے کر دیا میرا

بہت دنوں سے دماغ آسماں پہ تھا میرا

میرا دامن ہے تیرے دامن سا

ایک ہی داغ دار تھوڑی ہے

الفاظ کے ہنر پہ ہوتی نہیں گزر اب

یہ کام شہر میں بس دو چار کر رہے ہیں

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter