روزہ کے ظاہری و باطنی آداب
دیگر عبادات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نماز،حج،زکوٰۃ وغیرہ کچھ کرنے کا نام ہے۔مثلاً نماز قیام، رکوع،سجود وغیرہ کی ادائیگی کا نام ہے۔حج الله رب العزت کی رضا کے لیے طوافِ کعبہ،وقوف،منی وعرفہ،سعی کا نام ہے۔ لیکن روزہ کھانے پینے اور جماع سے بچنے کا نام ہے آخر ایسا کیوں؟در حقیقت الله رب العزت اپنے بندوں کی تربیت فرمانا چاہتا ہے کہ میرے بندو!تمہارے پاس بھلے ہی حلال کھانا ہو،حلال مشروبات ہوں اور تمہاری منکوحہ تمہاری نظر کے سامنے ہو پھر بھی ماہ رمضان المبارک میں میری خوشی کی خاطر ان چیزوں سے صبحِ صادق سے غروب آفتاب تک رکے رہو۔اگر بندہ الله رب العزت کی رضا کی خاطر ان چیزوں سے اپنے آپ کو روکے رکھتا ہے تو الله رب العزت اپنی اس اطاعت کے عوض اس کے سونے جاگنے کو بھی عبادت قرار دیتا ہے اور بوقتِ افطار اس کی دعا کو شرفِ قبولیت سے نوازتا ہے۔جب ایک بندہ صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک حلال کھانے پینے کا عادی ہو جاتا ہے تو وہی بندہ ماہ رمضان المبارک گزر جانے کے بعد حرام کھانے پینے کی طرف اور غیر محرم عورتوں کی طرف اپنی طبیعت کو مائل نہیں کرتا بلکہ ماہ رمضان المبارک کی تربیت اسے یاد دلاتی ہے کہ جب تنہائی میں بھوک اور پیاس مٹانے کے لیے ماکولات ومشروبات نگاہوں کے سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی الله رب العزت کے دیکھنے کے تصور سے اور اس کے خوف سے اپنے آپ کو روکے رکھا تو اب ماہ رمضان المبارک کے گزر جانے کے بعد حرام کی طرف میں کیسے بڑھوں؟کیونکہ جو خدا ماہ رمضان المبارک میں ہمارے گھر کی تنہائی کو دیکھ رہا تھا وہی خدا آج بھی دیکھ رہا ہے۔ بس بندہ خدا اپنے آپ کو خوف خدا کی وجہ سے حرام ماکولات ومشروبات اور غیر محرم کی طرف غلط قدم اُٹھانے سے روک لیتا ہے۔اگر ماہ رمضان المبارک کی اس تربیت کا فائدہ ہم نے نہ اٹھایا اور روزہ کے فلسفے کو ہم نہ سمجھے تو ہم سے بڑا کم عقل کوئی نہیں۔بظاہر روزہ مذکورہ تین چیزوں سے اپنے آپ کو روکنے کا نام ہے لیکن اس کے علاوہ بھی روزے کی حفاظت کے حوالے سے حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم کے ارشاداتِ عالیہ موجود ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ان ارشادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے روزوں کی حفاظت کریں اور خوب روزے کی برکتیں حاصل کریں۔
روزہ کے ظاہری آداب تو یہی ہیں کہ صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور جماع سے رک جائیں۔لیکن روزہ کے کچھ باطنی آداب بھی ہیں جن کا لحاظ اشد ضروری ہے وہ یہ کہ جسم کے تمام اعضاء کو خلافِ شرع باتوں کے ارتکاب سے بچایا جائے جبھی ہم صحیح معنوں میں روزہ کے فوائد سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں اور فرمان باری تعالیٰ ،،لعلكم تتقون،، کے مژدہ جانفزا سے شاد کام ہوسکتے ہیں۔
جھوٹ سے بچیں:
جھوٹ ایک ایسا گناہ ہے کہ مذہبِ اِسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے سارے مذاہب کی نظر میں اسے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ ویسے تو ہمیں ہر حال میں جھوٹ سے پرہیز اور گریز کرنا چاہیے لیکن خصوصی طور پر ماہ رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں ہمیں جھوٹ سے بچنا چاہیے کیونکہ اگر ہم روزہ رکھ کر بھی جھوٹ بولتے ہیں تو گویا ہم نے روزہ کے مقصد کو فراموش کر دیا۔جیسا کہ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے؛،،جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل ترک نہ کرے تو الله کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنے کھانے پینے کو چھوڑ دے،،۔(بخاری شریف،جلد 1،صفحہ،255)حضرتِ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے؛رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛بندہ بات کرتا ہے اور محض اس لئے کرتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے جہنم کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جو زمین وآسمان کے درمیان کے فاصلے سے زیادہ ہے اور زبان کی وجہ سے جتنی لغزش ہوتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہی قدم سے لغزش ہوتی ہے۔(بہیقی)حضرتِ عبد الله بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں:رسولِ خدا صلی الله علیہ وسلم ہمارے مکان میں تشریف فرما تھے اور مجھے میری والدہ نے بلایا کہ آؤ تمہیں دوں گی حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:کیا چیز دینے کا ارادہ ہے؟اُنہوں نے کہا کھجور دوں گی!ارشاد فرمایا!اگر تو کچھ نہیں دیتی تو یہ تیرے ذمہ جھوٹ لکھا جاتا۔(ابوداؤد و بیہقی)
نازیبا الفاظ زبان سے ادا نہ ہوں:
بعض مالک اپنے نوکروں کو،افسر اپنے ماتحتوں کو،استاذ اپنے شاگردوں کو،ماں باپ اپنی اولادوں کو،اولاد اپنے والدین کو،بے تکلف دوست اپنے دوستوں کو خواہ مخواہ گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے کے عادی ہوتے ہیں۔حتیٰ کہ آج کل کے ماحول میں اسے برا تک تصور نہیں کیا جاتا۔بعض نوجوانوں کا تکیہ کلام ہی گالی ہوتا ہے کہ ان کی ہر بات گالی گلوج اور ناشائستہ الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔مگر یاد رکھیں!ماہ رمضان المبارک ان چیزوں سے بھی ہمیں پاک کرنے کے لیے آتا ہے جس سے کسی مسلمان کو ادنی درجہ کی تکلیف ہو۔ماہ رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں ان چیزوں سے پرہیز کرنے کی کوشش کریں انشاء الله تعالیٰ اس کی برکت سے ہمیشہ کے لیے اس قسم کے الفاظ سے بچنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔
غیبت سے پرہیز:
اسماء بنتِ یزید رضی الله عنہا سے روایت ہے:رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص اپنے بھائی کے گوشت سے اس کی غیبت میں روکے یعنی مسلمان کی غیبت کی جارہی تھی اس نے روکا تو الله رب العزت پر حق ہے کہ اس کو جہنم سے آزاد کردے۔(بہیقی)الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو مسلمان اپنے بھائی کی آبرو سے روکے یعنی کسی مسلم کی آبروریزی ہوتی تھی اس نے منع کیا تو الله رب العزت پر حق ہے کہ قیامت کے دن اس کو جہنم کی آگ سے بچائے اس کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی،،وكان حقا علينا نصر المؤمنين،،۔(الروم: 30)مسلمانوں کی مدد کرنا ہم پر حق ہے۔(شرح سنہ،ابوداؤد)حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے:رسولِ خدا صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے اور مومن مومن کا بھائی ہے۔اس کی چیزوں کو ہلاک ہونے سے بچائے اور غیبت میں اس کی حفاظت کرے۔(ترمذی و ابوداؤد)غیبت کے یہ معنیٰ ہیں کہ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو(جس کو وہ دوسروں کے سامنے ظاہر ہونا پسند نہ کرتا ہو)اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا اور اگر اس میں وہ بات ہی نہ ہو تو یہ غیبت نہیں بلکہ بہتان ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:،،لا يغتب بعضكم بعضاً.ايحب احدكم ان ياكل لحم اخيه ميتا فكرهتموه،، (الحجرات:12)تم آپس میں ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے اس کو تو تم برا سمجھتے ہو۔احادیث میں بھی غیبت کی بہت برائی آئی ہے۔چند احادیث ذکر کی گئی قارئین انہیں غور سے پڑھیں۔آج کل مسلمانوں میں یہ بلا بہت پھیلی ہوئی ہے۔اس سے بچنے کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے۔جبکہ روزہ کی حالت میں اس سے بچنا بہت ضروری ہے۔
حضورِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں دو عورتوں نے روزہ رکھا اور ایسا ہوا کہ اُنہیں اس قدر پیاس لگی کہ جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔آخر حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم سے روزہ توڑنے کی اجازت مانگی،آپ نے ایک پیالہ ان کے پاس بھیجا اور فرمایا:ان سے کہوں جو کچھ کھایا ہے وہ اس میں قے کردیں،لہٰذا!ان کی قے میں خون اور جمے ہوئے خون کے ٹکڑے تھے۔لوگوں کو اس پر بے حد تعجب ہوا تو آپ نے فرمایا:ان دونوں عورتوں نے اس چیز سے سحری کی جسے الله رب العزت نے حلال کیا ہے اور پھر اس چیز سے توڑ ڈالا جسے الله رب العزت نے حرام فرمایا ہے۔یعنی غیبت میں مشغول ہو گئیں۔(نزھتہ المجالس)غیبت ایسا سخت ترین گناہ ہے کہ الله رب العزت نے اسے،،اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانے،،سے تعبیر فرمایا ہے۔ہمیں ہمیشہ اور خصوصاً ماہ رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں غیبت سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کسی کا دل نہ دکھاؤ:
روزہ رکھ کر ہمیں دل آزاری سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔دل آزاری کئی طریقوں سے ہوتی ہے،کسی کو الٹے سیدھے ناموں سے پکارنا،کسی کا مذاق اڑانا،کسی پر جملے کسنا،کسی کے عیب کے ساتھ اسے منسوب کرنا،کسی کا کوئی سامان ادھر ادھر کرکے ستانا وغیرہ۔یہ سب دل آزاری کی صورتیں ہیں۔ روزہ رکھ کر ہمیں ان سب چیزوں سے کوسوں دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔کیوں کہ روزہ کا ایک مقصد ایک دوسرے کی تکالیف کا احساس اور آپس میں پیار ومحبت پیدا کرنا ہے۔ کالجوں،اسکولوں،مدرسوں کے طلبہ اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں میں یہ وبا عام ہے کہ وہ ایک دوسرے کا خوب تمسخر اڑاتے ہیں۔اُنہیں جاننا چاہئے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ روزے کی روحانیت کے خلاف ہے۔الله رب العزت ہمیں خلافِ شرع کاموں سے بچائے۔
کانوں کی حفاظت:
یوں تو کانوں کو ہر حال میں بری باتوں کو سننے سے بچانا لازم ہے مگر روزہ کی حالت میں اس کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔ایک بزرگ کا قول ہے کہ جسم کے ہر عضو کا روزہ ہوتا ہے اور کانوں کا روزہ یہ ہے کہ کان کو بری اور فضول باتوں کے سننے سے بچایا جائے کیونکہ بری باتیں سننے کا دل پر بہت گہرہ اثر ہوتا ہے۔جس سے انسانی خیالات میں گناہوں کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے،روزہ دار کے لیے ضروری ہے کہ غیبت،جھوٹی باتیں،لطیفے،فلمی اسٹوریاں،فلمی گانے اور فحش باتیں نہ سنے کیونکہ شریعت میں جن باتوں کا کہنا جائز نہیں ان کا سننا بھی جائز نہیں۔نعت رسول صلی الله علیہ وسلم اور قرآن مجید کی تلاوت سنیں،کثرت سے درود پاک کا ورد کریں تو انشاء الله تعالیٰ دل کی دنیا روشن ہوگی اور روزہ کے روحانی فوائد حاصل ہوں گے۔
نگاہوں کی حفاظت:
اصل روزہ جسم کے ہر عضو کو گناہوں سے بچانا ہے۔حالت روزہ میں ہمیں اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنی لازمی ہے۔اپنی آنکھوں کو غیر محرم عورتوں،ٹی وی،ناچ گانا،فلم،عریاں تصویریں دیکھنے سے بچانا ہوگا،کیونکہ ان چیزوں کو دیکھنے سے دل میں گناہ کرنے کا خیال پیدا ہوتا ہے اور وہ ہمارے روزہ کی روحانیت کو مردہ کر دیتا ہے۔لہٰذا!ان چیزوں سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں۔اگر کچھ دیکھنا ہوتو قرآن مجید کو دیکھیں،مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کریں،والدین کو محبت بھری نگاہ سے دیکھیں اور پڑھنا چاہیں تو قرآن مجید اور دینی کتابوں کا مطالعہ کریں اس سے بے شمار دینی ودنیاوی فوائد حاصل ہوں گے۔
دل کی حفاظت:
روزہ کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ ہمارے دل میں ہر طرح کے گناہ سے بچنے کا جذبہ پیدا ہو۔انسان جو بھی گناہ کرتا ہے پہلے اس کا تصور اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ اسے کر گزرتا ہے۔الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ،،انسان کے بدن میں گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ اگر وہ صحیح ہوتو پورا بدن صحیح رہے گا اور اگر وہ فاسد ہو جائے تو پورا بدن فاسد ہو جائے گا، وہ دل ہے،،۔لہٰذا!ہمیں اپنے دل کو غلط خیالات اور برے وسوسوں سے بچانا چاہیے۔
روزہ دار کا استقبال:
جب قیامت میں الله رب العزت اہل قبور کو اپنی اپنی قبروں سے اٹھنے کا حکم دے گا تو فرشتوں سے فرمائے گا:اے رضوان! میرے روزہ داروں سے آگے چل کر ملو کیوں کہ وہ میری خاطر بھوکے پیاسے رہے،اب تم بہشت کی خواہشات کی تمام اشیاء لے کر ان کے پاس پہنچ جاؤ۔اس کے بعد وہ رضوان زور سے پکار کر کہے گا،اے جنت کے غلمان و ولدان! نور کے بڑے بڑے تھال لاؤ،اس میں دنیا کی ریت کے قطرات،بارش کی بوندوں، آسمان کے ستاروں اور درختوں کے پتوں کے برابر میوہ جات اور کھانے پینے کی لذیذ اشیاء جمع کرکے روزہ داروں کے سامنے رکھ دی جائیں گی اور ان سے کہا جائے گا جتنی مرضی ہو کھاؤ پیو یہ ان روزوں کی جزا ہے جو تم نے دنیا میں رکھے۔ (روح البیان، جلد 2، صفحہ 108)
حضورِ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں نے شب معراج میں سدرہ المنتہیٰ پر ایک فرشتہ دیکھا جسے میں نے اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا تھا،اس کے طول وعرض کی مسافت لاکھ سال کے برابر تھی،اس کے ستر ہزار سر تھے اور ہر سر میں ستر ہزار منہ اور ہر منہ میں ستر ہزار زبانیں اور ہر سر پر ستر ہزار نورانی چوٹیاں تھیں اور ہر چوٹی کے سرپر بال میں لاکھ لاکھ موتی لٹکے ہوئے تھے،ہر ایک موتی کے پیٹ کے اندر بہت بڑا دریا ہے اور ہر دریا کے اندر بہت بڑی مچھلیاں ہیں اور ہر مچھلی کا طول دو سال کی مسافت کے برابر اور ہر مچھلی کے پیٹ میں لکھا ہے ،،لا اله الا الله محمد رسول الله،، اور اس فرشتے نے اپنا سر اپنے ایک ہاتھ پر رکھا ہے اور دوسرا ہاتھ اس کی پیٹھ پر ہے اور وہ ،،حظيرة القدس،، یعنی بہشت میں ہے۔جب وہ الله کی تسبیح پڑھتا ہے تو اس کی پیاری آواز سے عرش الٰہی خوشی میں جھوم اٹھتا ہے۔میں نے جبریلِ امیں سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ یہ وہ فرشتہ ہے جسے الله تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے دو ہزار سال پہلے پیدا کیا تھا۔پھر میں نے کہا اس کی لمبائی اور چوڑائی کہاں سے کہاں تک ہے جبریل نے عرض کیا الله تعالیٰ نے بہشت میں ایک چراگاہ بنائی ہے اور یہ اسی میں رہتا ہے اس فرشتے کو الله تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ وہ آپ کے اور آپ کی امت کے ہر اس شخص کے لیے تسبیح پڑھے جو روزہ رکھتے ہیں۔ میں نے اس فرشتے کے آگے دو صندوق دیکھے اور دونوں پر ہزار نورانی تالے تھے۔میں نے پوچھا جبرئیل! یہ کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا اس فرشتے سے پوچھئے میں نے اس عجیب وغریب فرشتے سے پوچھا کہ یہ صندوق کیسی ہیں؟اس نے جواب دیا کہ اس میں آپ کی روزہ رکھنے والی امت کی برآت(چھٹکارا) کا ذکر ہے۔آپ کو اور آپ کی امت کے روزہ رکھنے والوں کو مبارک ہو۔ (روح البیان، جلد 2، صفحہ، 108)