قرآن اور سائنس ایک تقابلی جائزہ

            بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قرآن کا کام تو محض شرعی و دینی امور سے بحث کرنا ہے۔ یہ تو سراسر عبودیت اور عقائدو احکام کا مجموعہ ہے۔ سائنس کی ترقی او ر نئی نئی معلومات سے اسے کیا سروکار اور اگر یہ کہا جائے کہ قرآن سائنسی مواد سے بحث کرتا ہے اور جدید سائنسی معلومات سے قرآن کے بہتر فہم میں مددر ملتی ہے۔ تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ پرانے لوگ قرآن کو درست طور پرنہ سمجھ سکے۔

            ہمیں یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ قرآن سب انسانوں اور سب زمانوں کے لئے ہے۔ جو لوگ جس دور میں اسکا مطالعہ کریئنگے یہ محسوس ہوگا کہ یہ انہی لوگوں اور اسی دور کیلئے نازل ہوا ہے۔

قرآن اور سائنس کا تقابلی جائزہ کرنے سے قبل ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ در اصل سائنس کہتے کسے ہیں اور یہ کس چیز پر بحث کرتا ہے۔ اس سوال کے ماہرین کی طرف سے چند جوابات یہ ہیں۔ یہ طبعی کائنات کا غیر جاندارانہ مشاہدہ اور اس سے متعلق بنیادی حقائق کا مطالعہ ہے۔ اس کے معنی جاننے اور سیکھنے کے  ہیں ۔ یہ مشاہدے سے دریافت ہونے والے نتائج یا علمی حقائق کو مرتب اور منظم کرنے کا نام ہے۔

اب دیکھئے مذہب کو بھی ان چیزوں سے کوئی سروکار ہے کہ نہیں

قرآن پاک کا مطالعہ کرنے والا ایک عام قاری بھی محسوس کرسکتا ہے کہ قرآن جگہ جگہ ان چیزوں پر زور دیتا ہے۔ وہ اپنے قاری سے کثرت اور تکرار کے ساتھ علم ، مشاہدے،  تدبر،  تفکر اور حقائق کے غیر جانبدارانہ مطالعے کا مطالبہ کرتا ہے۔ جاننے سیکھنے اور علم حاصل کرنے کے حوالے سے قرآن کے مثبت رویے کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اس کے مطابق انسان کی تخلیق کے بعد سب سے پہلے علم الاشیاء دیا گیا اور اسی بنا پر اسے فرشتوں سے زیادہ فضیلت بخشی گئی ہے۔

            یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے کسی مظہر فطرت کو دیکھ کر اس پر غور وفکر کیے بغیر آگے گزر جانے کو نافرمانوں کی نشانی بتایا ہے۔

            باربار نگاہ ڈالنا اور غور وفکر کرنا سائنسی زبان میں   observation کہلاتا ہے اور تجربہ experiment کہلاتا ہے۔ کسی چیز کا باربار مطالعہ اور حالات بدل بدل کر یعنی تجربہ کرکے مطالعہ کرنے اور غور و خوض کرکے گہرے نتائج اخذ کرنے کو سائنسی تحقیق  scientific research کہتے ہیں ۔

            اس حقیقت سے انکار نہیں کہ قرآن سائنس کی کتاب نہیں ، اس کا اصل مقصد اور بنیادی کام انسان کی ہدایت ہے۔ جہاں اللہ رب العزت معرفت کا درس دیتا ہے وہاں اللہ  كى کبریائی اور قدرت کے اظہار کے لئے اپنے دعوے اور اسکا ثبوت پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس علوم کے ماہرین جو کسی مذہب کو تسلیم نہیں کرتے اپنی تحقیقات کے دوران خدا کے موجود ہونے کا دعوی پیش کرتے ہیں۔

سائنسی نظریہ Relativity پیش کرنے والا آئن اسٹائن کہتا ہے  سائنسی تحقیق آدمی میں ایک خاص قسم کے مذہبی احساسات پیدا کرتی ہے،  یہ ایک طرح کی عبادت ہے۔ دوسری طرف ماہر امراض قلب ڈاکٹر مورلیس بکائی لکھتے ہیں اس میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ اسلام نے مذہب اور سائنس کو ہمیشہ جڑوا بہنیں تصور کیا۔ مشاہد ہ  فلک کیلئے پہلا ٹیلی اسکوپ استعمال کرنے والا سائنسداں گلیلیو کہتا ہے کہ یہ کائنات اور اس کے سارے حقائق خدا کے تخلیق کردہ ہیں،  کائنات اللہ کی تحریر کردہ دوسری کتاب ہے۔ آئزک نیوٹن نے جسے دنیائے سائنس کا بڑا نام سمجھا جاتا ہے دہریت کی مخالفت اور مذہب کے دفاع میں بہت سے مضامین لکھے ہیں ۔

ابن النفیس نے بخاری کی حدیث: اللہ نے کوئی مرض ایسا پیدانہیں کیا جس کی دوا پیدا نہ کی ہو: کو اپنی سائنسی دریافت کی بنیاد بنایا اور خون کی دل سے پھیپھڑوں کی طرف حرکت pulmonary circulation کو دریافت کیا۔

 

سائنس علم سی فہم القرآن میں ترقی

اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ سائنس کائنات اور زندگی کے جن حقائق کو سامنے لاتی ہے اس سے بہت سے قرآنی آیات کو سمجھنے میں مدد حاصل ہوتی ہے۔ جیسے قرآن پاک کی آیت (ثم خلقنا النطفۃ علقۃ) پھر ہم نے نطفے کو جمے ہوئے خوں کی شکل دی۔ علقۃ کا معنی خون کا لوتھڑا اور چپکا ہوا مادہ جیسا کہ جونک اور یہی لفظ سائنس کے ماہر ڈاکٹر نے بھی استعمال میں لایا،   جونک کسی جاندار سے چپک کر اسکے خون سے غذا حاصل کرتا ہے اور بچہ جب اپنی ماں کے شکم میں ہوتا ہے تو رحم میں چپک کر ہر خام مال  لوٹ لیتا ہے جو اسے اپنی نشونما میں ضروری ہے۔

 

کائنات کا پھیلنا

آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا اور ہم ہی اسے توسیع دینے والے ہیں۔ یہاں جو لفظ استعمال ہوا ہے (لموسعون) ہم اسے یقینا وسیع کر رہے ہیں۔ ساتویں صدی میں اسکا مطلب صرف اتنا کیا گیا تھا کہ خدا نے ہماری زندگی کے دوام کیلے ایک وسیع اور بارآور کائنات  کی تخلیق فرمائی۔ آج سائنسی تحقیق کہتی ہے کہ کائنات دن بہ دن پھیلتی جارہی ہے۔ اور قرآن کا لفظ لموسعون اس پر صادق آتا ہے۔

نتیجہ یہ کہ قرآن وہ کتاب ہے جو تدبر کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ قدرت اور سائنس سے متعلق ایسے بیانات پیش کرتی ہے جو سامعین کو متاثر اور اور انکے  عقول کو مطمئن کرتی ہے خواہ انکا تعلق ۱۲ صدی سے ہو یا پھر ساتویں صدی سے۔ یہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس کتاب کا مصنف کیسا ہوگا۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter