عيد الفطر :فلسفۂ غمخواری کی عملی تفسیر

عید کا تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ۔ تاریخ کا کوئی دور ایسا نہیں گرزا جو عید کے تصور سے خالی ہو۔قدیم تاریخی کتب کے مطالعہ سے یہ بات واشگاف ہوتی ہے کہ تہذیب وثقافت کی شروعات ہی سے  عید کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔عید  عہد قدیم کے تصور کے مطابق محض سماجی خوشیوں کا نام ہے۔ جس میں مذہب کا کوئی رنگ وروغن نہ تھا۔جس میں لوگ کسی ایک جگہ پر جمع ہوکر اپنی خوشی وشادمانی کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے تھے۔ جو نفسانی خواہشات کی تکمیل پر عبارت تھی۔ عریانیت اور فحاشیت بھی عید کے اس دن کا اہم حصے تھے۔۔ اسلام دین فطرت ہے لہٰذا اس نے بھی اپنے پیروکاروں کے فطری تقاضوں کوپورا کرنے کے لئے خوشی و مسرت کے لیے دو تہوار فراہم کئے ہیں۔ جن کو عربی میں عید کے لفظ سے تعبیر کیا جاتاہے۔ اور وہ ہیں عید الفطر اور عید الاضحی۔ ان اسلامی تہواروں کی اپنی جداگانہ اور امتیازی شان ہے۔ عید کا لفظ ”عود“ سے مشتق ہے، جس کے معنیٰ”لَوٹنا“ کے ہیں، یعنی عید ہر سال لَوٹتی ہے، اس کے لَوٹ کے آنے کی خواہش کی جاتی ہے۔ اس وجہ سے اس تہوار اور خوشی کے موقع کو عید سے تعبیر کرتے ہیں۔اور ”فطر“ کے معنیٰ ”رروزہ کشائی یا روزہ ختم کرنے“ کے ہیں۔ چوں کہ عید الفطر کے دن ، روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے۔ اور اس روز اللہ تعالیٰ بندوں کو عباداتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتا ہے، تو اِسی مناسبت سے اسے ”عید الفطر“ قرار دیا گیا۔حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہلِ مدینہ دو دن بہ طورِ تہوار مناتے اور اُن میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے۔ رسولِ کریمﷺ نے اُن سے دریافت فرمایا’’ یہ دو دن، جو تم مناتے ہو، ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے؟‘‘ تو اُنہوں نے کہا’’ ہم عہدِ جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے) یہ تہوار اِسی طرح منایا کرتے تھے۔‘‘ یہ سُن کر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن مقرّر فرما دیے ہیں،یوم عیدالاضحٰی اور یوم عیدالفطر۔‘‘( ابو داؤد) نبی کریمﷺ نے عیدین کے موقعے پر شرعی حدود میں رہتے ہوئے خوشیاں منانے کی اجازت دینے کے ساتھ، دوسروں کو بھی ان خوشیوں میں شامل کرنے کی ترغیب بھی دی۔اسلامی تہوار دوسرے مذاہب کے تہوار اور جشنوں سے بالکل مختلف النوع اور جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ جو حدود وقیود کے دائرے میں محیط ہے۔

عید کی شرعی حیثیت

ہمارے نبی کریمﷺ جب مدینہ میں ہجرت کرکے تشریف لائے تو وہاں کے لوگ چھوٹے چھوٹے تہواروں کے علاوہ نوروز کا جشن اور کچھ بڑے بڑے بتوں کی پوجا کا تہوار بھی مناتے تھے۔حضور ﷺ نے ان باتوں کو سخت نا پسند فرمایا اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنی امت کے لئے دعا فرمائی۔ اور دوعیدیں مسلمانوں کے لیے مقرر کروا لیں، جب پہلی بار مسلمانوں پر روزے فرض ہوئے تو تاریخ اسلام کے اس پہلے رمضان المبارک میں حضور ﷺ نے مدینہ کے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ "ہر قوم کے لئے عید ہوتی ہے تم بھی عیدیں مناتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہاری عیدوں کو ان دو عیدوں سے بدل دیا ہے۔ اب تم ہر سال شان سے عیدالفطر اور عیدالا لضحیٰ منایا کرو"۔ چنانچہ مسلمانوں نے اپنے پیارے رسول ﷺ کے اس ارشاد کی تعمیل میں یکم شوال ۲ ہجری کو پہلی بار عید منائی۔


چاند رات شاپنگ  کے لیے نہیں بلکہ رضائے الہی کے لیے ہے

نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا  کہ’’ جب  عید کا دن آتا ہے، تو شیطان چِلَّا چِلَّا کر روتا ہے،اُس کی ناکامی اور رونا دیکھ کر تمام شیاطین اُس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ’’ تجھے کس چیز نے غم ناک اور اُداس کردیا؟‘‘شیطان کہتا ہے کہ’’ہائےافسوس!اللہ تعالیٰ نے آج کے دن اُمّتِ محمّدیہﷺکی بخشش فرمادی ہے،لہٰذا تم اُنہیں پھر سے لذّتوں اور خواہشاتِ نفسانی میں مشغول کردو۔‘‘(مسند احمد)


ہم چاند رات بازاروں میں شاپنگ کرتے ہوئے  اور غل غپاڑے میں گزار دیتے ہیں، جب کہ احادیثِ مبارکہؐ میں اس رات میں عبادت کی تاکید کی گئی ہے۔  اس سلسلے میں حضرت ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا’’جو شخص عید الفطر اور عید الاضحی کی راتوں میں عبادت کی نیّت سے قیام کرتا ہے، اُس کا دِل اُس دن بھی فوت نہیں ہوگا جس دن تمام دِل فوت ہو جائیں گے۔‘‘( ابنِ ماجہ) حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا’’ جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے، تو اُسے آسمانوں پر’’ لیلۃ الجائزہ‘‘یعنی’’ انعام کی رات‘‘ کے عنوان سے پکارا جاتا ہے اور جب صبحِ عید طلوع ہوتی ہے، تو حق تعالیٰ جل شانہ فرشتوں کو تمام بستیوں میں بھیجتا ہے اور وہ راستوں کے کونوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے، جسے جنّات اور انسانوں کے سِوا ہر مخلوق سُنتی ہے، پکارتے ہیں کہ’’ اے اُمّتِ محمّدیہﷺ اس کریم ربّ کی بارگاہِ کرم میں چلو، جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے۔‘‘


جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں، تو اللہ ربّ العزّت فرشتوں سے فرماتا ہے’’ اُس مزدور کا کیا بدلہ ہے، جو اپنا کام پورا کرچُکا ہو؟‘‘ وہ عرض کرتے ہیں’’ اے ہمارے معبود! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اُس کی مزدوری اور اُجرت پوری پوری عطا کردی جائے‘‘، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’ اے فرشتو! تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے اُنہیں رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا فرمادی‘‘ اور پھر بندوں سے ارشاد ہوتا ہے کہ’’ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو، میری عزّت و جلال اور بلندی کی قسم! آج کے دن آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے، عطا کروں گا۔دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے، اُس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا۔ میرے عزّوجلال کی قسم! مَیں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رُسوا نہ کروں گا۔ مَیں تم سے راضی ہوگیا۔‘‘(الترغیب والترہیب)


آپ نے ان مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے خوب اندازہ لگا لیا ہوگا کہ عید کی رات اور عید کا دن کتنا مبارک اور پاکیزہ ہے۔ بالخصوص عید کی چاند رات ہم غفلت میں گزار دیتے ہیں اور اپنی پرانی روش کے مطابق اپنا قیمتی وقت بازاروں میں رائگاں واکارت کردیتے ہیں۔حدیث کے مطابق اس رات کثرتِ عبادت کے ذریعے شب بیداری کرنا چاہئے۔ اس کے برعکس ہم نے رمضان مبارک میں جو کچھ تقوی حاصل کیا تھا اس کو سر بازار نیلام کرکے بیچ دیتے ہیں۔یہ جو کچھ بیان کیا گیا وہ سب عید کی شرعی حیثیت و معنویت ہے۔ اگر ان اعتبار سے عید منائی گئی تو عید عید ہے ورنہ وہ عید عید نہیں بلکہ وعید ہے۔

عید غمخواری وغمگساری کی تعلیم دیتی ہے

جس طرح رمضان کا مبارک مہینہ غمخواری وغمگساری کا مہینہ ہے اسی طرح عید الفطر بھی غریبوں اور مفلوک الحال کو اپنی خوشیوں اور مسرتوں میں شریک کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اسی حکمت کے تحت شارع علیہ السلام نے صدقۂ فطر کو واجب قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ تم صدقۂ فطر عید گاہ جانے سے پہلے پہلے ادا کیا کرو۔ تاکہ جو غریب عید کے دن تنگ دستی ومفلسی کی وجہ سے عید نہ منا سکیں وہ تمہارے فطرانے کے بدولت عید کی خوشیوں میں تمہارے ساتھ شریک ہوجائیں۔ اس کا عملی نمونہ سرکار دو عالم ﷺ نے ہمیں کر دکھایا۔ جس حدیث کو ہم بیان کرنے جارہے ہیں آپ  نے بارہا سنا اور پڑھا بھی ہوگا اس واقعہ کو علامہ عبد المجید العدوی الحنفي نے اپنی کتاب التحفۃ المرضیہ فی الاخبار القدسیہ والاحادیث النبویہ میں مفصل بیان کیا۔ ہم نے یہاں کتاب اور صاحب کتاب کی تحقیق اس لیے پیش کی تاکہ کوئی صاحب علم اس واقعے کو انکار نہ کردیں۔ کئی افراد کو کہتے ہوئے سنا کہ ایسا واقعہ کہیں موجود نہیں ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی کی کم علمی کی وجہ سے کسی چیز تک عدم رسائی عدم وجود کی دلیل نہیں۔ چلئے واقعہ پڑھتے ہیں۔ جو اس طرح مرقوم ہے" آقائے دوجہاںﷺنمازِ عید سے فارغ ہوکر واپس تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں آپؐ کی نظرایک بچّے پر پڑی، جو میدان کے ایک کونے میں بیٹھا رو رہا تھا۔

نبی کریمﷺ اُس کے پاس تشریف لے گئے اور پیار سے اُس کے سَر پر دستِ شفقت رکھا، پھر پوچھا’’ کیوں رو رہے ہو؟ ‘‘بچّے نے کہا’’ میرا باپ مرچُکا ہے، ماں نے دوسری شادی کرلی ہے، سوتیلے باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے، میرے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے، نہ پہننے کو کپڑا۔‘‘یتیموں کے ملجاﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے،فرمایا کہ’’ اگر میں تمہارا باپ، عائشہؓ تمہاری ماں اور فاطمہؓ تمہاری بہن ہو، تو خوش ہو جائو گے؟‘‘ کہنے لگا’’ یارسول اللہﷺ! اس پر مَیں کیسے راضی نہیں ہو سکتا۔‘‘حضورِ اکرمﷺبچّے کو گھر لے گئے"۔(التحفۃ المرضیہ)


یہ محسن کائنات ﷺ کی غریبوں ویتیموں سے غمگساری کی بہترین مثال ہے۔ ایسے بھی آپ بے کسوں اور بے بسوں کے لیے جائے پناہ ، مسیحا اور پرساں حال تھے۔ آپ کے چچا حضرت ابو طالب نے کیا خوب کہا

"وأبيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للأرامل"

یعنی وہ سفید فام شخصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے نورانی چہرے کے وسیلے سے بادل سے بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کا نگہبان، بیواؤں کا محافظ ہے (بخاری)


انہیں اشعار کو الطاف حسین حالی نے اردو کے سانچے میں ڈھال کر کچھ یوں کہا

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ

یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ

ہمارے اسلاف بھی سرکار دوجہاں ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یتیموں اور غریبوں کی حاجت برآری میں کوشاں رہا کرتے تھے۔ ہماری اس بات کو ہم مشہور زمانہ صوفی ومتصوف بزرگ حضرت معروف کرخی رحمہ اللہ کی تابناک زندگی کے ایک واقعے سے ثابت کرتے ہیں۔


جو اکابر صوفیاء میں شامل ہیں، ایک عید  کے موقع پر وہ نخلستان میں گری کھجوریں چُن رہے تھے۔ایک شخص نے پوچھا ’’ایسا کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ تو فرمایا’’مَیں نے ایک لڑکے کو روتے دیکھا، تو اُس سے پوچھا’’ تم کیوں رو رہے ہو؟‘‘لڑکا بولا’’ مَیں یتیم ہوں۔ یہ لڑکے اخروٹوں سے کھیل رہے ہیں اور میر ے پاس اتنے پیسے نہیں کہ اخروٹ خرید کراُن کے ساتھ کھیل سکوں۔‘‘ اس لیے مَیں کھجوریں چُن رہا ہوں تاکہ اُنہیں فروخت کرکے اُس یتیم بچّے کو اخروٹ لے دوں۔‘‘(اِحیاء العلوم)


ان واقعات سے یہ بات آفتاب نیم روز کی طرح عیاں ہے کہ عید کے دن غریبوں ، مسکینوں، مفلوک الحالوں، ناداروں اور فقیروں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کی کوشش کریں اور زیادہ سے زیادہ محتاجوں کو تلاش کرکے ان کی ضرورتوں کو پورا کریں۔ عید گاہ جانے سے پہلے اپنے اپنے پڑوس میں گشت لگائیں اور دیکھیں کہ کون ضرورت مند ہے؟؟ کون  افلاس وتنگی کی وجہ پریشان ہے؟ کون اپنی عزت النفس وغیرت کی وجہ دوسروں کے سامنے اپنا دست سوال دراز نہیں کر رہا ہے؟ ڈھونڈ ڈھونڈ کر انہیں معلوم کریں اور ان تک پہنچ کر ان کی ضرورتوں کو پورا کریں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس کا ہم نے کرونا وائرس کے وقت بارہا مشاہدہ بھی کیا ہے کہ کتنے ایسے غیور افراد ہمارے سماج اور سوسائٹی میں زندگی بسر کرتے ہیں جو کبھی بھی اپنی ضرورتوں کو دوسروں کے سامنے پیش نہیں کرتے۔ بھوک وپیاس تو برداشت کر لیتے ہیں لیکن دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرنا گوارہ نہیں کرتے۔ اسی غیرت میں کتنے لوگ بھکمری کے شکار ہوکر موت کو گلے سے لگا لیا۔


لہذا ضروری ہے کہ اس مبارک گھڑیوں میں بھی ان جیسے غریبوں کی حاجت روائی کریں اور ان کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کرکے ان کے دل کو بھی فرحت وانبساط کا سامان فراہم کریں اور انہیں فقر وفاقہ کا احساس تک نہ ہو۔یہی زندگی کا فلسفہ ہے۔ یہی انسانیت اور ہمدردی ہے۔ یہی رمضان اور عید کا پیغام ہے۔ اسلام ساری انسانیت کا خیر خواہ دین ہے۔ بالخصوص اس ماۂ مبارک میں سماج سے فقر وفاقہ اور افلاس وتنگی کو دور کرنے کی کوشش کریں اور اس عید میں ہم سب عہد وپیماں کریں کہ ان شاء اللہ ہم ہماری سماج اور سوسائٹی کا بھرپور خیال رکھیں گے۔ اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ رب قدیر ہم سب کو عید کے انوار وبرکات سے مالا مال کرے۔

Related Posts

Leave A Comment

Voting Poll

Get Newsletter